رات کے وقت موبائل قریب رکھنے کا خوفناک انجام

رات کے وقت موبائل قریب رکھنے کا خوفناک انجام

برمنگھم(ویب ڈیسک ): برطانیہ سے تعلق رکھنے والی 17 لڑکی کو رات کے وقت بستر کے قریب اسمارٹ فون چارج پر لگانا مہنگا پڑ گیا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے علاقے برمنگھم سے تعلق رکھنے والی 17 سالہ ایمی نامی لڑکی ایپل کمپنی کا آئی فون استعمال کرتی تھی۔ انہوں نے بستر کے قریب اپنا موبائل چارجنگ پر لگایا اور سو گئیں کہ اس دوران زور دار دھماکے سے چارجر پھٹ گیا، جس میں سے آگ کا شعلہ بلند ہوا۔ آگ کا شعلہ بلند ہونے کی وجہ سے لڑکی کا چہرہ بائیں طرف سے بری طرح سے جھلس گیا۔ ایمی نے بتایا کہ دھماکے کی آواز سے وہ ہڑ بڑا کر اٹھیں تو آگ کا شعلہ چہرے کی طرف آیا۔ مزید پڑھیں: موبائل چارجنگ کے دوران فون کے استعمال سے لڑکی کی موت، تحقیقات میں نئی کہانی سامنے آ گئی انہوں نے بتایا کہ چارجر پھٹنے کی وجہ سے اٹھنے والی چنگاریوں سے اُن کا چہرہ متاثر ہوا۔ ایمی نے مدد کے لیے اپنی والدہ کو طلب کیا جو بروقت کمرے میں پہنچیں اور آگ کو بجھایا۔ رپورٹ کے مطابق ایمی نے اپنے دوستوں اور دیگر صارفین کو خبردار کیا کہ وہ موبائل کو چارجنگ پر لگا کر نہ چھوڑیں اور اگر ایسا ہو بھی تو اُسے بستر سے دور رکھیں۔

اب تقریری مباحثوں میں کمپیوٹر بھی انسان سے مقابلہ کرے گا

اب تقریری مباحثوں میں کمپیوٹر بھی انسان سے مقابلہ کرے گا

سلیکان ویلی(ویب ڈیسک ): آئی بی ایم میں مصنوعی ذہانت کے ماہرین نے ’’پروجیکٹ ڈیبیٹر‘‘ کے نام سے ایسا خودکار نظام تیار کرلیا ہے جو انسان سے تقریری مقابلہ کرسکتا ہے۔ اگرچہ اب تک کے تجربات میں یہ تقریری مقابلوں میں یہ کسی ماہر انسانی مقرر کو شکست تو نہیں دے سکا ہے لیکن اسے بنانے والوں کو امید ہے کہ کچھ عرصے کی مسلسل تربیت کے بعد ایسا بھی ممکن ہوجائے گا۔ واضح رہے کہ اس نظام پر گزشتہ کئی سال سے کام جاری ہے جبکہ اس کا پہلا عوامی مظاہرہ 2019 میں کیا گیا تھا۔ اس نظام کی مزید تربیت کرکے بہتر بنانے کےلیے ماہرین نے ’’آرگیومنٹ مائننگ‘‘ سے استفادہ کیا، جو ’’نیچرل لینگویج پروسیسنگ‘‘ میں تحقیق کا ایک ذیلی شعبہ ہے۔ آرگیومنٹ مائننگ میں مصنوعی ذہانت (AI) والا کوئی نظام اِدھر اُدھر منتشر معلومات کو یکجا کرتا ہے اور ان کے درمیان ’’منطقی تعلق‘‘ کا پتا لگاتا ہے۔ تحقیقی مجلّے ’’نیچر‘‘ کے ایک حالیہ شمارے میں شائع شدہ مقالے کے مطابق، ۔

نئے ’’خلائی جرثومے‘‘ کا نام حکیم اجمل کے نام پر رکھنے کی تجویز

نئے ’’خلائی جرثومے‘‘ کا نام حکیم اجمل کے نام پر رکھنے کی تجویز

حیدرآباد دکن(ویب ڈیسک ): عالمی خلائی اسٹیشن سے دریافت ہونے والے ایک نئے جرثومے کا نام برصغیر پاک و ہند کے مشہور طبّی ماہر، حکیم اجمل خان کے نام پر رکھنے کی تجویز دے دی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ’’ناسا‘‘ کے ماہرین نے 2011 سے 2016 تک عالمی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) میں مختلف مقامات سے جراثیم (بیکٹیریا) کی چار اقسام حاصل کی تھیں جنہیں مزید تحقیق کےلیے زمین پر لایا گیا۔ بتاتے چلیں کہ یہ خلائی اسٹیشن 408 کلومیٹر بلندی پر رہتے ہوئے زمین کے گرد چکر لگا رہا ہے۔ امریکی اور ہندوستانی ماہرین کی مشترکہ ٹیم نے ان جراثیم کا تفصیلی جینیاتی تجزیہ کرنے کے بعد گزشتہ ہفتے بتایا ہے کہ ان میں سے صرف ایک جرثومہ ایسا ہے جس کے بارے میں ہم پہلے سے جانتے ہیں، جبکہ باقی تین بیکٹیریا پہلی بار دریافت ہوئے ہیں۔ بیکٹیریا کی یہ چاروں اقسام ’’میتھائیلو بیکٹیریاسیائی‘‘ (Methylobacteriaceae) نامی خاندان سے تعلق رکھتی ۔

دماغ سے کمپیوٹر قابو کرنے والا فیس بک کا ڈجیٹل کنگن

دماغ سے کمپیوٹر قابو کرنے والا فیس بک کا ڈجیٹل کنگن

کیلی فورنیا(ویب ڈیسک ): فیس بک نے کہا ہے کہ اس نے کلائی پر باندھے جانے والا ایک پہناوا (ویئرایبل) بنایا ہے جو دماغی سگنل پڑھ کر آگمینٹڈ ریئلٹی کے ماحول میں آپ کو مختلف سہولیات فراہم کرسکتا ہے۔ اس طرح آئی پوڈ جیسا نظام پہن کر دماغی سگنلوں کو پڑھا جاسکتا ہے اور جب آپ کسی منظر میں کوئی ڈجیٹل شے دیکھتے ہیں تو صرف دماغی طور پر سوچنے سے ہی اسے ایک سے دوسری جگہ لے جاسکتے ہیں۔ ڈجیٹل پٹا الیکٹرومائیوگرافی (ای ایم جی) استعمال کرتے ہوئے دماغ سے ہاتھوں تک پہنچنے والے حرکتی (موٹر) اعصاب کو پڑھتا ہے۔ اب تک اس آلے کو کوئی نام نہیں دیا گیا ہے لیکن اس کی بدولت آگمینٹڈ ریئلٹی کی معلومات یا اجزا کو انگلی کے اشارے یا محض سوچنے سے ہی ایک سے دوسری جگہ حرکت دینا ممکن ہوگا۔ آگمینٹڈ ریئلٹی کو یوں سمجھئے کہ آپ ایک مخصوص عینک سے حقیقی منظر کو دیکھ رہے ہیں اور اس میں ڈجیٹل معلومات شامل ہوتی جاتی ہیں۔ اس کی بہترین مثال پوکے مون گیم ہے جو حقیقی مقامات پر ڈجیٹل پوکے مون کردار دکھاتا ہے۔اسی طرح آگمینٹڈ ریئلٹی کسی بھی جگہ اور منظر میں مزید معلومات اور پہلوؤں کا اضافہ کرسکتی ہے۔ تاہم اسے گوگل گلاس، یا کسی ہیڈ اپ ڈسپلے کے ساتھ ہی استعمال کیا جاسکے گا اور فیس بک کے خیال میں ڈجیٹل کنگن اس ضمن میں بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن واضح رہے کہ یہ ٹیکنالوجی فیس بک کی ریئلٹی لیبس میں اب تک تحقیق اور مزید تصدیق کے مراحل میں سے گزررہی ہے۔ اس پر کئی برس سے تحقیق جاری ہے۔ اسی برس نو مارچ میں فیس بک نے خود فیس بک گلاس (عینک) کا اعلان کیا تھا جو آگمینٹڈ ریئلٹی میں استعمال کی جاسکتی ہیں۔ اسی کے ساتھ مخصوص دستانے اور دیگر آلات پر تحقیق کے لیے بھی غیرمعمولی رقم خرچ کی گئی ہے۔

