12:05 pm
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک جنازے میں ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک جنازے میں ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے

12:05 pm

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک جنازے میں ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، جب ہم میت کی تدفین سے فارغ ہوئے اور لوگ واپس جانے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اب یہ (تمہارے واپس پلٹنے پر) تمہارے جوتوں کی آواز سنے گا، اس کے پاس منکر اور نکیر آئے ہیں جن کی آنکھیں تانبے کے دیگچے کے برابر ہیں، دانت گائے کے سینگ کی طرح ہیں اور ان کی آواز بجلی کی طرح گرج دار ہے، وہ دونوں اس کو بٹھائیں گے اور پوچھیں گے : کس کی عبادت کرتے تھے اور تمہارا نبی کون تھا؟ اگر وہ اﷲ تعالیٰ کے عبادت گزار بندوں میں سے ہوا تو وہ کہے گا :
میں اﷲ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا اور میرے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں جو اﷲ تعالیٰ کی نشانیاں لے کر ہمارے پاس آئے۔ پس ہم ایمان لے آئے اور ہم نے ان کی اتباع کی۔ پس اﷲ تعالیٰ کا یہ فرمان اسی بارے میں ہے : (اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو (اس) مضبوط بات (کی برکت) سے دنیوی زندگی میں بھی ثابت قدم رکھتا ہے اور آخرت میں (بھی)۔) اس سے کہا جائے گا : تو یقین کے ساتھ زندہ رہا اور اسی پر تمہاری موت ہوئی اور اسی پر تم روزِ قیامت اٹھائے جاؤ گے۔ پھر اس کے لئے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے اور اس کی قبر کو کشادہ کر دیا جاتا ہے۔
​​​​​​​ اگر وہ اہلِ شک (منافقین) میں سے ہو تو وہ (ان کے سوالوں کے جواب میں کہتا ہے :) میں نہیں جانتا میں نے لوگوں کو جو کچھ کہتے سنا میں نے بھی وہی کہا۔ اس سے کہا جائے گا : تو شک پر زندہ رہا، اسی پر تمہاری موت ہوئی اور اسی پر روزِ قیامت تمہیں اٹھایا جائے گا۔ پھر اس کے لئے دوزخ کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے، اس پر ایسے بچھو اور سانپ مسلّط کر دئیے جاتے ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی ایک بھی زمین میں پھونک مار دے تو زمین کے تمام نباتات جل کر راکھ ہو جائیں، پھر زمین کو حکم دیا جاتا اور وہ سکڑ جاتی ہے حتی کہ اس کے دونوں پہلو ایک دوسرے میں دھنس جاتے ہیں۔‘‘