11:52 am
 تین سال سے دماغ کے  کینسر میں مبتلا ہوں ،امداد کی جائے ، ظفراقبال

تین سال سے دماغ کے کینسر میں مبتلا ہوں ،امداد کی جائے ، ظفراقبال

11:52 am

تین سال سے دماغ کے کینسر میں مبتلا ہوں ،امداد کی جائے ، ظفراقبال لائن آف کنٹرول چکوٹھی سے تعلق ،صحت کارڈ کی سہولت سے محروم ہوں ہٹیاں بالا(بیووررپورٹ )صحت کارڈ کی سہولت سے محروم لائن آف کنٹرول چکوٹھی کا رہائشی ظفراقبال ولد علی خان تین سال سے دماغ کے خطرناک کینسر میں مبتلا ہے ظفر اقبال کی عمر صرف چھ سال تھی کی کہ شفقت پدری سے محروم ہوگیا اسکی والدہ کینز فاطمہ نے ظفراقبال اور اسکی بہنوں کی پرورش کا ذمہ اٹھایا ،ایک دن اچانک اس کو دورہ پڑا اور بے ہوش ہوگیا اس کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں ضروری ٹیسٹوں کے بعد معلوم ہوا کہ ظفر اقبال کو دماغ کا کینسر ہے یہ خبر اسکے اہل خانہ پر بم بن گئی ہر آنکھ اشکبار تھی اسکی بوڑھی ماں کی ممتا ایک مرتبہ پھر جاگ اٹھی وہ جانتی تھی کہ ظفراقبال واحد کفیل ہے اس نے اپنی زمینوں اور گھر کا ضروری سامان تک فروخت کردیا لیکن ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کے علاج پر 60/70لاکھ روپے خرچ آئے گا اب ان کے پاس علاج کے پاس ہیں نہ سر چھپانے کی جگہ۔ہٹیاں بالا کی ممتاز سماجی شخصحت الحاج ظفراللہ عباسی کے فرزند سردار سعید ظفر عباسی نے انتہائی مہربانی کرتے ہوئے انہیں ایک کمرہ رہائش کے لیے تیار کر کے دیا ہے جس میں ایک گھرانہ رہائش پذیرہے مشکل کی گھڑی میں ظفراقبال کی رشتہ داریوں نے منہ موڑ لیا ہے ظفراقبال کی ایک بیٹی دو بیٹے ایک بوڑھی ماں اور ظفراقبال کی بیوی فاقہ کشی پر مجبور ہیں کوئی پرسان حال نہیں نہ بے نظیر انکم سپورٹ کی مد میں رقم مل رہی ہے اور نہ ہی زکواۃ۔ظلم کی انتہاء یہ ہے کہ صحت کارڈ کی کیٹگری اس بیمار پر نہیں لگتی۔کینز فاطمہ نے اہل ایمان،صاحب جائیداد اور صاحب کردار حضرات سے درخواست کی ہے کہ اسکی مدد کی جائے۔