سمندروں کا تحفظ انسانوں کو تین گنا فوائد لوٹا سکتا ہے

سمندروں کا تحفظ انسانوں کو تین گنا فوائد لوٹا سکتا ہے

یوٹاہ(ویب ڈیسک ): سمندر دنیا کے 70 فیصد رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں اور اب دنیا میں تحفظ کے حامل سمندری علاقوں کے مفصل نقشے سے انکشاف ہوا ہے کہ اگرسمندروں کی حفاظت کی جائے تو اس سے نہ صرف آب و ہوا میں تبدیلی کے مسائل حل ہوسکتے ہیں بلکہ عالمی غذا کی فراہمی اور حیاتیاتی تنوع کا بحران بھی ختم کیا جاسکتا ہے۔ اس اہم سروے کی تفصیلات ایک تحقیقی مقالے میں شائع ہوئی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ سمندروں کا سختی سے تحفظ کیا جائے تو صحتمند خوراک کی مسلسل فراہمی یقینی ہوجائے گی، سمندری جانوروں کے مسکن اور ان کی بقا کو فروغ ملے گا اور شاید موسمیاتی تبدیلیوں کا قدرتی حل بھی برآمد ہوسکے گا۔ ہفت روزہ سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ماہرین نے سمندروں میں خاص مقامات کی نشاندہی کی ہے۔ اگر ان کی کڑی نگرانی اور حفاظت کی جائے تو 80 فیصد سمندری حیات کو تحفظ ملے گا، ماہی گیری کی تعداد میں 80 لاکھ میٹرک ٹن کا اضافہ ہوگا، اور سمندری فرش کی ٹرالنگ روکنے سے ایک ارب ٹن تک کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج کم ہوجائے گا۔ کیونکہ سمندری فرش ۔

مغربی مونارک تتلیوں کی آبادی 99 فیصد کم ہوچکی ہے

مغربی مونارک تتلیوں کی آبادی 99 فیصد کم ہوچکی ہے

ایریزونا(ویب ڈیسک ): ویسٹرن بٹرفلائی ایک زمانے میں مشہور تتلیاں ہوا کرتی تھیں اور خیال ہے کہ 1980 کے بعد سے اب تک ہرسال ان کی تعداد میں 1.6 فیصد کم ہورہی ہے۔ بین الاقوامی سائنسی جریدے سائنس میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق 450 مختلف اقسام کی تتلیوں کا سروے کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوا ہے کہ 1980 سے اب تک ویسٹرن مونارک تتلیوں کی آبادی 99.9 کم ہوچکی ہے۔ ’ چند برس قبل مونارک تتلیوں کی آبادی لاکھوں میں تھیں اور اب ان کی کل تعداد 2000 نوٹ کی گئی ہیں،‘ تحقیق میں شامل سائنسداں کیٹی پروڈِک نے کہا جو جامعہ ایریزونا سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے خیال میں ویسٹرن مونارک تتلیاں اب معدومیت کے قریب جاپہنچی ہیں۔ اس کے علاوہ کیبج وائٹ اور دیگر اقسام کی تتلیاں بھی تیزی سے ختم ہورہی ہیں کیونکہ ان کا قدرتی گھر (مسکن) تباہ ہورہا ہے۔ اس کے علاوہ دور تک نقل مکانی کرنے والی ویسٹ کوسٹ لیڈی تتلیاں بھی غائب ہوتی جارہی ہیں۔ اس تحقیق ۔

اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ کے مقابلے میں کاغذی تحریر سے دماغی سرگرمی میں اضافہ

اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ کے مقابلے میں کاغذی تحریر سے دماغی سرگرمی میں اضافہ

ٹوکیو(ویب ڈیسک ): جاپانی ماہرین نے ایک تجربے کے بعد کہا ہے کہ فون اور ٹیبلٹ پر ٹائپنگ کے مقابلے پر کاغذ پر لکھنے کا عمل یادداشت پر قدرے گہرا اثر ڈالتا ہے کیونکہ عملِ تحریر پیچیدہ، انوکھا اور حسی لحاظ سے بھرپور ہوتا ہے۔ جامعہ ٹوکیو کے پروفیسر کونیوشی سیکائی کہتے ہیں کہ برقی دستاویز کے مقابلے میں کاغذ پر قلم سے لکھنے کا عمل بہت پیچیدہ ہے اور اس سے لکھی معلومات یادداشت کو مضبوط بناتی ہے۔ وہ دماغی ماہر ہیں اور انہوں نے رضاکاروں کی مدد سے اس تصور کو واضح کیا ہے۔ اس تجربے میں ڈجیٹل پین (اسٹائلس) سے ای پلیٹ فارم اور ٹیبلٹ پر لکھوایا گیا اور کچھ افراد نے کاغذ پر قلم دوڑایا۔ دیکھا گیا کہ ٹیبلٹ وغیرہ پر لکھتے وقت قوت نہیں لگتی اور اسے بند کرتے ہی تحریر غائب ہوجاتی ہے۔ جبکہ کاغذ پر پین سے لکھنے پر ایک احساس ہوتا ہے، قوت لگتی ہے اور الفاظ اپنے انداز سے لکھے جاسکتے ہیں۔ اب ماہرین کا مشورہ ہے کہ تعلیم گاہوں میں کاغذی نوٹ 

انسان نما روبوٹ کے تیارکردہ ڈجیٹل فن پارے نیلامی کے لیے تیار

انسان نما روبوٹ کے تیارکردہ ڈجیٹل فن پارے نیلامی کے لیے تیار

ہانگ کانگ(ویب ڈیسک ): انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک روبوٹ، مشہور مصوراور سافٹ ویئر کےملاپ سے فنِ مصوری کے شاہکار تخلیق کئے گئے ہیں جواب نیلام کئے جائیں گے۔ یہ پینٹنگز مشہور خاتون روبوٹ صوفیہ نے تیار کی ہیں جن کی تیاری میں انسانی مصور نے بھی مدد کی ہے۔ ہانگ کانگ کی ہینسن روبوٹکس ہیومونائڈ کمپنی نے اس ڈجیٹل مصوری کو نان فنجیبل ٹوکن ( این ایف ٹی) کا نام دیا گیا ہے۔ این ایف ٹی ڈجیٹل نوادرات کا ایک نیا رحجان ہے جسے بلاک چین کی مدد سے تیار کیا جاتا ہے اور ان کی نقل نہیں کی جاسکتی۔ اس طرح ایف ایف ٹی کی خریداری کا رحجان تیزی سے بڑھ رہا ہے اور لوگ اس میں سرمایہ کاری بھی کررہے ہیں۔ تاہم اس کی تیاری میں انسانی فن کار اور مصنوعی ذہانت (آرٹی فیشل انٹیلی جنس) کا بھی کردار ہے۔ واضح رہے کہ صوفیہ روبوٹ بات بھی کرتی ہے اور اس نے اپنی مصوری پر رائے بھی دی ہے۔ ’ مجھے امید ہے کہ لوگ انسانوں کی مدد سے تیار کردہ میرے کام کو سراہیں گے اور میں مزید نئے طریقوں سے اس کام میں شریک رہوں گی،‘ صوفیہ نے اسٹوڈیو میں اپنی مخصوص میکانکی آواز میں بتایا جو 2016 میں ۔

مقناطیس بردار سیٹلائٹ سے خلائی کچرے کی صفائی

مقناطیس بردار سیٹلائٹ سے خلائی کچرے کی صفائی

ٹوکیو(ویب ڈیسک ): گزشتہ 70 برس سے خلا میں جانے والے راکٹ، ناکارہ سیٹلائٹ اور دیگرخلائی حادثات سے اتنا خلائی کاٹھ کباڑ جمع ہوچکا ہے کہ وہ زمین کے گرد مسلسل مدار میں خطرناک انداز میں گردش کررہا ہے اور اب اسے تلف کرنے کے لیے جاپان نے ایک سیٹلائٹ بنایا ہے جو 20 مارچ کو خلا میں بھیجا جائے گا۔ ایسٹرواسکیل کمپنی کے سیٹلائٹ کا نام ’ اینڈ آف لائف سروسز(ایلسا ڈی)‘ رکھا گیا ہے۔ واضح رہے کہ مدار میں گردش کرتا ہوا کوڑا کرکٹ نہ صرف مزید خلائی مشن کے لیے ایک رکاوٹ بن چکا ہے بلکہ اس کی زد میں آنے والا خلائی اسٹیشن بھی کسی حادثے کا شکار ہوسکتا ہے۔ خلائی کچرے کے لاکھوں کروڑوں ٹکڑے مدار میں بہت تیزی سے سفر کرتے ہیں اور وہ باہر موجود خلانورد کو بھی نقصان پہنچاسکتے ہیں۔ حقیقت میں یہ سیٹلایٹ دو حصوں میں تقسیم ہے یعنی ایک چھوٹا سیٹلائٹ ہے اور ایک بڑا سیٹلائٹ جسے ’چیزر‘ کہا گیا ہے۔ چھوٹے سیٹلائٹ میں ایک مقناطیسی پلیٹ لگی ہے جس کے ذریعے وہ بڑے سیٹلائٹ سے الگ ہوسکتا ہے اور جڑ سکتا ہے۔ لیکن پہلے سیٹلائٹ جوڑے کو کئی ٹیسٹ سے گزارا جائے گا۔ پہلے مدار میں رہتے ہوئے چھوٹا ۔

