10:03 am
سعودی شاہ کو اپنے ہی بھتیجے نے قتل کردیاتھا۔۔ملزم شہزادے کا سر بھی چند گھنٹے میںقلم کردیاگیا۔۔افسوسناک خبر

سعودی شاہ کو اپنے ہی بھتیجے نے قتل کردیاتھا۔۔ملزم شہزادے کا سر بھی چند گھنٹے میںقلم کردیاگیا۔۔افسوسناک خبر

10:03 am

ریاض(نیوز ڈیسک)اُس برس 12 ربیع الاول کو پیغمبرِ اسلام کی پیدائش کے دن سعودی عرب کے شاہ فیصل لوگوں سے مل رہے تھے اور انتظار گاہ میں کویتی وفد بھی ان سے ملنے کا منتظر تھا۔شاہ فیصل کے بھتیجے فیصل بن مساعد اس کویتی وفد سے بات چیت میں مصروف تھے۔ جب وفد کی ملاقات کا وقت آیا تو شاہ فیصل اپنے بھتیجے فیصل بن مساعد کو بوسہ دینے کے لیے آگے بڑھے۔ اُسی وقت بھتیجے نے اچانک اپنے حبے سے ریوالور نکالا اور شاہ فیصل کو دو
گولیاں مار دیں۔ قاتل نے پہلی گولی ان کی تھوڑی اور دوسری کان پر ماری۔ کہا جاتا ہے کہ ایک تیسری گولی بھی چلی تھی جو انھیں نہیں لگی۔ شاہ کے ایک محافظ نے فیصل بن مساعد پر تلوار کا وار کیا، جو کہ ابھی میان میں ہی تھی۔ وہاں پر موجود ملک کے وزیر پیٹرولیم نے گارڈ سے چلا کر کہا کہ شہزادے کو ہلاک نہ کرنا۔ فیصل بن مساعد اس دوران اطمینان سے وہیں کھڑے رہے اور گارڈز نے انھیں گرفتار کر لیا۔ شاہ فیصل کو ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لا سکے اور ہلاک ہو گئے۔ سعودی عرب میں دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک صحافت کرنے والے تجزیہ کار راشد حسین کی ایک ایسے شخص سے اچھی خاصی واقفیت تھی جو اُس وقت شاہ فیصل کے بہت قریب کھڑے تھے جب یہ واقعہ پیش آیا۔ وہ شخص تھے اُس وقت کے تیل کے وزیر احمد زکی یمانی جو اوپیک کے وفد کو جس میں کویت کے وزیر بھی شامل تھے، شاہ فیصل سے ملوا رہے تھے۔ راشد حسین کہتے ہیں کہ ’ممکن ہے کہ جو سکیورٹی سکریننگ ہوتی تھی وہ نہیں ہو سکی ہو۔ جب گولی چلی تو لوگوں نے سمجھا کہ یہ احمد زکی یمانی کو بھی لگی ہے۔ کیونکہ انھوں نے ہی پہلے فیصل بن مساعد کو جا کر پکڑا تھا۔‘ شاہ فیصل بن عبدالعزیز بن عبدالرحمٰن السعود کے قاتل فیصل بن مساعد کا سر اسی سال 18 جون کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے سب سے بڑے چوراہے پر سرِعام قلم کر دیا گیا تھا۔ فیصل بن مساعد کون تھے؟ فیصل بن مساعد شاہ فیصل کے سوتیلے بھائی مساعد بن عبدالعزیز کے بیٹے تھے۔ فیصل بن مساعد چار اپریل 1944 کو پیدا ہوئے اور شاہ فیصل کے قتل میں انھیں 18 جون 1975 کو سزائے موت سنائی گئی اور کچھ ہی گھنٹوں کے بعد ریاض کے مرکزی سکوائر میں اُن کا بھرے مجمعے کے سامنے سر قلم کر دیا گیا۔ فیصل مساعد کی زندگی کے بارے میں بہت زیادہ نہیں لکھا گیا۔ فیصل بن مساعد تعلیم حاصل کرنے امریکہ گئے جہاں انھوں نے سان فرانسسکو سٹیٹ کالج میں داخلہ لیا۔ وہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا اور یونیورسٹی آف کولیراڈو میں بھی زیرتعلیم رہے۔ شاہ فیصل کے قتل کے بعد ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ وہ ’دماغی طور پر عدم توازن‘ کا شکار ہیں۔ قتل کے بعد شاہی کابینہ کی جانب سے ایک بیان میں انھیں باقاعدہ طور پر ’پاگل‘ قرار دے دیا گیا۔ لیکن ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد سرٹیفیکیٹ دیا کہ فیصل بن مساعد دماغی طور پر بالکل ٹھیک ہیں۔ اُن کے ساتھ منشیات کے واقعات بھی جوڑے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ جب وہ سعودی عرب واپس آئے تو ان کا پاسپورٹ ضبط کر لیا گیا تھا کیونکہ وہ بیرون ممالک سعودی عرب کے لیے بے عزتی کا باعث بن رہے تھے۔ سعودی عرب میں اکثر تحقیقات کو منظرِ عام پر نہیں لایا جاتا اور بات جب شاہی خاندان کی ہو تو معاملہ اور بھی حساس ہو جاتا ہے۔ قتل کے وقت کئی افواہوں اور قیاس آرائیوں نے جنم لیا لیکن تحقیقات کے بعد یہ کہا گیا کہ قاتل اکیلا تھا اور اس کے ساتھ اس عمل میں کوئی اور شریک نہیں تھا۔ تجزیہ کار راشد حسین کہتے ہیں کہ 25 مارچ 1975 کو کیا ہوا اسے مکمل سیاق و سباق کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ فیصل بن مساعد کے بھائی کی ہلاکت ابتدائئ طور پر تو یہی قیاس آرائیاں ہوئیں کہ شہزادے نے اپنے بھائی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لیے شاہ فیصل پر گولی چلائی۔ جب شاہ فیصل نے ملک میں ٹیلی ویژن کی نشریات شروع کروائیں تو ان کے سوتیلے بھائی اور فیصل بن مساعد کے والد مساعد بن عبدالعزیز دوسرے مذہبی رہنماؤں کے ہمراہ شاہ کے فیصلے کے خلاف کھل کر بولنے لگے اور احتجاجی مظاہرے بھی کیے۔ اسی طرح کے ایک مظاہرے میں جب مظاہرین ٹی وی سٹیشن پر حملہ کرنے لگے تو پولیس اہلکاروں نے گولی چلا دی جس میں مساعد بن عبدالعزیز کے بڑے بیٹے خالد مساعد ہلاک ہو گئے۔ راشد حسین کہتے ہیں کہ ’سعودی عرب میں حکمرانوں نے مذہبی علما پر بہت زبردست کنٹرول کیا ہوا تھا اور وہ آج تک ہے۔ جب ان کو کوئی تحریک پھیلانی ہوتی ہے وہ مولویوں سے زبردستی کہلوا دیتے ہیں۔ غالباً سنہ 65 یا 66 کی بات ہے جب وہاں ریڈیو اور ٹیلیویژن کی ابتدا کرنے کی کوششیں ہو رہی تھیں تو علما نے وہاں کوشش کی کہ اُن کی مرضی کے بغیر کچھ نہ ہو اور ہر چیز ان کے کنٹرول میں رہے کیونکہ یہ غیر اسلامی ہے وغیرہ وغیرہ۔‘ ’شاہ فیصل اپنے دور کے حوالے سے ذرا ترقی پسند تھے۔ انھوں نے خواتین کی تعلیم کا سلسلہ بھی شروع کروایا اور اسی طرح انھوں نے وہاں ریڈیو اور ٹیلی ویژن بھی شروع کروایا۔ اور جب یہ ہوا تو ریاض میں ایک مظاہرہ ہوا اور فیصل بن مساعد کے والد (مساعد بن عبدالعزیز) اس کی سربراہی کر رہے تھے اور وہ شاہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔‘ ’اس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر وہ کامیاب ہو جاتے تو وہ شاہ فیصل کی حکومت کا تختہ الٹ سکتے تھے۔ اسی طرح کے ایک مظاہرے میں مظاہرین نے ریاض میں ٹی وی سینٹر میں گھسنے کی کوشش کی اور اس میں فیصل بن مساعد کے بڑے بھائی پولیس والوں کی گولی لگنے سے ہلاک ہو گئے۔