11:45 am
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اہل قریش کی بناء کو اکھاڑ کر خانہ کعبہ کی اس طرح تعمیر کی جیسی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاہت

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اہل قریش کی بناء کو اکھاڑ کر خانہ کعبہ کی اس طرح تعمیر کی جیسی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چاہت

11:45 am

محمد طاہر الکردی
1014ھ تک خانہ کعبہ کی تعمیر گیارہ بار ہو چکی ہے۔اتنے طویل عرصہ میں اتنی تھوڑی بار خانہ کعبہ کا محتاج تعمیر ہونا جائے تعجب ہے،گویا تعمیرات میں اختلاف ہوتا رہا مگر ابراہیمی بنیادوں ہی پر خانہ کعبہ کی تعمیر ہوئی ،ہاں کبھی کبھی لمبائی ،چوڑائی یا اونچائی میں کمی زیادتی ہو گئی۔حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اہل قریش کی بناء کو اکھاڑ کر خانہ کعبہ کی اس طرح تعمیر کی جیسی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلعم چاہتے تھے اور خانہ کعبہ کے اندر ایک سیڑھی بنوائی اور اونچائی ستائیس گز رکھی۔
آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث کے مطابق کعبہ کی تعمیر کی۔ازرقی اپنی تاریخ میں لکھتا ہے۔”جس دن ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خانہ کعبہ کو منہدم کیا تو اس کی اونچائی اٹھارہ ہاتھ تھی،جب ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اٹھارہ ہاتھ اونچائی رکھ چکے تو دیکھا کہ حجر کے شامل کرنے کی وجہ سے یہ اونچائی کم معلوم ہوتی ہے لہٰذا نو ہاتھ اور دیواریں اونچی کرادیں“۔
 
ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعمیر نہایت موزوں تھی اور اساس ابراہیمی پر قائم تھی۔اس قسم کی زیادتی میں کیا ہرج تھا۔جب ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید کر دئیے گئے تو حجاج بن یوسف نے عبدالملک سے اجازت طلب کی کہ تعمیر حسب سابق ہو جائے ۔عبدالملک نے اجازت دے دی مگر جب عبدالملک کو یہ بات معلوم ہوئی کہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی خالہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث کے مطابق تعمیر کرائی تھی تو وہ بہت نادم ہوا ،بہر حال موجودہ تعمیر بنائے ابراہیمی علیہ السلام پر قائم ہے گو طرز تعمیر میں اختلاف ہوتا رہا ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ خانہ کعبہ اگر مرمت طلب ہو جائے تو اس کو یونہی نہیں چھوڑا جا سکتا۔جب حضرت عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں بیت اللہ قابل مرمت ہو گیا تو آپ نے علماء واشراف کو جمع کیا ،بعض نے تعمیر کی مخالفت کی اور بعض نے تائید کی،عبداللہ بن عباس نے کہا تعمیر مت کرو،مرمت کرادو،انہوں نے تعمیر کی سخت مخالفت کی مگر ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہ مانے۔ جب ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گرانے کا ارادہ کر لیا تو تمام لوگ ڈر کے مارے منیٰ چلے گئے اور عبداللہ بن عباس بھی مکہ سے باہر چلے گئے جب ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ساری تعمیر گرا دی تو عبداللہ بن عباس نے کہا لوگوں کو بغیر قبلہ کے نہ چھوڑ،اردگرد لکڑیاں لگوادے تاکہ لوگ طواف کر سکیں چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ ہارون الرشید یا مہدی یا منصور نے ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعمیر کے مطابق تعمیر کرانی چاہی مگر حضرت امام مالک نے منع کر دیا کہ خانہ کعبہ کو بادشاہوں کے لئے کھیل نہ بنائیے۔ سلطان احمد بن سلطان محمد بن مراد بن سلیم نے بھی از سر نو تعمیر کعبہ کرانے کا ارادہ کیا تھا اور یہ چاہا تھا کہ ایک اینٹ پر سونا چڑھا ہوا ہو اور دوسری پر چاندی مگر علماء نے اسے ایسا کرنے سے روک دیا،لہٰذا اس نے ٹوٹی ہوئی دیوار پر پیتل کا گھیرا لگوادیا یہ واقعہ 1020ھ کا ہے اس سلسلہ میں اس نے اسی ہزار دینا ر خرچ کئے۔ اگر خانہ کعبہ کی تعمیر میں کسی قسم کا خلل واقع ہو جائے تو اس کی مرمت ضروری ہے اور اس کی تعمیر میں لکڑی،پتھر،کوئلہ،مٹی ،لوہا اور سیمنٹ وغیرہ لگا سکتے ہیں۔ ولید بن مغیرہ نے اہل قریش سے کہا تھا”تم خانہ کعبہ کو گرانے سے کیوں ڈرتے ہو؟کیا تمہارا ارادہ اس کی اصلاح کا نہیں ہے؟“انہوں نے کہا”کیوں نہیں“ابن مغیرہ بولا تو پھرکیوں ڈرتے ہو اللہ تعالیٰ اصلاح کرنے والوں کو ہلاک نہیں کرتا“۔پھر ولید بن مغیرہ پھاوڑ الے کر خانہ کعبہ کی دیوار پر چڑھ گیا اور گرانے لگا یہ دیکھ کر قریش بھی ساتھ ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا تو وہ اپنے گھر کو شکست وریخت سے محفوظ رکھتا مگر اس نے خانہ کعبہ کو وہ تقدس وہیبت عطا کی ہے کہ دنیا کے لوگ وہاں آتے ہیں اور روتے پیٹتے ہیں ،دعائیں مانگتے ہیں اور عجز وانکساری کا اظہار کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی خانہ کعبہ کو دیکھتے تو فرمایا کرتے”اے اللہ اس گھر کو اور زیادہ شرف وبزرگی عطا فرمایا اور جو کوئی اس کی زیارت کرے اسے بھی شرف و بزرگی اور نیکی عطا فرما“۔ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیت اللہ کو دیکھتے تو فرماتے ۔”اے اللہ تو سلام ہے ،تجھ سے سلامتی ملتی ہے۔اے ہمارے پروردگار ہمیں سلامتی کے ساتھ زندہ رکھ“۔ ازرقی نے اپنی تاریخ میں عطاء بن عباس سے روایت درج کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس گھر پر ہرشب وروز میں 120رحمتیں نازل کرتا ہے۔ساٹھ طواف کرنے والوں کے لئے چالیس نمازیوں کے لئے اور بیس دیکھنے والوں کے لئے“۔ ازرقی نے حضرت عطاء سے ایک روایت درج کی ہے”عطاء نے کہا ہے کہ میں نے ابن عباس سے سنا ہے کہ وہ فرماتے تھے کہ خانہ کعبہ کی طر ف دیکھنا ایمان خالص ہے“۔ عماد بن ابی مسلمہ سے روایت ہے کہ”خانہ کعبہ کی طرف دیکھنے والا اور دوسرے شہروں کا نمازی دونوں برابر درجہ رکھتے ہیں“۔حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا”جس کسی نے بیت اللہ کا طواف کیا،اللہ اسے ہر دم کے عوض ایک نیکی دیتے ہیں اور ایک برائی اس سے مٹادیتے ہیں“۔ مجاہد سے روایت ہے کہ”رکن اور درکعبہ کے درمیان ایک مقام ملتزم کہلاتا ہے جو کوئی بھی وہاں کھڑے ہو کر دعا کرے گا اللہ اس کی دعا کو قبول کرے گا“۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے: ”جس شخص نے خانہ کعبہ سے چمٹ کر دعا کی اللہ اس کی دعا قبول کرے گا۔“ کسی نے آپ سے دریافت کیا کہ اگر چہ صرف ایک بار بوسہ دیا ہو؟فرمایا خواہ پل جھپکنے کے برابر ہی اسے کیوں نہ موقعہ ملا ہو“۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وبن شعب اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمرو کے ساتھ طواف کیا جب ہم کعبہ کی پشت پر پہنچے تو میں نے کہا”کیا آپ اعوذباللہ نہیں پڑھتے؟“انہوں نے کہا ”اعوذ باللہ من النار ،پھر آپ آگے بڑھے۔حتیٰ کہ حجراسود کو بوسہ دیا پھر رکن اور باب کے درمیان کھڑے ہوئے پھر اپنا سینہ،چہرہ ،بازو اور ہتھیلیاں پھیلادیں اور فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے دیکھا“۔ مجاہد کہتے ہیں کہ”اپنے رخساروں کو خانہ کعبہ سے ملادو مگر پیشانی اس پر نہ دھرو“۔

تازہ ترین خبریں