لیمور پھلوں کی خوشبو 50 فٹ دور سے سونگھ لیتے ہیں، تحقیق

لیمور پھلوں کی خوشبو 50 فٹ دور سے سونگھ لیتے ہیں، تحقیق

فلوریڈا(ویب ڈیسک ): لیمور اگرچہ بوزنوں کی نسل سے ہوتے ہیں لیکن وہ پھلوں کی خوشبو سونگھنے میں غیر معمولی طور پر چالاک ہوتےہیں، اب تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وہ 50 فٹ کی دوری سے پھلوں کی خوشبو محسوس کرلیتے ہیں۔ فلوریڈا میں واقع لیمور فاؤنڈیشن نے ایک تجربے کے بعد بتایا کہ انہوں نے ایک ڈبے میں خربوزے چھپا کر رکھے تھے جسے لیمور نے ڈھونڈ نکالا لیکن یہ اس صورت میں ممکن ہوتا ہے جب پھل کی بو لے کر ہوا کا رخ ان کی طرف پہنچ رہا ہو۔ اس تجربے کی روحِ رواں، مالیکیولر پیتھوبائیلوجی کی پروفیسر ایلینا کننگھم کہتی ہیں کہ پہلی مرتبہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ بوزنے (پرائمیٹس) بہت دور سے مخصوص بو سونگھ سکتے ہیں، اگرچہ یہ خاصیت کئی جانوروں میں پائی جاتی ہیں لیکن لیمور پر اس سے قبل تحقیق نہیں ہوئی تھی۔ پٹیوں والی دموں کے مالک لیمور گھنے جنگلات میں رہتے ہوئے کئی طرح کے پھل اور پتے کھاتے ہیں۔ گھنے جنگلات میں وہ دور ۔

کڑکتی بجلی کی وجہ سے زمین پر زندگی کی ابتداء ہوئی... شاید!

کڑکتی بجلی کی وجہ سے زمین پر زندگی کی ابتداء ہوئی... شاید!

نیویارک(ویب ڈیسک ): آج سے اربوں سال قبل برقی شراروں نے زمین پر فاسفورس کی مقدار بڑھائی تھی جس سے حیات کےلیے ابتدائی سامان پیدا ہوا تھا۔ ایک نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کڑکتی ہوئی بجلی سے زمین پر زندگی کے لیے لازمی اجزا بکھیرے تھے اور اس کے بعد حیات پیچیدہ ہوتی چلی گئی تھی۔ یہ تحقیق ییل یونیورسٹی کے شعبہ ارضیات کے طالبعلم بنجامن ہیس نے کی ہے جو ان کی پی ایچ ڈی مقالے کا مرکزی حصہ بھی ہے۔ بنجامن ہیس کہتے ہیں کہ زندگی کی گاڑی چلانے کے لیے فاسفورس ایک اہم عنصر ہے۔ لیکن اربوں سال تک یہ زمین پر عام دستیاب نہ تھا اور زمین کی غیرحل پذیر معدنیات میں کہیں پھنسا ہوا تھا۔ اس تحقیق میں ماہرین نے زور دے کر کہا ہے کہ آخر ایسا کب اور کیونکر ہوا جب زمین پر فاسفورس مفید اور قابلِ عمل بنا اور یوں اس نے زندگی کے بنیادی ترین اجز مثلاً ڈی این اے ، آر این اے اور دیگر حیاتی سالمات کی بنیادی اینٹ کا روپ دھارا۔ پہلے انہوں ۔

فائیو جی ٹیکنالوجی سے انسانی صحت کو کوئی خطرہ نہیں، رپورٹ

فائیو جی ٹیکنالوجی سے انسانی صحت کو کوئی خطرہ نہیں، رپورٹ

سڈنی(ویب ڈیسک ):اب تک کی سب سے بڑی سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ موبائل کمیونی کیشن کی جدید ٹیکنالوجی ’’فائیو جی‘‘ انسانی صحت کےلیے بالکل محفوظ ہے۔ اس سلسلے میں دو الگ الگ جائزے لیے گئے جن میں 6 گیگاہرٹز یا اس سے زیادہ فریکوئنسی والی ریڈیو لہروں (ملی میٹر ویوز) کی کم مقدار سے انسانی صحت کےلیے ممکنہ خطرات کے حوالے سے 138 سابقہ مطالعات اور 100 سے زائد تجربات کا نئے سرے سے تجزیہ کیا گیا۔ جائزے کا کام ’’آسٹریلین ریڈی ایشن پروٹیکشن اینڈ نیوکلیئر سیفٹی ایجنسی‘‘ (ARPANSA) اور سوئنبرن یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں ماہرین کی ٹیموں نے مشترکہ طور پر انجام دیا۔ واضح رہے کہ فائیو جی (5G) ٹیکنالوجی کو موبائل کمیونی کیشن کی ’’اگلی نسل‘‘ بھی کہا جاتا ہے جس میں 28 گیگاہرٹز سے 39 گیگاہرٹز فریکوئنسی تک کی ریڈیو لہریں استعمال کی جاتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ مطالعہ اب تک فائیو جی ٹیکنالوجی اور انسانی صحت میں تعلق کے حوالے سے کیا گیا سب سے بڑا مطالعہ ہے لیکن اس ضمن میں تحقیق کا سلسلہ جاری رہے گا۔ 6 گیگا ہرٹز یا اس سے زیادہ فریکوئنسی والی ریڈیو ۔

یہ لیبل دکھائی نہیں دیتے لیکن جعلسازی سے بچاتے ہیں

یہ لیبل دکھائی نہیں دیتے لیکن جعلسازی سے بچاتے ہیں

سینٹ پیٹرزبرگ(ویب ڈیسک ):روس کی آئی ٹی ایم او یونیورسٹی میں ماہرین کی ایک ٹیم نے ایسے لیبل ایجاد کرلیے ہیں جو نظر نہیں آتے لیکن انہیں ایک خاص اسکینر کی مدد سے دیکھا اور جانچا جاسکتا ہے۔ آج کل ’’نقالوں سے ہوشیار‘‘ کرنے والے ہولوگرافک اسٹیکرز اور لیبلز بہت عام ہوچکے ہیں لیکن وہ سب کے سب دکھائی دیتے ہیں۔ لہٰذا کوئی بھی جعلساز انہیں دیکھ کر ان کی ہوبہو نقل تیار کرکے صارفین کو دھوکا دے کر اصل کمپنی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ’’نادیدہ‘‘ لیبل تیار کرنے کےلیے ماہرین نے سلیکان پر مشتمل انتہائی باریک فلم استعمال کی، جو بالکل شفاف ہوتی ہے۔ اگلے مرحلے پر اس فلم میں باریک باریک چھید کردیئے گئے جن میں سے چند سوراخوں کے اندر، ایک خاص ترتیب سے، اربیئم نامی ایک نایاب عنصر کے ذرّات بھر دیئے گئے جبکہ باقی سوراخ خالی رکھے گئے۔ اس طرح ایک غیر مرئی لیبل تیار ہوگیا۔ اس لیبل پر ایک مخصوص نظام سے منسلک اسکینر کے ذریعے لیزر ڈالی جاتی ہے جس سے ان سوراخوں میں موجود اربیئم کے ذرّات ایک منفرد رنگ سے روشن ہوجاتے ہیں۔ یوں ایک شناختی نمونہ (پیٹرن) بن جاتا ہے جس کے فوری اور خودکار موازنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کا تعلق کس کمپنی سے ہے۔ لیبل چونکہ غیر مرئی ہوتا ہے اور صرف مخصوص لیزر ڈالنے پر ہی دکھائی دیتا ہے، لہذا جعلسازوں کےلیے بھی اس کی نقل تیار کرنا بہت مشکل ثابت ہوگا۔ اس ایجاد کی تفصیل آن لائن ریسرچ جرنل ’’ایڈوانسڈ مٹیریلز‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہے۔

نشاناتِ انگشت کے نیچے انگلیوں کو حساس بنانے والے اعصاب دریافت

نشاناتِ انگشت کے نیچے انگلیوں کو حساس بنانے والے اعصاب دریافت

سویڈنن (ویب ڈیسک ):ہماری انگلیوں پر نشانات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ چیزوں پر گرفت کرنے میں مدد دیتے ہیں اور ارتقائی عمل کے تحت ایسا ہی ہوا ہے لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ انہی میں ان اعصاب کے سرے ہوتے ہیں جو ہمارے لمس کو اتنا حساس بناتے ہیں کہ ہم معمولی گرمی، ٹھنڈک، نرمی اور سختی محسوس کرلیتے ہیں۔ سویڈن کی اومیا یونیورسٹی کی سائنسداں ڈاکٹر اویا جیروکا کہتی ہیں کہ فنگرپرنٹ ہمیں ہروہ معلومات کی تفصیل دیتے ہیں جو چھونے کے عمل سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ جیروکا نے بتایا کہ اس سے قبل عام تاثر یہی تھا کہ نشاناتِ انگشت کسی شے کو تھامنے کے لیے ارتقائی عمل سے پیدا ہوئے ہیں۔ مثلاً اس کے ابھار اور ڈیزائن ہماری انگلیوں سے قلم پھسلنے سے روکتے ہیں۔ لیکن دیگر سائنسدانوں کا خیال تھا کہ یہ یہ چھونے کے احساس کو مزید بہتر اور مؤثر بناتے ہیں۔ جیروکا کہتی ہیں کہ بعض افراد کی انگلیوں کے پوروں میں اعلیٰ درجے کی حساسیت ہوتی ہے اور ۔

