09:41 am
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا مرادیں غریبوں کی بر لانے والا سورہ النساء میں فرمایا گیا ہے!

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا مرادیں غریبوں کی بر لانے والا سورہ النساء میں فرمایا گیا ہے!

09:41 am

جس شخص نے رسولﷺ کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اعطاعت کی چلیں آج بھول جائیں کہ آپ کا تعلق کس مسلک سے ہے صرف کچھ دیر کے لیے چھوڑدیں کہ آپ ،سنی ، بریلوئی، دیوبندی، وہابی، شعہ وغیرہ ہیں۔ آج صرف یہ سوچیں کہ آپ مسلمان ہیں۔ پھر تصور کریں آپ کا دین اسلام ہے۔
 
پھر دیکھیں یہ دین اسلام کس نے عطا کیا، یقینا اللہ تعالیٰ نے۔ دین اسلام ہم تک کس کے زریعے پہنچا۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نیک فرشتے جبرائیل  اللہ کے حکم سے نبی ﷺ پروحی لے کر آتے رہے جس میں ہمارے لیے دین اسلام پسند فرمایا گیا۔ اور پھر اس کو مکمل ضابطہ حیات قراردے دیا گیا۔ اب آئیں دنیا کی طرف۔ ہم دُنیا میں والدین کی توسط سے آتے ہیں۔ پیدا کرنے والا سب کا اللہ ہے۔ مگر ہم اپنے والدین کی بھی بہت عزت و تکریم کرتے ہیں۔ ہمارا مذہب ہمیں بتاتا ہے کہ والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ ان کی خدمت کرو۔ اللہ سے ان کے لیے رحم کی دعا کرو۔ والد کے بازو اور ماں کے دل کی ٹھنڈک بن جاؤ۔ اونچی آواز میں بات مت کرو۔ جب ہمیں والدین کے لیے اتنے احکامات دیے گئے ہیں تو کیا جس نبی ﷺ کے زریعے سے اسلام ہم تک پہنچا ہے ان کی عزت ہم پر واجب نہیں۔ یقینا واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ خود قران میں فرماتے ہیں جب تک حضور ﷺ تمہیں دنیا کی ہر چیز یہاں تک کہ والدین سے بھی زیادہ عزیز نا ہوجائیں تب تک تم مومن نہیں بن سکتے۔ تو ہمیں سوچنا چاہیے کیا ہم نے نبی آخرزماں ﷺ کو سب سے زیادہ عزیر رکھا ہے۔ یہ وہ سوال ہے جو ہمیں اپنے آپ سے ضرور پوچھنا ہوگا۔ فرقہ بندی میں بٹے مسلمان اپنے راہب کو بھول رہے ہیں۔ ان کی تعلیمات سے دوری ہی ہمارے زوا ل کا سبب ہے۔ وہ اپنی امت کے لیے کیا چاہتے ہیں کبھی اس پر غور کیا کسی نے۔ انہوں نے اللہ سے دعا کی میری امت کو قیامت کے دن بخش دینا۔ تو ایسے نبی ﷺ ہیں ہمارے۔ ہمارے مسلمانوں میں ہی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو نبی ﷺ کی ذات کو نعوز باللہ متنازع بنا دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلاتاہے غیر مسلم بھی پھر باتیں کرتے ہیں۔ خدارا پہچانیں اپنے آپ کو اور اس رسولﷺ کو جس نے ہمیں اندھیروں سے نکالا۔ ہمیں روشنی عطا کی ۔ جنت کی نوید لے کر آئے۔ ہمارے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے۔ مزدوروں کے لیے رحمت حضور ﷺ نے فرمایا مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے اس کی مزدوری ادا کردی جائے۔ یہ میرے نبی کی ہی شان ہے کہ وہ عام و خاص کا خیال رکھتے ہیں۔ اسی لیے تو اُنہوں نے مزدوروں کے لیے بھی فرمایا کہ مزدور کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ہی اس کی مزدوری ادا کردو۔ اس سے ثابت ہوتا ہے میرا نبی ﷺ مزدوروں کی لیے بھی باعث رحمت ہے۔ عورتوں کے لیے رحمت نبی کریم ﷺ کے دنیا میں تشریف لانے سے پہلے معاشرئے میں عورت کو کوئی مقام حاصل نہیں تھا۔ لوگ اپنی بچیوں کو زندہ درگور کردیا کرتے ہیں۔ یہ جو آج کی بے لگام نام نہاد لبرل عورتیں ہیں نا ان کو ضرور دیکھنا چاہیے کہ ہمارے آقاﷺ عورتوں کے لیے بھی رحمت بنا کر بھیجے گئے۔ نبی کریم ﷺ نے دنیا میں آکر عورت کو چار حثیتیں عطا کردیں فرمایا۔ ﴾ عورت اگر تیری بیٹی ہے تو تیری عزت ہے ﴾ عورت تیری بہن ہے تو تیری آبرو ہے ﴾ عورت اگر تیری بیوی ہے تو اس کا خرچہ تجھ پر واجب ہے۔ ﴾ اور اگر عورت تیری ماں ہے تو اس کے پاؤں تلے جنت ہے۔ کسان کے لیے رحمت میرا نبی بڑی ہی شان والا ہے وہ تو کسانوں کے لیے بھی رحمت بن کر آئے اور فرمایا جو بنجر زمین کو آباد کرئے وہ اس کا مالک ہے۔ لہذا میرا نبی ﷺ تو بنجر زمین کو آباد کرنے کے لیے بھی رحمت بن کر آیا۔ جانوروں کے لے رحمت ایک اونٹ میرے آقاﷺ کی جوکھٹ پر سر رکھتا ہے۔ صحابہ نے پوچھا یارسو ل اللہﷺ یہ کیا کہتا ہے۔ ارشاد فرمایا یہ میرے پاس اپنے مالک کی شکایت لے کر آیا ہے کہ میرا مالک مجھے چارہ کم دیتا ہے جبکہ مجھ سے کام زیادہ لیتا ہے۔ تو آقا دو جہانﷺ نے حکم صادر فرمایا کہ کہ اسے چارہ زیادہ کھلایا کر اور کام کم لیا کر۔ اور کیا کیا شان بیان کروں کالی کملی والے کی نا تو میرا دماغ اتنا وسیع ہے اور نا ہی قلم کہ ان کی شان کو بیان کر پائے۔ ان کی شان تو خالق کائنات نے بیان فرمائی اور کھل کر بیان فرمائی۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ حضور ﷺ کی بتائی گئی تعلیمات پر مکمل عمل کریں اس میں دنیا اور آخرت کی بقاء ہے۔

تازہ ترین خبریں