10:44 pm
’’وہ دو گئے تھے اور چھ لوٹے‘‘ایک جوڑا جس نے 22 سال تک دنیا کی سیر کا خواب پورا کیا

’’وہ دو گئے تھے اور چھ لوٹے‘‘ایک جوڑا جس نے 22 سال تک دنیا کی سیر کا خواب پورا کیا

10:44 pm

وہ دو گئے تھے مگر چھ واپس لوٹے، پانچ براعظموں کے 102 ممالک کا دورہ کرنے کے بعد انھوں نے بتایا کہ سب سے خوبصورت چیز جو انھیں ملی وہ لوگ تھے۔ اور یہ سب جو خواب جیسا اور ناممکن لگتا ہے، نہ صرف ہو سکتا ہے بلکہ ضروری ہے۔ہرمن اور کینڈیلیریا زپ
کا ایک دیرینہ خواب تھا جسے انھوں نے برسوں ملتوی کیے رکھا۔ کچھ نوجوان بیگ پیکنگ کرتے ہیں جبکہ ایک شادی شدہ جوڑے کے لیے جو 30 کے پیٹے میں ہو، مستحکم ملازمتیں اور گھر بنانا ضروری تھا۔ہرمن نےبرطانوی خبررساں ادارے کو بتایا کہ 'میں کینڈ کو اس وقت سے جانتا ہوں جب وہ آٹھ سال کی تھی اور جب وہ 14 سال کی ہوئی تو ہم دوست بن گئے، ہم نے اکھٹے سفر کرنے کا خواب دیکھا۔ ہم نے سوچا کہ شادی کے دو سال بعد ہم وہاں سے چلے جائیں گے، لیکن آپ جانتے ہیں کہ زندگی کیسی ہوتی ہے! مختلف بہانے۔۔ خوف۔۔۔ سب کچھ ملتوی ہو رہا تھا۔شادی کے چھ سال بعد ان کے منصوبوں میں بچے تھے، اگرچہ وہ بچے چاہتے تھے۔ لیکن اس خیال نے خطرے کی گھنٹی بجائی اور انھوں نے سوچا ’اگر بچے ہو گئے تو ہم کبھی سفر نہیں کر پائیں گے کیونکہ ہمیں لگتا تھا بچوں کے ساتھ آپ نہیں کر سکتے۔‘ابتدائی طور پر یہ دنیا کے دوسری طرف کا سفر تھا، جس میں جنوبی ارجنٹائن جانے کے لیے شمالی الاسکا پہنچنا تھا۔اگرچہ بالکل کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی، لیکن انھوں نے حساب لگایا کہ اس میں انھیں چھ ماہ لگیں گے جس کے دوران، نقل و حمل کے مختلف ذرائع استعمال کرتے ہوئے، وہ امریکہ کا ایک سرے سے آخر تک سفر کریں گے۔’سنہ 2000 میں اپنے خواب کو پورا کرنے کے بارے میں بات کرنا 2020 جیسا نہیں تھا، خواب دیکھنے کی چیز تھے۔ کوئی بھی سوشل نیٹ ورک نہیں تھا جو آپ کو دوسرے مسافروں یا دوسرے ممالک کے لوگوں کے بارے میں معلومات دیتا لہٰذا ہمارے اردگرد کے لوگوں کو لگا کہ ہم جو منصوبہ بنا رہے ہیں، یہ بہت پاگل پن تھا۔ ‘ہرمن کا کہنا ہے کہ ’ایک وقت ایسا آیا جب انھوں نے گھر والوں کو تفصیلات بتانا بند کر دیا کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ بغیر کسی تجربے یا کافی رقم کے اس مہم جوئی کا آغاز کرنے والے تھے‘ انھوں نے بظاہر ایک مضحکہ خیز فیصلہ کیا تھا۔‘اس سفر میں یہ ان کی ایک اور ساتھی تھی جو جانے سے تین ماہ قبل ان کے ساتھ شامل ہوئی : 1928 کی گراہم-پیج ڈیٹرائٹ سے بنی کلاسک کار جس سے ہرمن کو پیار ہو گیا تھا۔انھوں نے اس کار کا نام ماکونڈو کمبلاچ رکھا۔وہ اسے ٹو ٹرک میں گھر لے آئے اور کینڈیلیریا کو بتایا ’منصوبہ بدل گیا ہے اور اب ہم کار سے جا رہے ہیں۔