ویزا چاہئیے تو ہماری ویکیسن لگوائیے۔۔ پاکستانیوں کے پاس چین کا ویزا حاصل کرنے کا زبردست موقع

ویزا چاہئیے تو ہماری ویکیسن لگوائیے۔۔ پاکستانیوں کے پاس چین کا ویزا حاصل کرنے کا زبردست موقع

اسلام آباد (ویب ڈیسک ): چین نے اپنی ویکیسن لگوانے والے غیر ملکیوں کو ایک سال کی بندش کے بعد ویزے جاری کرنے اور کورونا کے تناظر میں عائد پابندیوں میں نرمی کا فیصلہ کیا ہے۔چین نے کہا ہے کہ جو افراد چین کی بنی ہوئی کورونا ویکیسن لگائیں گے صرف وہی ملک میں داخل ہو سکیں گے۔ رپورٹ کے مطابق چین نے اپنی تیار کردہ ویکیسن لگوانے والے ممالک جن میں پاکستان ، امریکا اور بھارت شامل ہیں، کے شہروں کو ایک سال کی بندش کے بعد ویزے جاری کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکا میں چینی سفارت خانے کا کہنا تھا کہ چین کی کورونا ویکیسن لگانے والے افراد کو ویزا جاری کرنے کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔چین کے سفارت خانے کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کا اطلاق ان تمام افراد پر ہو گا جنہوں نے ویزے کے لیے درخواست دینے سے دو ہفتے قبل ویکسین کی ایک یا دو خواراکیں لگوائیں ہیں۔ پاکستان ،بھارت فلپائن ، اٹلی اور سری لنکا سمیت دیگر ممالک میں قائم چینی ۔

بھارت میں کرپٹوکرنسی پر پابندی اور سزا کیلئے قانون سازی

بھارت میں کرپٹوکرنسی پر پابندی اور سزا کیلئے قانون سازی

نئی دہلی(ویب ڈیسک ): بھارت کرپٹوکرنسی پر پابندی اور ٹریڈنگ کرنے والوں پر جرمانہ عائد کرنے کے حوالے سے سخت ترین قانون سازی کرنے جا رہا ہے۔ اس قانون کے بارے میں معلومات رکھنے والے ایک سینئر حکومتی عہدیدار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ 'دنیا کے سخت ترین اس قانون' کے تحت کرپٹو کرنسی کی ٹریڈنگ، مائننگ اور منتقلی کو قابل سزا جرم قرار دیا جائے گا۔ یہ اقدام حکومت کے جنوری کے سرکاری ایجنڈے کی ایک کڑی ہے جس میں بٹ کوائن جیسی نجی ورچوئل کرنسیوں پر پابندی عائد کرنے اور سرکاری ڈیجیٹل کرنسی لانے کے لیے ایک فریم ورک بنانے کا کہا گیا ہے۔ مذکورہ حکومتی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس بل میں کرپٹو کرنسی رکھنے والے افراد کو کرنسی تبدیل کرنے کے لیے 6 ماہ تک کا وقت دیا جائے گا جس کے بعد ان پر جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ بل پارلیمنٹ سے باآسانی منظور ہوجائے گا کیونکہ وہاں وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت کی واضح اکثریت ہے۔ اگر کرپٹوکرنسی پر پابندی قانون بن جاتا ہے تو بھارت پہلی بڑی معیشت ہوگی جو کرپٹوکرنسی کو غیر قانونی قرار دے گی۔ چین نے بھی ڈیجیٹل کرنسی کی ٹریڈنگ اور مائننگ پر پابندی عائد کر رکھی ہے مگر وہاں کرپٹو کرنسی رکھنے والے افراد کے لیے کوئی سزا موجود نہیں ہے۔ یاد رہے کہ دنیا کی معروف ترین کرپٹو کرنسی بٹ کوائن اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ کی ہے اور ایک بٹ کوائن اس وقت 60 ہزار ڈالر کے تک پہنچ چکا ہے۔

 اب اسمارٹ فون پاکستان میں بنیں گے، 3 کمپنیوں کا پلانٹس لگانے کا اعلان

اب اسمارٹ فون پاکستان میں بنیں گے، 3 کمپنیوں کا پلانٹس لگانے کا اعلان

اسلام آباد(ویب ڈیسک): وفاقی حکومت کی موبائل فونز سے متعلق نئی پالیسی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے تین نئی کمپنیوں نے ملک بھر میں اسمارٹ فونز بنانے کی فیکٹریاں قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی کے مطابق ملک میں تین نئی کمپنیاں اسمارٹ فون مینو فیکچرنگ پلانٹ لگائیں گی۔ ان میں سے ایک چینی کمپنی ہے جو فیصل آباد، لاہور اور کراچی میں موبائل فون بنانے کا پلانٹ قائم کرنا چاہتی ہے جس سے روز گار کے مواقع پیدا ہوں گے اور موبائل ٹیکنالوجی کو فروغ ملے گا۔ اس حوالے سے پی ٹی اے کا مزید کہنا ہے کہ سال 2019 میں پی ٹی اے کے ڈیوائس آئی ڈینٹی فکیشن، رجسٹریشن اور بلاکنگ سسٹم (ڈی آئی آر بی ایس) کے نفاذ کے بعد موبائل ڈیوائسز کی قانونی طور پر درآمد میں نمایاں اضافہ کے ساتھ ساتھ پاکستان میں موبائل ڈیوائسز کی مقامی سطح پر تیاری کے 33 سے زائد پلانٹس قائم ہوئے ہیں۔ اس نظام کے نفاذ کے بعد ان پلانٹس کے ذریعے 2 کروڑ 50لاکھ سے زیادہ موبائل ڈیوائسز تیار کیں گئیں جن میں فور جی سمارٹ فون بھی شامل ہیں۔ ڈی آئی آر بی ایس کے کامیابی سے نفاذ کے بعد مقامی سطح پر موبائل فون کی تیاری کے شعبے بالخصوص اسمارٹ فون کی تیاری میں خاطر خواہ ترقی دیکھنے میں آئی اور سال 2019 میں صرف ایک لاکھ 19 ہزار 639 اسمارٹ فونز مقامی سطح پر تیار کئے گئے۔

نوزائیدہ بچوں میں یرقان کا پتا لگانے والا دنیا کا پہلا سسٹم

نوزائیدہ بچوں میں یرقان کا پتا لگانے والا دنیا کا پہلا سسٹم

ٹوکیو(ویب ڈیسک ): عموماً پیدائشی بچوں کی اکثریت کسی نہ کسی درجے کے یرقان (جونڈائس) کی شکار ہوجاتی ہے۔ اب فوری طور پر تشخیص کے لیے استعمال میں آسان آلہ بنایا گیا ہے۔ ساتھ یہ نظام بچوں کی دیگر جسمانی کیفیات پر بھی نظررکھتا ہے۔ اس آلے کو پہنا جاسکتا ہے جو اپنی نوعیت کا پہلا ویئرایبل بھی ہے۔ پیدائشی بچوں کی اکثریت کے خون میں بلِی ریوبن کی سطح بڑھنے سے بچے کی رنگت پیلی پڑجاتی ہے۔ معاملہ بگڑنے پر بچے کی جان پر بھی بن آتی ہے اور عموماً دماغ متاثر ہوتا ہے۔ اگرپیدائشی بچے کو یرقان ہوجائے تو دھوپ میں بٹھانے یا پھر نیلی روشنی سے جسم کا بلی ریوبِن بکھرجاتا ہے اور پیشاب کے راستے خارج ہوجاتا ہے۔ لیکن نیلی روشنی کی درست مقداربرقراررکھنا ایک مشکل عمل ہوتا ہے۔ اسی لیے اب اس آلے سے بلی ریوبن کی ہمہ وقت درست پیمائش کی جاسکتی ہے۔ دنیا کے پہلے پہنے جانے والے سینسر کی بدولت خون میں آکسیجن کی مقدار اور نبض بھی ناپی جاسکتی ہے۔ ۔

نیا واٹس ایپ فیچر مزید صارفین کی پہنچ میں، کیا آپ بھی شامل ہیں؟

نیا واٹس ایپ فیچر مزید صارفین کی پہنچ میں، کیا آپ بھی شامل ہیں؟

واٹس ایپ نے اپنے ویب ورژن کے بیٹا میں آڈیو اور ویڈیو کال کا فیچر مزید صارفین کو بھی فراہم کردیا ہے۔ ویب بیٹا انفو نامی اکاؤنٹ نے ٹوئٹر پر ایک پوسٹ کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ واٹس ایپ نے مزید صارفین کے لیے ویب اور ڈیسک ٹاپ پر آڈیو ویڈیو کال کی سہولت متعارف کروادی ہے۔ ٹوئٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ فیچر آج نئی ریلیز کے ساتھ فراہم کیا جائے گا مگر تمام صارفین تک رسائی کے لیے واٹس ایپ مزید کچھ وقت لے گا۔ واضح رہے کہ بڑے پیمانے پر استعمال کی جانے والی میسنجنگ ایپ واٹس ایپ نے گزشتہ برس اعلان کیا تھا کہ وہ آئندہ برس براؤزر اور ڈیسک ٹاپ صارفین کے لیے آڈیو اور ویڈیو کال فیچر متعارف کروانے جا رہا ہے۔ اس سے قبل یہ بیٹا فیچر تھا جس تک رسائی چند صارفین تک کو ہی حاصل تھی۔ خیال رہے کہ اس فیچر کے ذریعے صارفین اسمارٹ فون کی طرح ڈیسک ٹاپ پی سی یالیپ ٹاپ پر بھی کال موصول کر سکیں گے۔

