05:26 pm
لانس نائیک مولا داد۔۔ پاک فوج کے اس جوان کا قصہ جو ایک بہت ہی نیک مسلما ن فوجی تھا مگر ایک دن اس کا راز کھل گیا

لانس نائیک مولا داد۔۔ پاک فوج کے اس جوان کا قصہ جو ایک بہت ہی نیک مسلما ن فوجی تھا مگر ایک دن اس کا راز کھل گیا

05:26 pm

یہ جولائی 2003 کے اوائل کی بات ہے جب میری یونٹ راولپنڈی میں آرمی ہاوس پر گارڈ بٹالین کے فرائض سر انجام دے رہی تھی اور اس وقت جنرل پرویز مشرف پاکستان آرمی کے چیف تھے۔ یہ غالبا بدھ کی رات کا واقعہ ہے جب ہم سینئرز و جونیئرز اپنے میس میں چائے کی چسکی کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ چند لمحوں بعد سی او صاحب یعنی کمانڈنگ آفیسر کے آنے کی خبر ملی۔ جسے سنتے ہی ہم سب چونک کر رہ گئے کیونکہ ہمیں بھی ریڈ الرٹ کے سبب وردی پہن کر میٹنگ ہال میں پہنچنا تھا. خیر اپنے اپنے روم میں پہنچے اور تیار ہو کر میٹنگ روم میں جا پہنچے
جہاں پر سبھی افسران بمعہ کمانڈنگ آفیسر موجود تھے اور سب کی نظریں میز پر پڑی ان تصاویر و نقشے پر جمی ہوئی تھیں جو سی او صاحب کے میز پر موجود تھیں۔ ابتدائی گفتگو کے بعد سی او صاحب نے خاموشی کا یہ کہہ کر سکوت توڑا کہ ” لانس نائیک مولا داد کہاں ہے” ؟ یہ جملہ سنتے ہی ائڈجوٹینٹ نے بی ایچ ایم کو طلب کیا اور مذکورہ بالا لانس نائیک کی تفصیلات طلب کیں اور معلوم ہوا کہ وہ اس وقت کوارٹر گارڈ پر ڈیوٹی دے رہا ہے۔ سی او صاحب نے یہ خبر سنتے ہی ایک ٹھنڈی آہ بھری اور اس دن ہمارے خفیہ ایجننٹس کی طرف سے سیالکوٹ بارڈر پر کی جانے والی کارروائی کی روداد سناتے ہوئے ہمیں بتایا کہ سیالکوٹ کے اطراف میں موجود سرحدی دیہاتوں میں سے ایک کانپور پلوڑہ میں سے FIU (فیلڈ انٹیلی جینس یونٹ) کے فیلڈ آپریٹرز نے ایک چرواہے کو بارڈر کراس کرتے ہوئے گرفتار کر لیا ہے جو بھارتی جاسوس تھا اور اس کے پاس سے یہ تصاویر برآمد ہوئی ہیں جن میں آرمی ہاوس، کیمپ آفس، پارلیمنٹ اور جی ایچ کیو کی تصاویر ہیں جن کو ہماری خفیہ ایجنسیوں کے مایہ ناز مار خوروں نے سروے ٹری کی مدد سے ٹریس کیا ہے اور اس بھارتی اسپائی کو نا معلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے جہاں پر تفتیش کا عمل جاری ہے اور ابتدائی مرحلے میں ہی “بھارتی جاسوس” نے بہت سے لوگوں کے نام اگل دیئے ہیں جن میں سے ایک نام ہماری یونٹ کے لانس نائیک مولا داد کا بھی ہے۔ لانس نائیک مولا داد ہماری یونٹ کا سب سے اچھا اور منجھا ہوا جوان تھا جو ہر قسم کی سر گرمی میں اپنا ثانی نہیں رکھتا تھا اور فارغ اوقات میں مسجد کے کسی کونے میں قرآن مجید پکڑ کر ورق گردانی و مطالعہ کرتا رہتا تھا جس کے سبب کبھی کسی کو اس پر کسی قسم کا شک نہیں گزرا اور وہ آسانی سے اپنا کام کرتا رہا لیکن الحمد للہ پہلی ہی کوشش میں نا صرف وہ گرفتار ہوا بلکہ ان کے دیگر ساتھی و نیٹ ورک کو بھی آئی ایس آئی کے گمنام ہیروز نے دبوچ لیا۔ لانس نائیک مولا داد در حقیقت بھارتی فوج کا حاضر سروس کیپٹن تھا جس نے سندھ میں اپنے ذرائع کی مدد سے ضروری کوائف مکمل کروانے کے بعد فوج میں بطور سپاہی بھرتی کے لیے درخواست دے دی اور پھرتیلے و چھریرے جسم کے سبب جلد ہی سلیکٹرز کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا اور میری یونٹ میں بطور سپاہی شمولیت اختیار کی۔ خیر سی او صاحب کی زبانی ساری روداد سننے کے دوران ہی ائڈجوٹینٹ صاحب کی سرپرستی میں چند جوانوں اور ایم آئی کے خفیہ مار خوروں کے ساتھ مل کر اس بھارتی کیپٹن کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور انٹیلی جینس کے ٹارچر سیل میں خاطر تواضع کے لیے بھیج دیا گیا۔

تازہ ترین خبریں