07:49 am
حرم میں دو قسم کے کبوتر ہیں، کچھ پالتو اور کچھ غیر پالتو۔پالتو کبوتروں کی بہت سی قسمیں اور بہت سی شکلیں ہیں جیسا کہ دوسرے شہروں میں ہیں۔

حرم میں دو قسم کے کبوتر ہیں، کچھ پالتو اور کچھ غیر پالتو۔پالتو کبوتروں کی بہت سی قسمیں اور بہت سی شکلیں ہیں جیسا کہ دوسرے شہروں میں ہیں۔

07:49 am

حرم میں دو قسم کے کبوتر ہیں، کچھ پالتو اور کچھ غیر پالتو۔پالتو کبوتروں کی بہت سی قسمیں اور بہت سی شکلیں ہیں جیسا کہ دوسرے شہروں میں ہیں۔دوسری قسم حرم کے کبوتر ہیں جن کے لیے خاص طور پر ہم نے یہ فصل مقرر کی ہے ان کی خاص شکل اور خاص ہیئت ہے جو کبھی نہیں بدلتی اور خاص رنگ ہے۔سر سے گردن تک یہ کبوتر بہت نیلے اور چمک دار ہوتے ہیں،ان کے بازو اور دُم سیاہ ہوتی ہے اور باقی جسم نیلا مائل بہ سپیدی ہوتا ہے ان کے دونوں بڑے پروں میں دُم کے قریب سیاہ خط ہوتے ہیں جو انہیں دوسرے کبوتروں سے ممتاز کرتے ہیں۔
 
ان کبوتروں کو مکہ کے کبوتر اور بیت اللہ کے کبوتر بھی کہتے ہیں ۔یہ قسم پورے حجاز میں اور بالخصوص مکہ میں بکثرت پائی جاتی ہے۔حجاز سے باہر یہ قسم کم ہے ۔مصر میں اسے جنگلی کبوتر کہتے ہیں اور موصل میں بھی ہم نے یہ کبوتر دیکھے،کہتے ہیں کہ ہندوستان میں اس قسم کے کبوتر بکثرت ہیں جن میں سے بعض پر وردہ اور بعض جنگلی ہوتے ہیں جنہیں شکار کیا جاتاہے۔بعض مورخین نے ان کبوتروں کے ابتدائے وجود سے بحث کی ہے مگر ہمارے خیال میں جو کچھ بھی کہا گیا ہے سب ظن وتخمین پر موقوف ہے ۔کیونکہ کسی حیوان کے ابتدائے وجود کے بارے میں تو بڑی مستند بات در کار ہوتی ہے کہ اس میں کسی قسم کا شک وشبہ نہ ہو۔ہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ دور جاہلیت میں کبوتر تھے ۔رہی یہ بات کہ حرم کے کبوتر کہاں سے آئے اور کب آئے اور آیا یہ اسی جوڑے کی نسل سے ہیں جس نے غارثور پر اپنا گھونسلا بنالیا تھا۔جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے دوست حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہجرت کے وقت اُس کے اندر جا کر چھپے تھے یا کوئی اور قسم ہے ۔ان باتوں کا اللہ کے سوا کسے علم ہو سکتا ہے۔ جب اسلام نے ان کبوتروں کا مارنا حرام قرار دے دیا تو ان کی کثرت ہو گئی وہ لوگوں سے ڈرتے نہیں بلکہ ان کے قریب آکر بیٹھتے ہیں بلکہ بسا اوقات انسان کے سر اور مونڈھے پر آکر بیٹھ جاتے ہیں جبکہ اس کے ہاتھوں میں غلہ ہو۔حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کجادے ،کھانے اور کپڑوں پر کبوتر آکر بیٹھ جاتے تو آپ انہیں کچھ نہ کہتے ۔ایک شخص نے حضرت عطاء سے پوچھا”کیا مرغی کا انڈا حرم کی کبوتری کے نیچے سے نکلوا سکتے ہیں؟“آپ نے فرمایا ”میرے خیال میں تو کوئی مضائقہ نہیں۔“ایک قریشی لڑکے نے حرم کا کبوتر مار دیا تو حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا،ایک بکری بطور قدیہ دے۔ان وجوہات کی بناء پر حرم کے کبوتر لوگوں سے نہیں ڈرتے۔کاش یہ کبوتر انسانوں سے ڈرتے کیونکہ یہ کبوتر لوگوں کو بہت نقصان پہنچاتے ہیں ۔یہ ہمارے گھروں میں گھس کرکھانے کی چیزوں میں چونچ ڈال دیتے ہیں اور گھر کے فرش کو گندہ کر جاتے ہیں ۔انہیں کتنا ہی بھگاؤ مگر یہ نہیں بھاگتے۔مکہ اور جدہ کے راستے میں بھی یہ کبوتر کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں۔جب اس طرف کہیں سے غلہ آتا ہے تو یہ بوریاں توڑ کر غلہ کھا جاتے ہیں اور اڑائے نہیں اڑتے۔ہم نے مکہ کے کبوتروں میں کچھ خاص باتیں دیکھی ہیں۔ حرم کا کبوتر غیر کبوتروں کے ساتھ میل نہیں کھاتا خواہ اُسے کتنے ہی دنوں کیوں نہ قفس میں بند رکھا جائے مگر یہ کہ ایک طویل عرصہ تک وہ قید رہے۔حرم کا کبوتر دوسرے کبوتروں کے ساتھ دانہ چگنے میں شریک ہو جاتا ہے مگر پروردہ کبوتر حرم کے کبوتروں کے کھانے دانے میں شرکت نہیں کرتے۔حرم کے کبوتر کھانے کے بڑے لالچی ہیں ،اگر کھاتے کو اڑا دیا جائے تو تھوڑی دیر بعد فوراً لوٹتا ہے۔حرم کے کبوتر، پالتو کبوتروں سے زیادہ قوی،زیادہ پرواز کرنے والے،تیز نظر اور زیادہ ہشاش بشاش ہوتے ہیں ۔دانے کے لیے دوسرے کبوتروں سے خوب لڑتے ہیں۔ جب کوئی حرم میں دانہ ڈالتا ہے تو آپ دیکھیں گے کہ ہزاروں کبوتر ایک دم ٹوٹ پڑتے ہیں مگر ان میں کوئی بھی غیر جنس کا کبوتر نہیں ہوتا۔اگرکوئی شخص کسی جگہ کسی خاص وقت پر دانہ ڈالنے لگے تو آپ دیکھیں گے کہ حرم کے کبوتر وہاں ٹھیک وقت پر آموجودہوتے ہیں۔حرم کا کبوتر کبھی اپنا گھونسلہ ویرانے یا جنگل میں نہیں رکھتا۔ہمیشہ آبادی،گھروں ،دروازوں اور چھتوں میں رکھتا ہے۔حرم کے کبوتروں کی خاص ہیئت اور خاص قسم کی طبیعت ہے جس میں کبھی کوئی تغیر نہیں ہوتا۔ان اوصاف میں حرم کا کبوتر امتیازی شان رکھتا ہے لیکن دوسری صفات میں وہ عام کبوتروں کے ساتھ اشتراک فطرت رکھتا ہے۔مثلاً یہ کہ ایک ہی مادہ لیتاہے ،اپنی مادہ سے محبت رکھتا ہے اور اس کے بارے غیرت مند ہوتاہے۔

تازہ ترین خبریں