06:58 am
امریکی صدر نے ایک بار پھر پاکستان کی تعریفوں کے پُل باندھ دیئے

امریکی صدر نے ایک بار پھر پاکستان کی تعریفوں کے پُل باندھ دیئے

06:58 am

نئی دہلی (نیوز ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر پر ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دیرینہ تنازع ہے، دونوں ممالک اس کو اب تک حل نہیں کر سکے اسلئے میں ثالثی کیلئے تیار ہوں، وزیر اعظم عمران خان سے اچھے تعلقات ہیں، پاکستان نے دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے بہت کام کیا ہے، ہم افغانستان میں امن کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ منگل کو نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے
امریکی صدر نے بھارتی سرزمین پر ایک بار پھر مسئلہ کشمیر پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیش کش کر تے ہوئےکہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر پر کام کر رہا ہے، کشمیر بہت سارے لوگوں کیلئے طویل عرصے سے بہت بڑا مسئلہ چلا آ رہا ہے، یہ بہت پرانا مسئلہ ہے جسے اب تک حل ہونا چاہیے تھا، دونوں ممالک اب تک اسے حل نہیں کر سکے اسلئے میں نے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔اس موقع پر بھارتی صحافی نے امریکی صدر کو پاکستان مخالف گفتگو پر اکسایا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی تعریف کر دی اور کہا کہ عمران خان سے میرے بہت اچھے تعلقات ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان بہت اچھے انسان ہیں۔انہوں نے کہا کہ نریندر مودی سے بات ہوئی ہے، میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کیلئے تیار ہوں اور مسئلے کے حل کیلئے ثالثی یا مدد جو ہو سکا کروں گا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مودی سے پاکستان سے متعلق بھی بہت گفتگو ہوئی۔ بھارتی صحافی نے ٹرمپ کو پاکستان کے خلاف اکسانے کی کوشش کی تو انہوں نے پاکستان کی تعریف کر کے اسے لاجواب کر دیا اور کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اچھے انسان ہیں اور میرے ان کے ساتھ خصوصی تعلقات ہیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ مودی سے بھارت میں مذہبی آزادی سے متعلق بات ہوئی اور بھارت میں اقلیتوں کے مسائل سے متعلق بھی تبادلہ خیال ہوا، امید ہے کہ شہریت قانون سے متعلق بھارتی حکومت درست فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں سفری پابندیاں مسلمانوں کیلئے نہیں تھیں بلکہ امریکہ مخالف افراد کیلئے تھیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے موثر اقدامات کر کے عراق اور شام میں داعش کا خاتمہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کے قریب پہنچ چکے ہیں۔