12:16 pm
 وزیراعظم نابالغ لڑکی  کی شادی بارے تحقیقات کروائیں،عوامی حلقے

وزیراعظم نابالغ لڑکی کی شادی بارے تحقیقات کروائیں،عوامی حلقے

12:16 pm

وزیراعظم نابالغ لڑکی کی شادی بارے تحقیقات کروائیں،عوامی حلقے لڑکی کے والدچوہدری صادق نے کیا با اثر لوگوں کے دبائو میں اپنا بیان بدلا ہٹیاں بالا(بیورورپورٹ )وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کے آبائی حلقہ انتخاب چناری کے نواحی علاقے جسکول کے رہائشی کی قرضہ واپس نہ ملنے کے عوض نابالغ لڑکی سے شادی کا تنازعہ نیا رخ اختیار کر گیا لڑکی کا والد صحافیوں کے سامنے دینے والے بیان سے مکر گیا بیٹی ناہید کی شادی رضا مندی سے کرنے اور اتوار کے روز صحافیوں کو دیئے جانے والابیان گائوں کے بااثر افراد کے دبائو میں آ کر دینے کا انکشاف کر ڈالا ،عوامی حلقوں نے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر،چیف سیکرٹری اور آئی جی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملہ کی اعلی سطحی تحقیقات کے احکامات جاری کریں پہلے کیوں لڑکی کے والد نے ایک موقف اپنایا اور بعد ازاں دوسرا موقف اختیار کیا گیا اگر غریب شخص نے گائوں کے بااثر افراد کے کہنے پر مجبور ہو کر ایسا بیان دیا ہے تو ان با اثر افراد کے خلاف بھی قانون کو حرکت میں آنا چاہیے۔اتوار کے روز ضلعی ہیڈ کوارٹر ہٹیاں بالا کے گائوں ڈمیاں کے رہائشی چوہدری محمد صادق ولد چوہدری اسمائیل نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ اس نے چوہدری عمران ولد چوہدری مقبول ساکنہ جسکول ،حال مقیم کراچی سے ایک لاکھ روپے چند ماہ قبل قرض لیا قرض واپس نہ کرنے پر چوہدری عمران اور دیگر کے دبائو میں آ کر تقریبا پندرہ سالہ اپنی بیٹی ناہید کی شادی چوہدری رمضان ولد محمد مقبول گجر سکنہ جسکول،چناری سے کروانا پڑی ڈمیاں کے رہائشی چوہدری صادق کا بیان میڈیا میں آتے ہی ڈپٹی کمشنر جہلم ویلی راجہ عمران شاہین کی ہدایت پر تھانہ پولیس چناری شادی کی گئی لڑکی،اسکے خاوند اور والد کو تھانہ چناری لے آئی جہاں پر لڑکی کا والد اپنے دیئے گئے بیان سے مکر گیا اور موقف اختیار کیا کہ اس نے اپنی بیٹی کی شادی رضا مندی سے کی ہے جب صحافیوں نے چوہدری صادق سے چند گھنٹوں میں موقف تبدیل کرنے کے بارےمیں پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ غریب آدمی ہے بیٹی کی شادی علاقے کے بعض با اثر لوگوں کی مرضی کے خلاف کی جس کے باعث ان کے دبائو میں آ کر میں نے قرضہ نہ دینے کے عوض بیٹی کا رشتہ زبردستی دینے کی گفتگو کی تھی ہمارے علاقے کے لوگ بااثر ہیں اس لیے ان کی موجودگی میں جھوٹا بیان دینا پڑااب میں پولیس کی موجودگی میں کلمہ طیبہ پڑھ کر حلفا کہتا ہوں کہ میں نے اپنی بیٹی کی شادی رضا مندی سے کی ہے اس میں کسی بھی قسم کا دبائو نہیں تھا بیائی گئی ناہید نے اپنے موقف میں کہا کہ اسکی عمر انیس سال ہے اس نے شادی رضا مندی سے کی ہے کسی بھی قسم کا کوئی دبائو یا زبردستی میرے ساتھ نہیں کی گئی جب لڑکی کی عمر کے حوالہ سے ڈمیاں سکول سے تصدیق کی گئی تو لڑکی کے بیان اور سکول ریکارڈ میں واضع فرق سامنے آیا سکول ریکارڈ کے مطابق ناہید کی تاریخ پیدائش 26نومبر2004ء ہے پندرہ سالہ لڑکی بیاہ کر لے جانے والے نوجوان چوہدری رمضان کی عمر ریکارڈ کے مطابق تقریبا 26سال بنتی ہے نے صحافیوں کو بتایا کہ اس نے شادی زبردستی یا قرضہ واپس نہ ملنے کے عوض نہیں کی ہے میرے سسر علاقے کے بااثر لوگوں کے دبائو میں آ کر غلط بیان دے گئے تھے میں نے شادی باہمی رضا مندی باقائدہ طور پر کی تھی ۔ چوہدری صادق

تازہ ترین خبریں