‘اس کار میں انھوں نے آرام دہ رفتار سے تین لاکھ باسٹھ ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا، ’یہ کار ان لوگوں کے لیے بھی مسکراہٹیں لائی جنھوں نے اسے اپنے علاقے سے گزرتے دیکھا۔‘اس کا سفر کرنے کا انداز ہمیشہ ’جا کر دیکھتے ہیں‘ تھا، جس کے زیادہ تر وقت بہترین نتائج ملتے تھے۔لیکن جب پہلی بار ان کے پاس پیسے ختم ہوئے، ’یہ ایک المناک... مایوس کن لمحہ تھا‘ہرمن یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’ہم ایکواڈور میں تھے، جہاں معاشی صورتحال بہت خراب تھی۔ وہ سوکر سے ڈالر کی طرف چلے گئے تھے۔ اچھی تنخواہ زیادہ سے زیادہ 60 امریکی ڈالر تھی جس کا مطلب تھا ہم سفر جاری رکھنے کے لیے کبھی بھی بچت نہیں کر پائیں گے۔‘کینڈیلیریا نے پینٹ کرنا شروع کیا اور پرندوں کی کچھ بہت اچھی تصویریں بنائیں، ہرمن نے انھیں فریم کرکے بیچ دیا۔’ہم نے ایکواڈور میں بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس سے ہمیں طاقت ملی۔’کولمبیا میں ایک شخص جس کے پاس پرنٹنگ پریس تھا، نے ہم سے سوال پوچھا کہ ہم اپنا خرچہ کس طرح پورا کرتے ہیں؟ ہم نے اسے بتایا کہ پینٹنگز کے ساتھ، لیکن ہمیں اس سے چھوٹی چیز کی ضرورت ہے۔‘’اس نے ہمارے سفر کی کچھ تصاویر لیں اور ہمارے لیے 500 پوسٹ کارڈ اور کچھ نوٹ بک لائے جن کے سرورق ہمارے وہی فوٹو تھے۔’خیال یہ تھا کہ لوگ ان پر اپنے خواب لکھیں، لیکن انھوں نے ہمیں بتایا کہ وہ ہمارے سفر کے بارے میں پڑھنا چاہتے ہیں، اس لیے ہم نے انھیں لکھنا شروع کر دیا۔‘انھوں نے جلد ہی پہلی کتاب شائع کی جو انھیں سالوں کے دوران سفر کے لیے مالی مدد فراہم کرنے والی تھیں۔لیکن وہ یہ بھی سیکھ رہے تھے کہ بے پناہ دولت کا ایک اور ذریعہ بھی تھا: لوگوں کا جذبۂ خیر سگالی۔جب کولمبیا سے پاناما جانے کے لیے انھیں ماکونڈو کمبلاچ (کار کا نام) کو براستہ سمندر ٹرانسپورٹ کرنے کی ضرورت پیش آئی، وہاں انھیں ایک نہیں بلکہ تین شپنگ کمپنیاں ملیں جو انھیں مفت میں لے جانا چاہتی تھیں ’میں نے ایک کو چنا اور دوسری کے مالک نے جسے میں نے منتخب نہیں کیا تھا مجھے کہا، 'کم از کم مجھے آپ کے ہوائی جہاز کے سفر کے لیے ادائیگی کرنے دیں۔‘’پہلے تو یہ کچھ مشکل تھا، لیکن جلد ہی ہم نے محسوس کیا کہ سفر کے بارے میں سب سے اچھی چیز وہ ہے جو آپ بغیر پیسوں کے کرتے ہیں۔‘تقریباً دو سال کے سفر کے بعد، انھوں نے محسوس کیا کہ ’کسی چیز کی کمی ہے۔‘’اس کے علاوہ کینڈیلیریا کی بہن بچے پیدا کرنے کے قابل نہیں تھی اور ہر ممکن علاج سے گزر رہی تھی، لہٰذا ہم نے سوچا کہ اگر ہمارے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہے، تو یہ سال گزرنے سے پہلے شروع کرنا بہتر تھا۔‘’اور، ٹھیک مشہور 11 ستمبر (2001) کے دن ہم نے ایک دوسرے کو زیادہ بھینچ کر گلے لگایا۔بیلیز میں تصدیق ہوئی کہ وہ حاملہ تھیں لیکن وہ گھبرا گئے۔’ہاں میں گھبرا گیا کیونکہ باپ بننے کے بارے میں سوچنا اور بات ہے اور حقیقت میں یہ جاننا کہ ’آپ باپ بننے والے ہیں‘ مختلف احساس ہے۔ ہمارے پاس پیسہ کمانے یا بچانے کے بہت زیادہ امکانات نہیں تھے۔۔ ہم بہت زیادہ تیار نہیں تھے۔‘حالات کو سنبھالنے کے لیے انھوں نے سفر پر تاریخیں ڈال دیں۔’بیلیز میں 15 دن، میکسیکو میں دو مہینے، امریکہ میں تین، کینیڈا میں دو اور اس لیے ہم صرف الاسکا میں بچے کی پیدائش کے لیے پہنچے۔‘لیکن ایک امیش مینونائٹ کمیونٹی نے انھیں اپنے ساتھ دو ہفتے گزارنے کی دعوت دی اور میں نے اس سے کہا: ’کینڈ، ہمیں مینونائٹس کے ساتھ رہنے کا موقع پھر کب ملے گا‘ اور جب وہ کینکون میں تھے، تو انھیں کیوبا مدعو کیا گیا اور میں کہتا : ’کینڈی، ہمیں کیوبا میں 15 دن رہنے کا موقع کب ملے گا؟‘بالآخر، پمپا 2002 میں گرینسبورو، شمالی کیرولینا میں پیدا ہوئے، جہاں انھیں گراہم-پیج ونٹیج کار میٹ اپ میں مدعو کیا گیا تھا۔ہرمن یاد کرتے ہیں کہ ’ہم نے حکومت سے مدد مانگی، کیونکہ میں امریکہ میں پیدا ہوا تھا، لیکن انھوں نے مجھے انکار کر دیا کیونکہ میں وہاں کا رہائشی نہیں تھا۔‘’ہم ہسپتال گئے، اور انھوں نے ہمیں بتایا کہ یہ ایک پرائیویٹ کمپنی کی ملکیت ہے، اس لیے انھوں نے زیادہ فیس لی۔ 12,000 امریکی ڈالر۔ تو وہ ہم لوگوں سے مدد مانگنے کے لیے اخبار کے پاس گئے۔‘’انھوں نے ہمارے سفر، ہمارے خواب، ہماری منزل، بلکہ ہماری صورتحال کے بارے میں بہت اچھی تحریر لکھی اور اس میں کہا گیا کہ اگر لوگ ہماری مدد کرنا چاہتے ہیں، تو وہ اس خاندان کے فون نمبر پر کال کر سکتے ہیں جس نے ہمارا استقبال کیا تھا۔’چار دن تک فون بجنا بند نہیں ہوا۔‘ایک دادی ایک سویٹر بھیجنا چاہتی تھی جو وہ اپنے پوتے کے لیے بنا رہی تھی، ڈاکٹروں اور نرسوں نے پیشکش کی تھی کہ اگر وہ ڈیلیوری کے وقت ڈیوٹی پر ہوئے تو چارج نہیں کریں گے۔مختلف گرجا گھروں نے فنڈ ریزنگ کی تقریبات کا اہتمام کیا، جبکہ ان کے لیے سبزیاں اور پھل لائے گئے اور ان سے کتابیں اور پینٹنگز خریدی گئیں۔’آخر میں ہم نے صرف ہسپتال کے ہوٹل کے لیے ادائیگی کی۔ یہ واقعی اچھا تھا کہ ہمارے پاس پیسے نہیں تھے کیونکہ اب ہمارا ایک خاندان شمالی کیرولینا میں ہے۔‘اور الاسکا؟’ہم چھ ماہ میں الاسکا نہیں پہنچ سکے، ہم وہاں تین سال اور نو ماہ میں پہنچے۔ تھوڑا سا حساب غلط تھا۔‘لیکن اس خواب تک پہنچنے سے پہلے ہی کچھ عجیب ہوا۔’جب الاسکا جانے کے لیے 30 کلومیٹر باقی تھے تب کینڈ نے مجھے کہا: میں وہاں پہنچنا نہیں چاہتی‘’آپ الاسکا کیوں نہیں جانا چاہتیں؟‘’بات یہ ہے کہ اگر ہم وہاں پہنچ جاتے ہیں تو خواب ختم ہو جاتا ہے، اور خواب کی خوبصورتی اسے پورا کرنا نہیں ہے، اسے جینا ہے، اس میں رہنا ہے۔‘’پھر ہمیں یہ دیکھنے کے لیے رکنا پڑا کہ یہاں کون سی چیز ہمیں خوشی دے سکتی ہے۔‘’اور ہمیں پتا چلا کہ الاسکا ایک خواب کا اختتام نہیں بلکہ دوسرے کا آغاز بھی ہے۔۔۔‘اس لیے سفر جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا …

تازہ ترین خبریں

سینٹرل سلیکشن بورڈ کا اجلاس 10اگست کوکتنے افسران کو ترقی دی جائیگی،بڑی خبرآگئی

سینٹرل سلیکشن بورڈ کا اجلاس 10اگست کوکتنے افسران کو ترقی دی جائیگی،بڑی خبرآگئی

عوام ہوجائیں تیار۔۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بری خبرسنادی

عوام ہوجائیں تیار۔۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بری خبرسنادی

پاور سیکٹر میں پی ٹی آئی حکومت کا اربوں روپے کا گھپلا بے نقاب

پاور سیکٹر میں پی ٹی آئی حکومت کا اربوں روپے کا گھپلا بے نقاب

لیگی رہنما نذیر چوہان کی ضمانت منظور، پی ٹی آئی رکن اسمبلی نے گلے لگالیا

لیگی رہنما نذیر چوہان کی ضمانت منظور، پی ٹی آئی رکن اسمبلی نے گلے لگالیا

پاکستان کے سب سے بڑے شہرمیں اہم ترین حکومتی شخصیت کوڈاکوئوں نے لوٹ لیا

پاکستان کے سب سے بڑے شہرمیں اہم ترین حکومتی شخصیت کوڈاکوئوں نے لوٹ لیا

پنجاب حکومت کے حلف لینے والے 21 وزرا کو قلم دان تفویض

پنجاب حکومت کے حلف لینے والے 21 وزرا کو قلم دان تفویض

دانیہ کو کچھ ہوا تو ذمہ دار کون ہوگا،دانیہ شاہ کی والدہ نے بڑااعلان کردیا

دانیہ کو کچھ ہوا تو ذمہ دار کون ہوگا،دانیہ شاہ کی والدہ نے بڑااعلان کردیا

سعودی عرب ترقی کی راہ پر گامزن، بڑی خبر آگئی

سعودی عرب ترقی کی راہ پر گامزن، بڑی خبر آگئی

پی ٹی آئی پر پابندی؟ قانونی ٹیم کا حکومت کو محتاط رہنے کا مشورہ

پی ٹی آئی پر پابندی؟ قانونی ٹیم کا حکومت کو محتاط رہنے کا مشورہ

پاکستان کے سب سے بڑے شہرمیں اہم ترین حکومتی شخصیت کوڈاکوئوں نے لوٹ لیا

پاکستان کے سب سے بڑے شہرمیں اہم ترین حکومتی شخصیت کوڈاکوئوں نے لوٹ لیا

10 سال سے پنسل پر دھاگوں سے قرآن بُن رہا ہوں۔۔پولیس والے نے قرآن مجید سے محبت کی انوکھی مثال قائم کردی

10 سال سے پنسل پر دھاگوں سے قرآن بُن رہا ہوں۔۔پولیس والے نے قرآن مجید سے محبت کی انوکھی مثال قائم کردی

وفاق نے وزیراعلیٰ پرویز الہٰی کو خط لکھ دیا

وفاق نے وزیراعلیٰ پرویز الہٰی کو خط لکھ دیا

ایف آئی اے نے اہم شخصیت کو گرفتار کرلیا

ایف آئی اے نے اہم شخصیت کو گرفتار کرلیا

سی اے اے کے ساتھ تنازع، پی ایس او کا تمام ہوائی اڈوں پر ایندھن کی سہولت روکنے کا امکان

سی اے اے کے ساتھ تنازع، پی ایس او کا تمام ہوائی اڈوں پر ایندھن کی سہولت روکنے کا امکان