پھلوں کی تازگی اب لیزر پلازمہ سے معلوم کیجئے

پھلوں کی تازگی اب لیزر پلازمہ سے معلوم کیجئے

ٹوکیو: کسان سے لے کر خریدار تک کسی بھی پھل کی تازگی کی تصدیق ایک مشکل عمل ہوتا ہے۔ لیکن اب جاپان میں شائبورا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایس آئی ٹی) نے بالخصوص آم کی تازگی معلوم کرنے کا جدید ترین سسٹم تیار کیا ہے۔ اس عمل میں پھل کو چھوئے اور نقصان پہنچائے بغیر اس کی نرمی کا جائزہ لیا جاتا ہے جو آم میں تازگی ناپنے کا ایک اہم طریقہ ہوتا ہے۔ جبکہ آم میں سختی کچے پن اور مزید نرمی اس کے پرانے ہونے کی علامت ہوتی ہے۔ لیکن پیکنگ سے گزرنے والے سینکڑوں، ہزاروں آموں میں سے ہر ایک کی نرمی یا سختی ناپنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے لیے لیزر اور پلازما کی شاک ویوز (صدماتی امواج) کو استعمال کیا جاسکتا ہے جو بہت تیزی سے ہزاروں بلکہ لاکھوں پھلوں کی تازگی کی تصدیق یا تردید کرسکتی ہے۔ اس عمل میں نظام کا کوئی حصہ پھلوں کو نہیں چھوتا بلکہ لیزر سے آموں کی سطح پر پلازمہ کا ایک بلبلہ بن جاتا ہے۔ جیسے ہی یہ بلبلہ پھیلتا ہے تو صدماتی امواج پیدا ہوکر پورے پھل پر پھیل جاتی ہیں۔ اب یہاں ایک آلہ لیزر ڈوپلر وائبرومیٹر ( ایل ڈی وی) ارتعاشات سے بتاتا ہے کہ پھل کتنا نرم ہے یا کس درجے پر سخت ہے۔ اس سے قبل ایس آئی ٹی کو سیب اور ایواکیڈو پر آزمایا گیا ہے لیکن آموں جیسے پھلوں کے لیے ان کا استعمال قدرے مشکل تھا۔ اب ماہرین نے تازہ آموں کی تصدیق کے لیے ایک خاص قسم کی امواج کا انتخاب کیا ہے جسے ریلی ویوز کہا جاتا ہے۔ اس عمل کے ذریعے تازہ آموں کی تصدیق بہت آسان ہوجائے گی اور چند منٹوں میں ہزاروں آموں کا جائزہ لینا ممکن ہوگا۔

سمندر کی 11 ہزار میٹر گہرائی میں پہنچنے والا ’’نرم‘‘ اور خودکار روبوٹ

سمندر کی 11 ہزار میٹر گہرائی میں پہنچنے والا ’’نرم‘‘ اور خودکار روبوٹ

بیجنگ: چینی سائنسدانوں نے سمندر کی انتہائی گہرائی میں تحقیق کےلیے ایسا خودکار روبوٹ تیار کرلیا ہے جو بہت نرم ہونے کے علاوہ آزادانہ انداز میں تیر بھی سکتا ہے۔ حالیہ تجربات کے دوران اس روبوٹ کو سمندر کے سب سے گہرے مقام ’’ماریانا ٹرینچ‘‘ میں تیرا کر آزمایا گیا ہے۔ یہ مقام 10,900 میٹر (تقریباً 11 ہزار میٹر) گہرائی میں واقع ہے۔ قبل ازیں ابتدائی تجربات میں اسے بحیرہ جنوبی چین کی 3,224 میٹر گہرائی میں کامیابی سے تیرایا گیا تھا۔ بتاتے چلیں کہ ہم جیسے جیسے سمندر کی گہرائی میں اترتے جاتے ہیں، ویسے ویسے پانی کا دباؤ بھی بڑھتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ماریانا ٹرینچ کی گہرائی میں یہ زمینی سطح پر ہوا کے دباؤ (کرہ ہوائی کے معیاری دباؤ) سے 1,071 گنا زیادہ ہوجاتا ہے۔ یہ دباؤ اتنا زیادہ ہے کہ جس پر انسان تو کیا، سطح زمین پر رہنے والا کوئی بھی جانور زندہ نہیں رہ سکتا۔ اس کے باوجود، اب تک کی چند ایک تحقیقی مہمات کے دوران سمندر کی ان گہرائیوں میں کئی طرح کے جاندار دریافت ہوچکے ہیں جو سطح زمین پر پائے جانے والے جانوروں اور پودوں کے مقابلے میں خاصے مختلف بھی

نئے فیچر کی آزمائش کے دوران انسٹاگرام ایپ میں خرابی سامنے آگئی

نئے فیچر کی آزمائش کے دوران انسٹاگرام ایپ میں خرابی سامنے آگئی

فیس بک کی زیر ملکیت ایپ انسٹاگرام وقت کے ساتھ ساتھ ایپ میں نئے فیچرز کی آزمائش کرتی آ رہی ہےاور کسی بھی فیچر کو دنیا بھر میں لانچ کرنے سے قبل اس کی آزمائش محدود صارفین پر ہی کی جاتی ہے۔ حال ہی میں انسٹاگرام ایپ اپنے ایک نئے فیچر کی آزمائش ہی کر رہی تھی جس دوران ایپ میں خرابی دیکھنے میں آگئی اور یہ آزمائش محدود صارفین کے بجائے بے شمار صارفین کے اکاؤنٹس میں ہونا شروع ہو گئی۔ انسٹاگرام ایپ کی پوسٹوں پر لائیکس کی تعداد چھپانے کی آزمائش کر رہی تھی اور اس دوران خرابی کی وجہ سے متعدد صارفین کی پوسٹوں پر لائیکس کی تعداد چھپ گئی۔ بعد ازاں کمپنی کی جانب سے بیان جاری کیا گیا کہ ایسا غیر ارادی طور پر ہوا ہے جسے ہم جلد ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور جلد از جلد صارفین کو ان کی پوسٹوں کے لائیکس واپس نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔ خیال رہے کہ انسٹاگرام نے سال 2019 سے لائیکس کو پوشیدہ رکھنے کے فیچر کی آزمائش کا آغاز کیا تھا۔ انسٹاگرام لائیکس کی تعداد پوشیدہ رکھ کر کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے؟ کمپنی کا کہنا تھا کہ لائیکس کی تعداد کو پوشیدہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انسٹاگرام پر آپ کے فالورز کی نظر اس بات پر زیادہ ہو کہ آپ نے کیا شیئر کیا ہے، نہ کہ اس بات پر کی آپ کی پوسٹ پر کتنے لائیکس آرہے ہیں۔ کمپنی نے واضح کیا تھا کہ اس تبدیلی کا بنیادی مقصد صارفین کو اس دباؤ سے نکالنا ہے کہ ان کی پوسٹ پر کتنے لائیکس ہیں جب کہ لائیکس کی تعداد کو بنیاد بناکر ایک دوسرے سے موازنہ کرنے کی وجہ سے بھی یہ تجربہ کیاجارہا ہے۔

اسمارٹ فون دنیا بھر کی نیند برباد کررہے ہیں

اسمارٹ فون دنیا بھر کی نیند برباد کررہے ہیں

لندن (نیوز ڈیسک) : ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پوری دنیا میں بالخصوص نوجوانوں کی نیند کی بربادی کی اہم وجہ اسمارٹ فون ہیں جو بستر میں ہمارے ساتھ رہتے ہیں۔ منگل کو فرنٹیئرزان سائیکائٹری میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کنگز کالج لندن کے 1043 طلبا و طالبات کا سروے شائع ہوا ہے۔ اس میں آن لائن اور شخصی طور پر ان میں اسمارٹ فون استعمال کے عادات اور نیند کے معیار پر بات کی گئی تھی۔ دس سوالات سے ایک معیار اخذ کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ طالبعلم اسمارٹ فون کی کتنے عادی ہیں۔ اس پیمانے پر 40 فیصد افراد اسمارٹ فون کی شدید لت میں مبتلا پائے گئے۔ یہ اعدادوشمار پہلے کے مشاہدات کے عین مطابق بھی تھی۔ ان میں سے کئی افراد نے کہا کہ وہ رات ایک بجے کے بعد تک اسمارٹ فون استعمال کرتے رہتے ہیں جس سے بے خوابی کا خطرہ تین گنا تک بڑھ جاتا ہے۔ جن جن طلباوطالبات نے اسمارٹ فون رات دیر تک استعمال کرنے کا اعتراف کیا ان میں نیند کا مسئلہ سب سے شدید دیکھا گیا۔ ان کی نیند کا دورانیہ بہت خراب تھا۔ وہ نیند کم ۔

