12:07 pm
اسلام آباد پولیس کا ایک اور گھنائونا روپ سامنے آگیا

اسلام آباد پولیس کا ایک اور گھنائونا روپ سامنے آگیا

12:07 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) رات تین بجے کا وقت تھا بڑی ہی پرلطف ہوا چل رہی تھی ۔ اسلام آباد کے سیکٹر آئی نائن فور کے چائے کےاس مشہور ہوٹل کا عملہ کرسیاں اور میزسمیٹنے پر مامور تھا۔ماسوائے ان چند ٹیبلز کے جن پر ہم اور چند اور ٹولے قابض تھے۔ ہم معمول کے مطابق دفتری اوقات کے بعد گھنٹوںْخوش گپیاں لگانے اور چائے کے کئی دور چلانے کے بعد اٹھ کر اپنی موٹر سائیکلوں کی جانب بڑھ ہی رہے تھے
کہ دو خواجہ سرا اپنے مخصوص انداز میں لہراتے اٹھلاتے ہوئے ہوٹل پر موجود ان گاہکوں کے پاس جاکر خیرات مانگ رہے تھے۔ ہم نے بھی چارو نہ چار اور ان کی اٹکھیلیوں سے تنگ آکر ان کی مددکی۔ اچانک پولیس کی ایمرجنسی ریسپانس وین ہوٹل کے سامنے سڑک پر آرکی۔ دونوں خواجہ سرا خیرات مانگنے کےلئے اس وین کے پاس جا کھڑےہوئے اور اگلی نشست پر براجمان باوردی پولیس اہلکار سے باتیں کرنے لگے۔ہم اس وقت اپنی موٹر سائیکل کو ان لاک کررہے تھے اور ہماری نظریں ان خواجہ سرائوں اور پولیس وین پر مرکوز ہوگئیں۔ تھوڑی ہی دیر میں پولیس وین سست رفتاری کے ساتھ آگے چل دی اور ہوٹل کی عقبی جانب جانے والی سڑک کی طرف مڑ گئی۔خواجہ سرا واپس آکر ہمارے بالکل قریب سے گزرے وہ کچھ پریشان دکھائی دے رہے تھے ۔ان میں سے ایک نے گالی دیتے ہوئے کہا " وہ کہہ رہا تھا پیچھے جو سڑک ہے ،ادھر تک چل کر آئو اور ادھر گاڑی میں بیٹھ جانا" ۔ وہ ہم سے کچھ دورکھڑے ہوکر آپس میں باتیں کرنے لگ گئے۔ ہم ان کی طرف دیکھے بغیر ان کی باتیں سننے لگ گئے۔ دوسر ے خواجہ سرا نے جواب دیا" ہم نہیں جاتے۔ کیا کر لیں گے وہ (گالی)" اس پر پہلا خواجہ سرا جھٹ سے بولا " تم نے سنا نہیں۔ وہ کیا کہہ رہا تھا؟ کہہ رہا تھا کہ تم لوگوں پر کیس بنانا کوئی زیادہ مشکل نہیں ہے۔ کھڑے کھڑے منشیات بیچنے، چوری کرنے، فحاشی پھیلانے کے کیس میں اندر ہو جائو گے۔ خواہ مخواہ پرچہ ہوجائے گا ۔ایسا کرتے ہیں۔چلے جاتے ہیں۔ جو ہوگا دیکھاجائےگا ۔ہمارے ساتھ کچھ غلط ہو بھی گیا تو اللہ انصاف کرے گا" ۔ اس کے بعد وہ مزید کوئی بات کیے بغیر مخالف سمت سے ہوٹل کی عقبی جانب جانے والی سڑک کی طرف چل دیے ۔ ہم نے ذرا فاصلے سے دیکھا تو دور وہی پولیس وین سڑک پر کھڑی تھی اور دونوں خواجہ سرا اس وین کی جانب چلتے جارہے تھے۔ پڑھا، سنا بہت کچھ تھا ۔آج دیکھ بھی لیا تھا۔ مارے حیرت اور وحشت کے میرا سرچکرانے لگ گیا۔ دوست کو وہیں نزدیک واقع اس کے فلیٹ کے باہر اتار ا اور واپس اپنی منزل غوری ٹائو ن کی جانب رواں دواں ہوگیا۔ راستے پر سوچ ہی سوچ میں غرق ہو کر میں نے کئی تجزیے کر ڈالے۔ پہلی سوچ یہ آئی کہ یہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ہے۔ شہر اقتدار ہے۔ ملک کا مرکز ہے۔ جہاں اعلیٰ ترین حکومتی ایوان، عدالتیں ، غیر ملکی سفارتخانے ، ریڈ زون ، اور پتہ نہیں کیا کچھ ہے۔ اور یہاں عام شہریوں کی جان و مال اور عزت کو خطرہ کسی چور، ڈاکو،دہشتگرد سے نہیں بلکہ خود قانون کے رکھوالوں سے ہے۔ سندھ کے صحرائوں میں، بلوچستان کے چٹیل اور سنگلاخ راستوںمیں، خیبرپختونخوا کی پرپیچ ، خطرناک اور دشوار گزار وادیوں میں کیا کیا کچھ ہوتا ہوگا۔ پنجاب کےدور افتادہ دیہی علاقوں میں پولیس کیا کچھ کرتی ہوگی۔دوسری سوچ یہ آئی کہ ان بدبختوں نے پولیس وردی پہن کر قانون کے نام پر اختیارات کی جو پوٹلی اٹھا رکھی ہے وہ اپنے آپ میں کس قدر خوفناک اور ہولناک ایٹم بم ہے ۔ ایک عام معصوم شہری تو اس کے تصور کا بوجھ بھی اپنے ذہن پر نہیں اٹھا سکتا۔یہ بھی خیال آیا کہ انسان تو سب کچھ کر لینے کا اختیار ہونے کے باوجودرب تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے بہت کچھ نہیں بھی کرتا اور خود کو باز رکھتا ہے۔ کیا قانون کا دیا ہوا اختیار اتنا طاقتور اور بے لگام ہے کہ وہ انسان کو قبر اور محشر کو بھی بھول جانے پر آمادہ کرلے۔اور انسان گھنائونے پن او ر سفاکی میں حیوانوں کو بھی پیچھے چھوڑ دے۔پھر سوچ نے رخ بدلا اور سب سے پہلا خیال عمران خان کی تبدیلی کاآیا۔ نظام کے بدلنے کے دعووںکا آیا۔ قانون پر لوگوں کے اعتماد کا آیا۔ قانون کے رکھوالو ں کے کردار کا آیا۔ عام آدمی کو انصاف فراہمی کا آیا۔جیسے جیسے سوچ آگے بڑھتی گئی میں مایوسی کے گہرے گڑھے میں دھنستا ہی چلا گیا۔ اور آخر کار یہی نتیجہ نکالا کہ اس نظام میں اتنے سوراخ ہیں۔ اس نظام کو حکمرانوں کے چہرے بدل دینے سے، وزیروں کی شکلیں بدل دینے سے،عدالتوں کے جج بدل دینے سے ، سرکاری اداروں کے افسران بدل دینے سے کوئی بھی فرق نہیں پڑنے والا۔ اس دکھاوے کی جمہوریت میں آئندہ کئی سو سال تک بھی ہمارے معاشرے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی جبتک شخصی رویے اور انصاف کا نظام نہیں بدل دیا جاتا۔قانون کتابوں سے باہر نکل کر اپنے عمل کے طور پر دکھائی نہیں دینا شروع کر دیتا۔

تازہ ترین خبریں