‘ تاہم اس کے بعد بھی شاہ فیصل نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا کہ ٹی وی نشریات مکمل طور پر بند کر دی جائیں۔ شاہ فیصل کی حکمرانی اور خاندانی اختلافات راشد حسین کہتے ہیں کہ شاہی خاندان میں ہمیشہ ایک دوسرے کے خلاف رقابتیں اور اختلافات پائے جاتے ہیں اور شاہ فیصل کے خلاف رقابت کی ایک بڑی وجہ تو یہ بھی تھی کہ شاہ فیصل بذاتِ خود شاہ سعود کو ہٹا کر بادشاہ بنے تھے۔ ’فیصل سے پہلے شاہ سعود جو شاہ عبدالعزیز کے سب سے بڑے بیٹے تھے اور ولی عہد تھے وہ بادشاہ بنے تھے۔ لیکن فیصل ایک طرح سے انقلاب لائے کہ شاہ سعود سے ملک نہیں چل رہا ہے اور انھیں تخت چھوڑنے پر مجبور کیا۔ سو لامحالہ شاہی خاندان کے اندر اختلافات تو موجود ہی تھے۔ مساعد صاحب نے ان اختلافات کو بھی استعمال کرنے کی کوشش کی اور انھیں استعمال کر کے شاہ فیصل کے خلاف ایک تحریک پیدا کرنے کی کوشش کی، جس سے شاہ فیصل بہت سختی سے نمٹے۔ مساعد نے وہاں کی مذہبی فورسز یعنی متوؤں کو اپنے ساتھ ملایا ہوا تھا کہ اگر وہ ساتھ ہوں گے تو وہ یہ جنگ جیت سکتے ہیں۔ اس وقت تو یہ کچھ نہ کر سکے لیکن ان کے دل میں کانٹا چبھا رہا۔‘ شاہ فیصل کی حکمرانی کیسے قائم ہوئی فیصل بن عبدالعزیز کے حوالے سے دستیاب معلومات کے مطابق وہ 14 اپریل 1906 کو ریاض میں پیدا ہوئے۔ وہ شاہ عبدالعزیز کے تیسرے بیٹے تھے۔ ان کی ماں طرفہ بنت عبداللہ کا تعلق عبدالوہاب کے مذہبی گھرانے سے تھا اور ان کی شادی شاہ عبدالعزیز کے ریاض کو فتح کرنے کے بعد ہوئی تھی۔ فیصل ابھی چھ ماہ کے تھے کہ ان کی والدہ وفات پا گئیں۔ ان کی پرورش ان کے نانا نانی نے کی اور ابتدائی تعلیم بھی ان ہی کی ذمہ داری رہی۔ سنہ 1919 میں برطانوی حکومت نے شاہ عبدالعزیز کو لندن مدعو کیا تو وہ ذاتی مصروفیات کی وجہ سے نہ جا سکے لیکن فیصلہ یہ ہوا کہ ان کی جگہ ان کے بڑے بیٹے شہزادہ ترکی جائیں گے لیکن سپینش فلو کی وجہ سے شہزادہ ترکی کی وفات ہو گئی تھی۔ سو اب قرعہ شہزادہ فیصل کے نام نکلا اور وہ سعودی خاندان کے پہلے فرد بنے جنھوں نے انگلینڈ کا دورہ کیا۔ ان کا یہ دورہ پانچ ماہ جاری رہا اور اسی دوران انھوں نے فرانس بھی دیکھا۔ ان کے والد انھیں اکثر اہم ذمہ داریاں سونپ دیتے تھے اور سمجھتے تھے کہ فیصل ان ذمہ داریوں کو بالکل احسن طریقے سے نبھانے کے قابل ہیں۔ انھیں سنہ 1922 میں اسیر صوبے کے کنٹرول کے لیے مسلح دستوں کے ساتھ بھیجا گیا جو ایک کامیاب حکمتِ عملی تھی، 1926 میں انھیں حجاز کا وائسرائے بنایا گیا اور اس کے علاوہ وہ وزیرِ داخلہ بھی رہے۔ سنہ 1953 میں شاہ عبدالعزیز کی وفات کے بعد ان کے بڑے بیٹے سعود کو شاہ بنا دیا گیا جبکہ فیصل ولی عہد بنے۔ شاہ سعود کی گرفت امورِ سلطنت پر اتنی نہیں تھی جتنی ان کے والد کی تھی اور نہ ہی وہ داخلی اور خارجہ پالیسی کا کوئی قابل ذکر تجربہ رکھتے تھے۔ شاہی خاندان کو جلد ہی اس کا احساس ہو گیا اور یہی وجہ تھی کہ شاہ سعود پر دباؤ ڈالا گیا کہ شہزادہ فیصل کو وزیرِ اعظم بنا کر انھیں زیادہ اختیارات دیے جائیں۔ اس وقت تک قریبی ہمسایہ ملک مصر میں جمال ناصر بادشاہ کا تختہ الٹ کر حکمران بن چکے تھے اور ڈر تھا کہ کہیں یہاں بھی ایسا ہی نہ ہو جائے۔ تاہم شاہ سعود اور شاہ فیصل کے درمیان طاقت کی کشمکش جاری رہی اور دسمبر 1960 میں شہزادہ فیصل نے وزارتِ عظمیٰ سے استعفیٰ دے دیا، لیکن وہ ولی عہد تو تھے ہی۔ کچھ عرصہ بعد انھیں پھر خاندانی حمایت ملی اور وہ دوسری مرتبہ وزیرِ اعظم بنے۔ آخر کار انھوں نے شاہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اقتدار ان کے حوالے کر دیں۔ علما نے ان کے حق میں ایک نہیں بلکہ دو دو فتوے دیے کہ شاہ سعود ملک کی بھلائی کے لیے ان کے حق میں اقتدار سے علیحدہ ہو جائیں۔ شاہی خاندان نے فتوے کی حمایت کی اور دو نومبر 1964 کو فیصل کو سعودی عرب کا فرمانروا بنا دیا گیا۔ ان کو شاہ بنوانے میں سدیری برادرز (بھائیوں) کا بہت ہاتھ تھا، اگرچہ شاہ فیصل خود سدیری خاندان سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ سدیری برادرز کون تھے؟ کہا جاتا ہے کہ شاہ عبدالعزیز کی سب سے زیادہ پسندیدہ بیوی سدیری قبیلے سے آنے والی حسہ بنت احمد السدیری تھیں اور ان سے ان کے سب سے زیادہ بیٹے پیدا ہوئے تھے اور سبھی اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ بااثر سدیری بھائیوں کے اس گروہ کو ’سدیری سیون‘ بھی کہا جاتا تھا۔ شاہ فیصل اگرچہ خود سدیری ماں کی اولاد نہیں تھے لیکن انھوں نے اقتدار میں آنے کے لیے ساتوں سدیری بھائیوں سے حمایت حاصل کی تھی اور شاہ سعود کو اقتدار سے ہٹوانے میں ان کا بہت کردار تھا۔ شاہ فیصل نے اقتدار سنبھالتے ہی ان بھائیوں کو بڑے بڑے اہم عہدے دیے۔ فیصل بن مساعد کے والد مساعد بن عبدالعزیز کا تعلق اسی طاقتور اور بااثر سدیری قبیلے سے تھا جس نے شاہ فیصل کے اقتدار میں آنے میں ان کی بہت مدد کی تھی۔ تاہم مساعد بن عبدالعزیز شاہ فیصل کی ماڈرنائزیشن کی پالیسی سے اختلاف رکھتے تھے۔ شاہ فیصل کی موت کے بعد ان کے سوتیلے بھائی شاہ خالد سعودی عرب کے فرمانروا بنے اور ان کی سنہ 1982 میں موت کے بعد سعودی عرب کی بادشاہت دو مرتبہ سدیری خاندان کے پاس جا چکی ہے۔ پہلے شاہ خالد کے بعد شاہ فہد بادشاہ بنے، جن کا اقتدار 2005 تک رہا۔ اس کے بعد شاہ عبداللہ فرمانروا رہے جو کہ سدیری نہیں تھے اور ان کی 2015 میں موت کے بعد ایک مرتبہ پھر سدیری خاندان کے شاہ سلمان حکمران ہیں لیکن ضعیف ہونے کی وجہ سے اب بھی ایک اور سدیری یعنی ان کے بیٹے ولی عہد محمد بن سلمان ہی سارا کاروبارِ سلطنت سنبھالتے ہیں۔ شاہ فیصل ایک ’ترقی پسند‘ شاہ فیصل نے بادشاہ بنتے ہی پہلے تو خاندان کے لوگوں کو ساتھ ملا کر مستقبل میں بادشاہ چننے کے لیے کونسل بنائی تاکہ یہ مسئلہ مستقل طور پر ہی حل ہو جائے کہ کسے اگلا بادشاہ بنانا ہے اور اس کے بعد اس میں شاہی خاندان کے اہم لوگوں کو اہم عہدوں پر تعینات کیا، جن میں ان کے سگے سوتیلے سبھی بھائی بھی شامل تھے۔