ٹڈے کےکان سے روبوٹ کی سماعت کا پہلا کامیاب تجربہ

ٹڈے کےکان سے روبوٹ کی سماعت کا پہلا کامیاب تجربہ

تل ابیب(ویب ڈیسک ): دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا اور دلچسپ تجربہ کیا گیا ہے جس میں مردہ ٹڈے کے کان کو استعمال کرتے ہوئے ایک روبوٹ کو سماعت کے قابل بنایا گیا ہے۔ تل ابیب یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اس دلچسپ تجربے میں ٹڈے کا کان باقاعدہ روبوٹ سے جوڑا ہے جہاں سماعت کے برقی سگنل روبوٹ تک پہنچے اور اس میں کامیابی بھی ہوئی ہے۔ اس کے بہت دلچسپ نتائج برآمد ہوئے جب کسی نے ایک تالی بجائی تو پہلے وہ جانور کے کان تک پہنچی اور اس کے برقی سگنل روبوٹ تک گئے تووہ آگے کی جانب بڑھا اور دو تالی بجانے پر الٹی جانب حرکت کرنے لگا۔ اس میں کئی اداروں کے سائنسدانوں اور انجینیئروں نے تحقیق کی ہے جس کی تفصیل سینسرز نامی جرنل میں چھپی ہے۔ اس کا مقصد حیاتیاتی نظام کو الیکٹرانکس سے جوڑنا تھا۔ اس طرح مردہ ٹڈے کی حس کو روبوٹ کی سماعت میں بدلا گیا۔ تکنیکی طور پر یہ تجربہ قدرے آسان تھا کیونکہ خوشبو سونگھنے کا عمل برقی طور پر انجام دینا مشکل ہوتا ہے۔ ۔

معروف گاڑی ساز کمپنی نے نئے لائحہ عمل کا اعلان کردیا

معروف گاڑی ساز کمپنی نے نئے لائحہ عمل کا اعلان کردیا

ٹوکیو (ویب ڈیسک ): جاپان کی معروف گاڑی ساز کمپنی “ٹویوٹا” موٹر ماحول دوست گاڑیوں کی تیاری کی جانب منتقل ہوتی دیگر کمپنیوں کو ہائیڈروجن سے چلنے والی گاڑیوں کی اپنی ٹیکنالوجی فروخت کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ یہ بڑی گاڑی ساز کمپنی اپنی مِیرائی نامی سیڈان کار کے لیے وضع کردہ ڈبے کی شکل کا ماڈل فروخت کے لیے پیش کرے گی جس میں فیول سیل شامل ہوں گے۔ ایندھن کے یہ سیل، ہائیڈروجن اور آکسیجن استعمال کرتے ہیں اور ان سے دھوئیں کے بجائے صرف پانی کا اخراج ہوتا ہے۔ ٹویوٹا ترجمان کے مطابق مذکورہ ٹیکنالوجی کی فروخت کا آغاز موسم بہار سے ہوسکتا ہے، اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ٹرک، بسوں اور ٹرینوں کو چلانے کے علاوہ اسے بجلی پیدا کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جاپان مستقبل کے ایندھن کے طور پر ہائیڈروجن کو فروغ دے رہا ہے۔ ٹویوٹا انتظامیہ کو امید ہے کہ اس کے تازہ ترین اقدام سے ہائیڈروجن اسٹیشنوں جیسے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل میں مدد ملے گی۔

ویڈیوز شیئرنگ ایپ ’’ لائیکی‘‘ کی مقبولیت میں اضافہ، پاکستان میں چوتھے نمبر پر آگئی

ویڈیوز شیئرنگ ایپ ’’ لائیکی‘‘ کی مقبولیت میں اضافہ، پاکستان میں چوتھے نمبر پر آگئی

کراچی(ویب ڈیسک ): ویڈیوز شیئرنگ ایپ ’’ لائیکی‘‘ عوامی مقبولیت کے سبب پاکستان میں چوتھے نمبر پر آگئی۔ مختصر ویڈیوز شیئرنگ ایپ لائیکی پاکستان میں بھی تیزی سے مقبول ہونے لگی، حال ہی میں اس کی رینکنگ میں 14 درجے بہتری آئی ہے۔ موبائل ڈیٹا اور تجزیہ کرنے والے عالمی ادارے App Annie کے مطابق گوگل پلے اسٹور سے Likee ڈاؤن لوڈز کی بڑھتی ہوئی تعداد نے اسے پاکستان میں مقبول ترین ایپس میں چوتھے نمبر پر پہنچا دیا ہے۔ لائیکی نے ملک بھر میں 10ویں سر فہرست پوزیشن سے موجودہ پوزیشن گزشتہ ایک ماہ سے بھی کم مدت میں حاصل کی ہے۔ لائیکی ایپ نہ صرف ملک بھر میں مقبولیت حاصل کررہی ہے بلکہ شارٹ ویڈیوز بنانے اور انہیں شیئر کرنے کے حوالے سے یہ لوگوں کی ترجیح بنتی جارہی ہے۔ لائیکی ایپ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہم پاکستان میں ڈاؤن لوڈ کی جانے والی چند سرفہرست ایپ میں شمار کیے جانے پر انتہائی خوش ہیں۔

اب والدین یوٹیوب پر بچوں کی سرگرمیوں پر نظررکھ سکیں گے

اب والدین یوٹیوب پر بچوں کی سرگرمیوں پر نظررکھ سکیں گے

کیلیفورنیا(ویب ڈیسک): گزشتہ سال کورونا وبا کے دوران پوری دنیا میں بالخصوص بچوں کی بڑی تعداد نے یوٹیوب کا رخ کیا جہاں انہوں نے تعلیمی، تفریحی اور دیگر ویڈیوز سے استفادہ کیا۔ لیکن ساتھ ہی والدین نے یوٹیوب سے یہ شکایت بھی کی ہے کہ ان کے بچے ایسی ویڈیوز بھی دیکھتے ہیں جو ان کے لیے مناسب نہیں ہوتیں۔ اگرچہ اس کے لیے یوٹیوب کِڈز کی ایپ موجود ہے۔ لیکن بچے بڑے ہونے پر خود یوٹیوبر بھی بن جاتے ہیں اور ان کی دلچسپی کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔ اب اس تناظر میں بھی ہر ویڈیو ان کے لیے مناسب نہیں ہوتی۔ اسی کمی کے پیشِ نظر یوٹیوب انتظامیہ نے نئے آپشن پیش کئے ہیں۔ اب نئے آپشن کی بدولت خود والدین بھی اپنے بچے کی یوٹیوب سرگرمیوں سے جڑ کر ان پر نظررکھ سکتے ہیں۔ یوٹیوب نے اپنے بلاگ پر ان کی تفصیلات کچھ یوں بیان کی ہیں: ’ گزشتہ برس پوری دنیا سے والدین اور ماہرین نے نوعمر اور نوعمر سے بھی چھوٹے بچوں کے لیے ویڈیو آپشن پر رائے دی ہے۔ اسی ۔

نجی کمپنی نے دیوقامت پہیے جیسا خلائی اسٹیشن بنانے کا اعلان کردیا

نجی کمپنی نے دیوقامت پہیے جیسا خلائی اسٹیشن بنانے کا اعلان کردیا

امریکا (ویب ڈیسک ):امریکی کمپنی ’آربٹل اسمبلی کارپوریشن‘ نے زمین کے گرد مدار میں ایک بہت بڑے پہیے جیسے خلائی اسٹیشن کی تعمیر کا اعلان کردیا ہے جو اپنے محور پر چکر لگاتے دوران مصنوعی کششِ ثقل (آرٹی فیشل گریویٹی) بھی پیدا کرے گا۔ واضح رہے کہ میلوں پر پھیلے ہوئے دیوقامت پہیوں جیسے خلائی اڈوں کا تصور کم از کم 70 سال سے سائنس فکشن فلموں میں پیش کیا جارہا ہے۔ اس طرح کے تصوراتی خلائی اسٹیشن اپنے محور (axis) کے گرد چکر لگاتے ہیں جس سے ان کے بیرونی کناروں پر مرکز گریز قوت (سینٹری فیوگل فورس) پیدا ہوتی ہے جو اسٹیشن پر موجود ہر چیز کو باہر کی طرف دھکیلتی ہے۔ اس طرح سائنس فکشن فلموں کے خلائی اسٹیشنوں میں، جناتی ٹیوبوں جیسے بیرونی کناروں کے اندر، مصنوعی کششِ ثقل پیدا کی جاتی ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں انسانوں والی بستیاں آباد دکھائی جاتی ہیں۔ آربٹل اسمبلی کارپوریشن کا منصوبہ اسی خیال کو حقیقت کا جامہ پہنانے سے متعلق ہے۔ تفصیلات کے مطابق، اس مجوزہ خلائی اسٹیشن کو ’’وائیجر کلاس اسپیس اسٹیشن‘‘ کا نام دیا گیا ہے جس کی تعمیر کا آغاز 2025 سے بتدریج کیا جائے گا اور ممکنہ طور پر مزید دس سے پندرہ سال میں مکمل کرلیا جائے گا۔

