11:36 am
لگتا بھی ہے انساں دیکھن میں

لگتا بھی ہے انساں دیکھن میں

11:36 am

 تحریر: علی آسیکہا جاتا ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن کا عالم یہ تھا کہ جو بھی ان کے مکھڑے کو ایک بار دیکھ لیتا تھا وہ بس دیکھتا ہی جاتا تھا جیسے کوئی پیاسا کنویں سے مشکیں بھر بھر کر پی جائے پر وہ پھر بھی پیاسا کا پیاسا ہی رہے
 
ازل سے ابد تک دنیا آباد ہے۔سینکڑوں،ہزاروں انبیاء کرام دنیا پر معبوث کیے گئے ہیں جنھوں نے دنیا کو وحدت کا پیغام دیا اور درس دیا کہ یہی وہ عقیدہ ہے جو سراسر فلاح پر مبنی ہے۔کسی بھی نبی کی جب شریعت نافذ ہوتی تو سابقہ شریعت منسوخ کر دی جاتی تھی کیونکہ کوئی بھی شریعت کسی دوسری کا مکمل احاطہ نہ کر سکتی تھی۔ازل سے دنیا پر مذہب قائم ہے۔مختلف اشکال میں اس کا وجود ہر طرف لازمی رہا ہے۔ دنیا پر ایک ایسا خطہ بھی تھا جو جاہلیت اور بے راہ روی میں اول نمبر پر آتا تھا،اس خطے کا نام عرب تھا۔جہاں بسنے والے لوگوں کو عرف عام میں بدو بھی کہا جاتا تھا۔خطئہ عرب جو بت پرستی،بے حیائی،شراب،جوا اور دیگر ہمہ گیر برائیوں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا اس کی قسمت کا ستارہ اب گردش میں تھا۔ عرب وحشی صفت انسان تھے۔وہ زندہ جانور کا گوشت نوچ لیتے تھے، زندہ بیواؤں کو جلا دیتے تھے،زندہ بچیوں کو جنم لیتے ہی دب دیتے تھے۔ یہ سب برائیاں قدرت کی نگاہ میں تھیں۔عرب میں انسانیت نام کی کوئی شے نہیں تھی۔لونڈیوں اور غلاموں کی خریدوفروخت کا مکروہ دھندہ بام عروج پرتھا۔ وہ کہتے ہیں نا کہ جب برائی حد سے بڑھ جائے،جب حق کے سامنے باطل آ جائے تو پھر اس اندھیرے کو حق کی روشنی بالآخر ختم کر ہی دیتی ہے۔پھر وہی ہوا کہ بارہ ربیع الاول کو قدرت نے اپنا سارا جلوہ ایک بشر میں ظاہر کر کے خطئہ عرب میں اتار دیا۔ عرب میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سسکتی آہوں اور مرتی ہوئی انسانیت کے زخموں پر ایک مرہم تھی اور ظلم کی ننگی تلوار کے آگے مجاہد حق بنا تلوار کھڑے ہو گئے تھے۔گناہ کی اندھیر نگری میں نیکی کی ایک کرن پھوٹ پڑی تھی جس کی روشنی اتنی تھی کہ اس نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ حضرت آدم علیہ السلام سے نبوت شروع ہوئی تو ان کے بعد جتنے بھی پیغمبر آئے سب نے یہی بشارت دی کہ آخر میں نبی آخر الزماں آئیں گے۔ کئی صدیاں گزر گئیں ہر نبی کو یہی کہتے کہ آخری پیغمبر تشریف لانے والے ہیں۔اور جب دنیا ان کی آمد کی شدت سے منتظر ہوگئی تو وہ پاک ہستی بھی دنیا میں تشریف لے آئی جن کی دنیا میں آمد دنیا ہر موجب رحمت بنی۔پروردگار بڑا کارساز ہے،دانا ہے اور جو چاہے وہ کر سکتا ہے۔ ذرا شان خداوندی دیکھو کہ کل کائنات کے بادشاہ،نبوت کی آخری کڑی اور پیغمبر اسلام کی آمد ایک بیوہ کے گھر ہوئی۔ قدرت بھی کیا کیا مثالیں پیدا کرتی ہے کہ جب دنیا کو اس کی بساط سے بڑھ کر انتظار کروایا تو سوچا کہ محبوب کا اب کوئی ثانی بھی نہیں ہونا چاہیے۔تو پھر محبوب کو ایسا بشر بنا کر بھیجا کہ ان جیسا کوئی بشر ہی نہیں۔جو بھی انسان ان کو محظ ظاہر آنکھ سے دیکھتا تھا اسے حضور پاک علیہ السلام ایک عام انسان ہی نظر آتے تھے لیکن جو بھی انھیں حضرت علی،حضرت عثمان غنی،حضرت عمر فاروق،اور حضرت ابو بکر صدیق رضوان اللہ اجمعین کی نگاہ سے دیکھتا تھا وہ حضور پاک میں سراپا عین کا ظہور دیکھتا تھا۔ حیرت کی ہے جاہ سایہ بھی نہیں لگتا بھی ہے انساں دیکھن میں ظاہر سی بات ہے کہ قدرت ایسا بشر بھیجنا چاہتی تھی جس کی کوئی دوئی نہ ہو اور دوئی کی بھی سب سے بڑی نفی اور کیا ہو سکتی تھی کہ اوپر آسمانوں پر بسنے والی ہستی کا سرے سے وجود ہی نہیں اور زمین پر اترنے والے بشر کا سایہ ہی نہیں۔ایسا کون بشر ہے جو سائے سے محروم ہو؟کون بشر اس قابل ہو سکتا ہے کہ خود ذات حق اس بشر کی عبادت کرے اور مومنین کو بھی اس کی تلقین کرے۔ عقل سے بالاتر ہے کہ کون معبود ہے اور کون پیروکار؟ساری دنیا اس آسمانوں پر بسنے والے معبود کی عبادت کرتی ہے اور آسمانوں پر رہنے والی ذات زمین پر جلوہ فگن ایک بشر پر درود بھیجتی نظر آتی ہے!آخر معبودِ حقیقی کی اس بشر پر اس قدر وارفتگی کی کوئی نہ کوئی تو وجہ ضرور ہو گی۔آخر کیسے ایک بشر ایک رات میں سب آسمانوں کی سیر سے ہو کر آ سکتا ہے؟آخر کیسے ایک بشر نہ صرف یہ کہ آسمانوں کی سیر سے ہو آئے بلکہ اس بشر کی اتنی جسارت کہ پروردگار کے سامنے دو زانو ہو کر بھی بیٹھ سکے کون بشر؟ذرا سوچئیے کون ہے وہ بشر؟!حالانکہ اگر پروردگار اپنا جلوہ کوہ طور پر اتاریں تو پہاڑ سارا ریزہ ریزہ ہو کر بکھر جائے۔ کون بشر اس جلوے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتا ہے؟کون بشر؟بشر تنہا نہیں رہ سکتا،بشر کا سایہ ہوتا ہے،بشر آسمانوں کی آخری حدوں سے آگے نہیں جا سکتا،بشر کیسے محبوب قدرت ہو سکتا ہے جب کہ وہ ذات تو ہر شے سے مبرّا ہے۔بشر مٹی ہوتا ہے اور قدرت سراپا نور ہے ان دونوں کا کوئی جوڑ نہیں۔لیکن بھلا وہ خدا کیونکر ہو سکتا ہے جو ناممکن کو ممکن نہ کر سکے اور قدرت نے بھی ناممکن کو ممکن کر کے دنیا کو بتا دیا کہ ''میں سب سے بڑا کارساز ہوں اور باقی سب مجھ سے نیچے ہیں'' کہا جاتا ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن کا عالم یہ تھا کہ جو بھی ان کے مکھڑے کو ایک بار دیکھ لیتا تھا وہ بس دیکھتا ہی جاتا تھا جیسے کوئی پیاسا کنویں سے مشکیں بھر بھر کر پی جائے پر وہ پھر بھی پیاسا کا پیاسا ہی رہے۔ کہتے ہیں کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم اگر کسی کو آنکھ بھر کر دیکھ لیتے تھے تو سامنے والے کے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے بھی عش عش کی آوازیں آتی تھیں۔ دنیا میں اگر ایک بشر کسی دوسرے حسین و جمیل بشر کو دیکھے تو اس کے حسن سے کوئی نا کوئی کیڑا نکال ہی لیتا ہے مگر احمد مجتبیٰ علیہ السلام کی شخصیت ہر لحاظ سے کامل تھی اور یہ بات شان خداوندی کے خلاف تھی کہ کوئی قدرت کی تخلیق سے کوئی عیب نکال لیتا۔ اسی لیے اللہ پاک نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر عیب سے مبرّا پیدا فرمایا اور جو بھی ان کو ایک نظر دیکھتا وہ اس مصور عظیم کے فن کی داد دیے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔ ہر نبی علیہ السلام کی امت جس پاج ہستی کی آمد کا انتظار کرتے کرتے فنا ہو گئی کیسے ممکن ہے کہ جب وہ ہستی اس دنیا پر تشریف لائی ہو تو کوئی خوشی نہ منائی گئی ہو؟زمین پر بھلے ہی کوئی میلاد نہ منایا گیا ہو پر شاید آسمانوں کی بلندیوں پر میلاد منایا گیا ہو،درود و سلام کی محافل سجائی گئی ہوں۔ چاہے عرب میں ان کی آمد پر کوئی جھنڈیاں نہ لگی ہوں،کوئی جلوس نہ نکلا ہو،کوئی محفل نہ سجائی گئی ہو۔کس کو علم ہے کہ شاید وہاں فرشتے اترے ہوں؟ٹولیاں بنا بنا کر جوق در جوق بی بی آمنہ پاک کے گھر کے آنگن میں اترے ہوں،کس کو معلوم؟کس کو معلوم ہے کہ شاید جنت کی حوریں باری باری آ کر بادلوں کی اوٹ میں چھپ کر حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے رخ ماہ تاباں کو تکتی ہوں اور عش عش کرتی ہوں۔ کس کو معلوم کہ شاید آسمان کی سب حوریں اور سب فرشتے قطار اندر قطار آسمان سے اترے ہوں اور رسول پاک کے جھولے کے گرد باری باری یہ اشعار پڑھتے ہوں بلغ العلی بکمالہ کشف دوجا بجمالہ حسنت جمیع خصالہ صلو علیہ وآلہ کسی جانب بھی اس بابت کوئی واضح اشارے نہیں ملتے لیکن اللہ پاک نے خود فرمایا ہے کہ''میں اور میرے فرشتے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام پڑھتے ہیں اے ایمان والو تم بھی ان پر سلام بھیجا کرو اور خوب ثواب کمایا کرو'' بس یہی تو میلاد ہے کیونکہ اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ خدا خود زمیں پر اتر آئے اور لوگوں کے ساتھ مل کر جھنڈیاں لگائے،یا بازار سجائے۔ ذات پروردگار آسمان پر ہی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیج کر اپنا میلاد منا لیتی ہے اور نیچے زمین پر بسنے والے بھی اگر جلسے کر کے،بازار سجا کر اور جھنڈیاں لگا کر احمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خوشی منا لیں تو اس میں کوئی عیب والی بات تو ہر گز نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اسے بدعت کے نام پر گناہ کے زمرے میں ڈالا جا سکتا ہے۔تمام اہل اسلام کو جشنِ ولادت سرکار صلی اللہ علیہ وسلم بہت مبارک ہو۔

تازہ ترین خبریں