11:59 am
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :آخری زمانے میں ایک قوم ہو گی جو سیاہ خضاب لگا ئیں گے اور وہ ۔۔۔!

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :آخری زمانے میں ایک قوم ہو گی جو سیاہ خضاب لگا ئیں گے اور وہ ۔۔۔!

11:59 am

جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :ترجمہ” فتح مکہ والے دن (ابو بکر رضی اللہ عنہ کے والد )ابو قحافہ کو لایا گیا۔ان کا سر اور داڑھی ثفامہ(سفید پھولوں والادرخت ہے)کی طرح سفید تھی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااس سفیدی کو بدلو اور سیاہی سے اجتناب کرو“۔مسند احمد 316/3‘ 322میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ترجمہ:”انہیں ان کی بعض عورتوں کی طرف لے جاؤ۔
وہ ان کی سفیدی کو بدلیں اور سیاہی سے بچاؤ“۔امام نووی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :ترجمہ:”اصح قول کے مطابق سیاہ خضاب حرام ہے ۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ سیاہ خضاب مکر وہ تنز یہی ہے ۔مختار قول حرمت کا ہے اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔سیاہ خضاب سے بچو“۔علامہ عبدالرحمن مبارکپوری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :ترجمہ:”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان”اجتنبواالسواد“ سیاہ خضاب کی حرمت پر واضح دلیل ہے “۔حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :ترجمہ:”سیاہ خضاب کے علاوہ خضاب لگانے کی اجازت ہے اس لیے کہ امام مسلم نے جابر رضی اللہ عنہ سے نکلا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اس کی سفیدی کو بدلو اور اسے سیاہی سے بچاؤ “۔امام نووی رحمتہ اللہ علیہ مزید اپنی کتاب ”المجموع شرح المہذب“323/1میں فرماتے ہیں کہ :ترجمہ:”سر اور داڑھی کے بالوں کو سیاہ خضاب لگانے کی مذمت پر محدثین کا اتفاق ہے “۔اس کے بعد فرماتے ہیں :ترجمہ:”صحیح بلکہ درست یہ ہے کہ سیاہ خضاب حرام ہے “۔علامہ سفارینی نے نقل کیا ہے کہ :ترجمہ:”سیاہ خضاب کی کراہت پر اتفاق ہے ۔اس پر نص شرعی موجود ہے “۔انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :ترجمہ:”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ؛سفید بالوں کو بدلو اور ان کو سیاہی کے قریب نہ کرو“۔ترجمہ:”انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا :ہم ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہودی آئے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی سفید داڑھیاں دیکھ کر فرمایا۔تمہیں کیا ہے تم انہیں رنگتے کیوں نہیں ۔کہا گیا کہ یہ ناپسند کرتے ہیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(اے مسلمانو )لیکن تم رنگ بدلو اور ہم سیاہی سے بچیں گے “۔علامہ ہیثمی فرماتے ہیں اس حدیث کی سند حسن ہے ۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بالوں کی سفیدی کو بدلنے سے کراہت کر یہودیوں کا کام تھا۔مسلمان سیاہ خضاب سے اجتناب کرتا اور دیگر خضاب پسند کرتا ہے ۔ترجمہ:”ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے کہا :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :آخر زمانے میں ایک قوم ہو گی جو کبو تر کے پوٹو ں کی طرح سیاہ خضاب لگا ئیں گے ۔وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائیں گے“۔یہ حدیث بھی سیاہ خضاب کی ممانعت پر صراحتاً دلالت کرتی ہے کیونکہ اس میں وعید شدید ہے۔ترجمہ:”ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :آخر زمانے میں ایسے لوگ ہوں گے جو اپنے بال سیاہ کریں گے ۔اللہ تعالیٰ ان کی طرف نظر (رحمت) نہیں کرے گا“۔ترجمہ:”ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جس نے سیاہ خضاب لگا یا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کا چہرہ سیاہ کرے گا“۔مذکورہ بالا چھ احادیث سے معلوم ہو ا کہ سیاہ خضاب کی شریعت میں بڑی مذمت آئی ہے اور اس پر شدید وعید فرمائی گئی ۔اس لیے یہ حرام ہے اور گناہ کبیر ہے علامہ ابنِ حجر مکی نے سیاہ خضاب کو اپنی کتاب الزواجرعن اقتراف الکبائر 261/1میں کبیر ہ گناہوں میں لکھا ہے ۔علاوہ ازیں داڑھی یا سر کے بالوں کوشادی بیاہ ‘یا کسی کاروباری سلسلے کے لیے سیاہ کرنا دھوکہ اور فراڈ ہے ۔اپنے بڑھاپے کو چھپا نا اور جوانی ظاہر کرنا ہے ۔اور دھوکہ دہی اور اصلیت چھپا نا بھی شرع محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں حرام ہے ۔سیاہ خضاب کے حق میں ایک روایت کا جائزہ جو لوگ سیاہ خضاب نکاح یا جہاں کے موقع پر لگانے کا جواز پیش کرتے ہیں وہ ابنِ ماجہ کی اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں ‘جو اس سند سے مروی ہے :ترجمہ:”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بہترین خضاب جو تم لگاتے ہو وہ سیاہ رنگ کا ہے جس سے تمہاری عورتین تمہار ی طرف زیادہ رغبت رکھیں گی اور تمہارے دشمن کے سینوں میں ہیبت ناک ہے “۔یہ روایت ضعیف ہے ۔اس کی چند وجوہات ہیں (!) دفاع بن دغفل سدوسی ضعیف راوی ہے ۔(2) عبدالحمید بن صیفی لین الحدیث ہے (2) عمر بن خطاب الراسی کے بارے تقریب (ص:10) میں لکھا ہے مقبول ہے اور ابنِ حجر تقریب کے مقدمہ میں لکھتے ہیں : ترجمہ:یعنی چھٹی قسم وہ ہے کہ جس راوی کی روایتیں بالکل تھوڑی ہوں لیکن اس کے بارے میں جرح قادح ثابت نہ ہو متابعت کی صورت میں اس کی روایت قبول ورنہ لین الحدیث یعنی کمزور راوی ہے۔چونکہ اس کی متابعت نہیں اس لیے یہ روایت ضعیف ہے ۔(4) عبدالحمید کے والد صیفی بن حبیب کو بھی تقریب میں مقبول کہا گیا ہے ۔اس کی متابعت بھی نہیں ملی ۔(5) اس میں انقطاع بھی ہے امام ذہبی میزان 14/2میں راقم ہیں:ترجمہ:اس سند کے بارے میں امام بخاری فرماتے ہیں بعض راویوں کا بعض سے سماع معروف نہیں لہٰذا یہ روایت کسی طرح بھی حجت نہیں ہو سکتی ۔ ( آپ کے مسائل اور اُن کا حل کتاب نمبر 2) (مُبشّر احمد رَبّاَنی)

تازہ ترین خبریں