 ہڈیوں میں نئے خلیے کی دریافت سے استخوانی علاج کی راہ کھلے گی

ہڈیوں میں نئے خلیے کی دریافت سے استخوانی علاج کی راہ کھلے گی

آسٹریلیا(ویب ڈیسک ): انسانی ڈھانچے میں بالکل نئی قسم کا خلیہ دریافت ہوا ہے۔ اسے سمجھتے ہوئے ہم گٹھیا، جوڑوں کے درد، ہڈیوں کی بریدگی اور دیگر بیماریوں کو نہ صرف بہتر طور پر سمجھ سکیں گے بلکہ ان کے علاج کی نئی راہ بھی ہموار ہوگی۔ آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف ساؤتھ ویلز کے ماہرین نے خردبین سے انسانی ڈھانچوں کا ایک ایک حصہ دیکھا ہے۔ انہوں نے اس کاوش میں ہڈیوں میں موجود ایک خلیہ (سیل) دیکھا ہے جس سے سائنس اب تک ناواقف تھی۔ یہ خلیہ کئی طرح کے جین کھولتا اور بند کرتا ہے یعنی جینیاتی سطح تک سرگرم ہوسکتا ہے۔ اس تحقیق سے ہڈیوں کی ٹوٹ پھوٹ کوجاننے اور اسے روکنے کے عمل کو سمجھنے میں بہت مدد ملے گی جن میں سرِ فہرست گٹھیا (اوسٹیوپوروسِس) کا مرض شامل ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ ہیں کہ استخوانی فطری نشوونما میں خلیات پرانی ہڈیوں کو بریدہ کرتے ہیں اور نئی ہڈیوں کی افزائش ہوتی رہتی ہے۔ لیکن یہ توازن بگڑ جائے تو ہڈیاں نرم پڑجاتی ہیں اور کئی مرض لاحق ہوجاتے ہیں جن میں گٹھیا سرِ فہرست ہے۔ یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کے ڈاکٹر مچیل مک ڈونلڈ اوران کے ساتھیوں نے ایک زندہ ہڈی کے

ریشم کے کیڑوں کی غذا میں تبدیلی سے مضبوط ریشم تیار

ریشم کے کیڑوں کی غذا میں تبدیلی سے مضبوط ریشم تیار

ٹوکیو: جاپانی سائنسدانوں نے ریشم کے کیڑوں کی غذا میں تبدیلی کرکے ان سے حاصل ہونے والے ریشم کو معمول سے دگنا مضبوط بنا لیا ہے۔ آن لائن ریسرچ جرنل ’’مٹیریلز اینڈ ڈیزائن‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ماہرین نے ریشم کے کیڑوں کی غذا میں تجرباتی طور پر ’’سیلولوز نینوفائبر‘‘ (CNF) نامی مادّہ شامل کیا۔ ویسے تو ’’سی این ایف‘‘ کئی پودوں کے علاوہ لکڑی کی باقیات میں بھی پائے جاتے ہیں لیکن توہوکو یونیورسٹی، جاپان کے ماہرین کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ نینو سیلولوز فائبرز کو ریشم کے کیڑوں کی غذا میں کچھ ایسے شامل کیا جائے کہ ان سے بننے والا ریشم بھی زیادہ بہتر، پائیدار اور مضبوط ہو۔ قدرتی طور پر ریشم کے کیڑے شہتوت کے پتے کھا کر ریشم بناتے ہیں۔ تاہم تجارتی پیمانے پر پالے گئے ریشم کے کیڑوں کو کچھ مختلف غذا دی جاتی ہے جس کا انحصار ان سے حاصل ہونے والے ریشم کے معیار اور مطلوبہ خصوصیات پر ہوتا ہے۔ توہوکو یونیورسٹی، میاگی کے ماہرین سیلولوز نینوفائبرز کو ریشم کے کیڑوں کی تجارتی غذا میں شامل کیا۔ انہیں معلوم ہوا کہ ریشم کے جن کیڑوں کی غذا میں سیلولوز نینوفائبرز شامل تھے، ان سے حاصل شدہ ریشم ایسے کیڑوں کے مقابلے میں دگنا مضبوط تھا جو شہتوت کے پتے کھاتے ہیں۔ یہ کامیابی اس لحاظ سے اہم ہے کیونکہ ریشم کا استعمال کپڑوں کی تیاری کے علاوہ سرجری اور بیجوں کے غلاف بنانے سمیت، کئی طرح کے کاموں میں ہورہا ہے۔ جاپانی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ابھی یہ کامیابی ادھوری ہے کیونکہ ان کا مقصد ایسے ریشم کی تیاری ہے جو پائیدار ہونے کے ساتھ ساتھ فولاد سے 5 گنا زیادہ مضبوط بھی ہو۔

 سام سنگ نے 50 میگا پکسل کیمرا سینسر پیش کردیا

سام سنگ نے 50 میگا پکسل کیمرا سینسر پیش کردیا

سیئول، کوریا: سام سنگ نے دنیا کا جدید ترین اسمارٹ فون کیمرا سینسر پیش کردیا ہے جس کی بدولت صارفین 50 میگاپکسل کی تصویریں کھینچ سکیں گے جبکہ اس سے 480 فریم فی سیکنڈ (480 ایف پی ایس) شرح والی فل ایچ ڈی ویڈیوز بھی بنائی جاسکیں گی۔ جنوبی کوریا کی مشہور ’’سام سنگ الیکٹرونکس‘‘ کے بنائے ہوئے اس نئے کیمرا سینسر کو ’’آئسوسیل جی این 2‘‘ (Iso Cell GN2) کا نام دیا گیا ہے جو اسمارٹ فون فوٹوگرافی/ ویڈیوگرافی کو ایک نئے انقلابی دور سے روشناس کرے گا۔ زیادہ صحیح الفاظ میں کہا جائے تو ایسے کیمروں کا پکچر ریزولیوشن 8,160 ضرب 6,144 پکسل (یعنی مجموعی طور پر 50 میگاپکسل سے بھی زیادہ) ہوگا۔ اس کے ذریعے 24 ایف پی آر پر ’’ایٹ کے‘‘ (8K) ریزولیوشن والی ویڈیوز بنائی جاسکیں گی۔ اگر آپ ’’سپر سلوموشن‘‘ کے قابل ویڈیوز بنانا چاہتے ہیں تو ان کیمروں کی مدد سے 480 ایف پی آر پر 1080 پی (ایچ ڈی) کوالٹی ویڈیو بنائی جاسکے گی۔ آسان الفاظ میں کہا جائے تو 480 ایف پی آر والی صرف ایک منٹ کی ویڈیو اگر ’’نارمل‘‘ یعنی 24 ایف پی آر کی رفتار سے چلائی جائے تو وہ 20 منٹ میں مکمل ہوگی۔ خصوصی انتظام کے تحت یہی کیمرا سینسر 100 ۔

ٹک ٹاک صارفین کو رازداری کی خلاف ورزی پر9 کروڑ 20 لاکھ ڈالر دینے کو تیار

ٹک ٹاک صارفین کو رازداری کی خلاف ورزی پر9 کروڑ 20 لاکھ ڈالر دینے کو تیار

الینوائے(ویب ڈیسک ): امریکا میں کمپنی کے خلاف درجنوں پرائیویسی کے مقدمات پر ٹِک ٹاک کی انتظامیہ نے 92 ملین ڈالر ادا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا کی کئی ریاستوں میں پرائیویسی کی حفاظت نہ کرنے پر چین کی ویڈیو ایپ ’’ٹک ٹاک‘‘ پر درجنوں مقدمات کیے گئے تھے جس پر کمپنی نے ان تمام مقدمات کو ختم کرنے کے بدلے مجموعی طور پر 9 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کا وعدہ کیا ہے۔ ٹک ٹاک انتظامیہ اور مقدمات کرنے والے صارفین کے درمیان قانونی چارہ جوئی میں 21 مقدمات واپس لینے پر اتفاق ہوا ہے جس کے بدلے کمپنی صارفین کو 92 ملین ڈالر ادا کرے گی۔ ریاست الینوائے کی وفاقی عدالت میں صارفین کے وکلاء نے اپنے دلائل میں کہا کہ ٹک ٹاک صارفین کے نجی معلومات حاصل کرکے اشتہاری کمپنی کو فراہم کرتی ہے جو صارفین کے ڈیٹا کو دیکھتے ہوئے منافع بخش کاروباری سرگرمیاں کرتے ہیں۔ اس پر وفاقی عدالت نے فریقین کو قانونی دائرے میں رہتے ہوئے تصفیے کی منظوری دی اور ٹِک ٹاک کو کوائف جمع کرنے کے بارے میں زیادہ شفاف اور صارف کی رازداری کے بارے میں بہتر تربیت دینے والے ملازمین کو شامل کرنے کا حکم دیا ہے۔ صارفین کے وکلا کا کہنا تھا کہ اس تصفیے کا اطلاق امریکا میں 89 ملین ٹِک ٹاکرز پر بھی ہوسکتا ہے اور اگر یہ سب تصفیے کی رقم کے لیے دعویٰ دائر کریں تو سب کو 96 سینٹ مل سکتے ہیں تاہم یہ فیصلہ 21 مقدمات کے درخواست گزاروں کے حق میں ہے۔