تازہ ترین خبریں

 افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی رہی ہے اور اب بھی ہورہی ہے، ہمیں اسے روکنا ہوگا۔ معید یوسف

افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی رہی ہے اور اب بھی ہورہی ہے، ہمیں اسے روکنا ہوگا۔ معید یوسف

 ن لیگ کی قیادت آج کل ملک دشمن لوگوں سے ملاقاتوں میں لگی ہوئی ہے۔ غلام سرور خان

ن لیگ کی قیادت آج کل ملک دشمن لوگوں سے ملاقاتوں میں لگی ہوئی ہے۔ غلام سرور خان

مسلم لیگ (ن)اور پیپلزپارٹی کا آزاد کشمیر میں وزیر اعظم ، سپیکراورڈپٹی سپیکر کےلئے مشترکہ امیدوار لانے کا فیصلہ

مسلم لیگ (ن)اور پیپلزپارٹی کا آزاد کشمیر میں وزیر اعظم ، سپیکراورڈپٹی سپیکر کےلئے مشترکہ امیدوار لانے کا فیصلہ

خواتین کی پانچ مخصوص نشستوں میں سے تین پر تحریک انصاف جیت گئی

خواتین کی پانچ مخصوص نشستوں میں سے تین پر تحریک انصاف جیت گئی

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین تیسرا ٹی ٹونٹی میچ ۔۔۔ ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کرلیا

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین تیسرا ٹی ٹونٹی میچ ۔۔۔ ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کرلیا

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین تیسرا ٹی ٹونٹی میچ ۔۔۔ ٹاس سے پہلے پیچ روک دیا گیا 

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے مابین تیسرا ٹی ٹونٹی میچ ۔۔۔ ٹاس سے پہلے پیچ روک دیا گیا 

آزاد کشمیرالیکشن کمیشن کے احکامات کی خلاف ورزیوںکے بعد آپ نے آج ایک نیا یوٹرن لیا۔مریم اورنگزیب 

آزاد کشمیرالیکشن کمیشن کے احکامات کی خلاف ورزیوںکے بعد آپ نے آج ایک نیا یوٹرن لیا۔مریم اورنگزیب 

وزیراعظم عمران خان نے کورونا ویکسی نیشن کے بغیر اسکول کھولنے کی مخالفت کر دی

وزیراعظم عمران خان نے کورونا ویکسی نیشن کے بغیر اسکول کھولنے کی مخالفت کر دی

افغانستان میں  طالبان کے ٹھکانوں پر امریکی طیارے کی بمباری۔۔۔

افغانستان میں طالبان کے ٹھکانوں پر امریکی طیارے کی بمباری۔۔۔

اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے شہر میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کردیا

اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے شہر میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کردیا

 آسمانی بجلی گرنے کا واقعہ ۔۔۔۔ دس سالہ بچی جھلس گئی

آسمانی بجلی گرنے کا واقعہ ۔۔۔۔ دس سالہ بچی جھلس گئی

سندھ حکومت نے وفاق ‏سے فوری طور پرپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کر دیا۔

سندھ حکومت نے وفاق ‏سے فوری طور پرپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کر دیا۔

 پی پی 38 میں تحریک انصاف نےن لیگ کو گھر میں گھس ‏کر مارا۔فردوس عاشق اعوان

پی پی 38 میں تحریک انصاف نےن لیگ کو گھر میں گھس ‏کر مارا۔فردوس عاشق اعوان

آزاد کشمیر جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں خواتین کی مخصوص پانچ نشستوں کا انتخاب مکمل۔۔۔ پی ٹی آئی نے میدان مار لیا 

آزاد کشمیر جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں خواتین کی مخصوص پانچ نشستوں کا انتخاب مکمل۔۔۔ پی ٹی آئی نے میدان مار لیا