آسٹریلیا میں بھیڑ کو 35 کلو اون کے بوجھ سے آزادی مل گئی

آسٹریلیا میں بھیڑ کو 35 کلو اون کے بوجھ سے آزادی مل گئی

سڈنی: آسٹریلیا کے ایک جنگلاتی علاقے سے 35 کلو وزنی اون سے لدی بھیڑ ملی تھی جو بہ مشکل ہی چل پارہی تھی تاہم ریسکیو ادارے کے اہلکاروں نے اسے تکلیف دہ بوجھ سے نجات دلا دی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلیا کی ریاست وکٹورین کے جنگل سے باراک نامی بھیڑ ملی تھی جس کے جسم کی پانچ سال سے صفائی نہ ہونے کے باعث اون ایک ٹیلے کی شکل اختیار کرگئی تھی اور بھیڑ 35 کلو وزن لادے بہ مشکل چل پارہی تھی۔ خوش قسمتی سے اس بھیڑ کو جانوروں کی بہبود کے ایک ادارے کے اہلکاروں نے دیکھ لیا۔ بھیڑ کو ایڈگر مشن فارم سینکچوری نامی جانوروں کی پناہ گاہ لایا گیا۔ ماہرین حیران تھے کہ اتنا بوجھ ہونے کے باوجود اس کی ریڑھ کی ہڈی سلامت تھی۔ بھیڑ کو پورے جسم میں اون کا ڈھیر لگ جانے کے باعث نہ صرف چلنے پھرنے میں مشکلات کا سامنا تھا بلکہ وہ ٹھیک طرح کھا بھی نہیں سکتی تھی۔ اون کی زیادتی کے باعث گرم اور خشک موسم میں بھیڑ کا زندہ رہنا بھی کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ جانوروں کی پناہ گاہ کے ملازمین نے ’’باراک‘‘ کے جسم سے اون اتاری، اون کا وزن 35 کلو سے زیادہ تھا۔ بھیڑ نے اون کا بوجھ اترنے پر دوڑ لگائی اور جی بھر کر چارہ کھایا۔ واضح رہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ اون رکھنے کا اعزاز کرس نامی بھیڑ کے پاس ہے جس کے جسم سے 41 کلو اون اتاری گئی تھی۔

اے ٹی ایم کارڈ کے بجائے اپنا چہرہ دکھا کر پیسے ادا کریں

اے ٹی ایم کارڈ کے بجائے اپنا چہرہ دکھا کر پیسے ادا کریں

سارہ سٹیورٹ لاس انجلیز میں قائم ایک چھوٹے سے میکسیکن ریستوران میں داخل ہوتی ہیں اور سینڈوچ کی ایک قسم ’ٹورٹا‘ کا آرڈر دیتی ہیں۔ رقم کی ادائیگی کے لیے وہ کیشیئر کے کاؤنٹر پر لگی ایک سکرین پر اپنے چہرے کا عکس دکھاتی ہیں۔ ٹِپ دینے کے لیے وہ جلدی سے سکرین کے سامنے انگلیوں سے وکٹری کا نشان بناتی ہیں۔ یوں کھانے کے عوض ادائیگی کا عمل مکمل ہو جاتا ہے۔ اس پورے عمل میں پانچ سیکنڈ سے کم لگے ہیں اور یہ تمام عمل ’ کانٹیکٹ لیس‘ یعنی بغیر کسی چیز کو چھوئے مکمل ہوا ہے۔ دوسرا یہ کہ سارہ سٹیورٹ کو نہ تو اپنا موبائل فون اپنے پاس رکھنا پڑا اور نہ ہی کسی بینک کا کارڈ۔ اور نہ ہی کسی اور قسم کی شناخت کی چیز۔ ادائیگی کے عمل کو مکمل کرنے کے لیے انھیں اپنا پن نمبر بھی نہیں ڈالنا پڑا۔ تو جناب چہرے کی شناخت کے ذریعے ادائیگی کرنے والی مستقبل کی دنیا میں آپ کا خوش آمدید۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کو یہ کسی سائنس فکشن فلم کا سین لگے لیکن چین کے مختلف شہروں میں اس طرح کی ادائیگیاں دن میں لاکھوں مرتبہ پہلے ہی ہو رہی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کو اب امریکہ اور دوسرے ممالک جیسے ڈنمارک اور نائجیریا میں متعارف بھی کرایا جا رہا ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ہم سب آیندہ چند برسوں ۔‘

درجنوں ڈرون کو ایک ساتھ اڑانے اور چارج کرنے والی چادر

درجنوں ڈرون کو ایک ساتھ اڑانے اور چارج کرنے والی چادر

پیسا، اٹلی(ویب ڈیسک ): چھوٹے اور رنگ برنگی روشنیوں والے ڈرون کے کرتب تماشے اب عام ہوچکےہیں۔ ایسے ڈرون بار بار بجلی مانگتے ہیں اور اب اٹلی کے انجینیئروں نے ایک ساتھ بہت سارے کواڈکاپٹرز جارچ کرنے والی چادر تیار کی ہے۔ اسے فلائنگ ڈرون بلینکٹ کا نام دیا گیا ہے جسے اطالوی کمپنی کارلو راٹی ایسوشیاٹی نے ڈرون ساز کمپنی فلائی فائر کے تعاون سے بنایا ہے۔ اس میں سے ہر ایک چادر کو سمیٹا اور ایک بیگ میں رکھا جاسکتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر انہیں کھول کر دوبارہ زمین پر بچھایا جاسکتا ہے۔ ایک وقت میں 16 کواڈ کاپٹرز بہت آسانی سے اس پر چارج کئے جاسکتے ہیں اور تمام ڈرونز ایک ہی پاور سپلائی سے چارج ہوسکتے ہیں۔ اگر ڈرون زیادہ ہے تو ایک ، دو ، تین یا اس سے زائد چادر ایک ساتھ جوڑ کر لاتعداد ڈرون کو ان پر بٹھایا جاسکتا ہے ۔ اس طرح ایک وقت میں دس ہزار ڈرون کو چارج کرنا ممکن ہے۔ ہر ڈرون 45 درجے زاویے پر گھومتا ہے اورچارجنگ کےلیے دوبارہ 45 درجے پر ہی چادر پر اترتا ہے۔ اس کا خاص ڈیزائن روشنی دینے والے ڈرون کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ ڈرون ایک ساتھ فضا میں اڑتے ہیں اور طرح طرح کی خوبصورت ڈیزائن بناتے ہیں۔ انہیں لائٹ شوز اور اشتہار کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن کھیل تماشوں سے ہٹ کر اب بہت سارے ڈرون نقشہ سازی، فصلوں کی دیکھ بھال اور دیگرامور میں بھی استعمال ہورہے ۔ ڈرون چادر اس ضمن میں بھی یکساں طور پر مفید ثابت ہوسکتی ہے۔

گوگل نے انٹرنیٹ کیبل سے زلزلوں کی پیمائش شروع کردی

گوگل نے انٹرنیٹ کیبل سے زلزلوں کی پیمائش شروع کردی

کیلیفورنیا(ویب ڈیسک ): گوگل نے عالمی سمندروں کے فرش پر بچھی ہزاروں کلومیٹر طویل انٹرنیٹ کیبل کو کامیابی سے زلزلہ پیما کے طور پر استعمال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح ہزاروں کلومیٹر طویل رقبے پر پھیلے ہوئے تارکو زلزلہ پیما بنایا جاسکتا ہے۔ بحرالکاہل کے تہہ میں گوگل نے جدید ترین انٹرنیٹ کیبل کچھ عرصے قبل ہی بچھائی تھی۔ سمندری لہروں کی ہلچل اور دیگر تبدیلیوں کی وجہ سے یہ بہت درستگی سے زلزلوں کی پیمائش کرسکتی ہے۔ اس ضمن میں کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے پروفیسر زونگ وین زان اور گوگل کے ماہرین نے ٹریفک ڈیٹا، کیبل کی حرکات اور دباؤ کو استعمال کرتے ہوئے سمندری طوفان اور زلزلوں کو شناخت کیا ہے۔ صرف نو ماہ کے دوران کیبل نے 30 سمندری طوفانوں اور 20 کے قریب زلزلوں کو کامیابی سے شناخت کیا ہے۔ سارے زلزلوں کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5 تھی جو زمین پر عمارتیں ڈھانے کے لیے بہت ہوتے ہیں۔ لیکن جون 2020 میں میکسکو کے قریب 7.4 ۔