05:37 pm
چیف الیکشن کمشنر،چیئرمین سروسزٹریبونل سمیت اپیلٹ کورٹ میں ججوں کے آئینی عہدے خالی

چیف الیکشن کمشنر،چیئرمین سروسزٹریبونل سمیت اپیلٹ کورٹ میں ججوں کے آئینی عہدے خالی

05:37 pm

گلگت( بیورورپورٹ) سیاسی دبائو یا اختلافات،گلگت بلتستان میں تین اہم ترین آئینی عہدے ، چارججز کے عہدے مکمل طور پر خالی جبکہ دو اہم عدالتوں میں اضافی چارج دیکر ججز کو زمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں۔ گلگت بلتستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم اپیلٹ کورٹ میں ایک جج کی دوران ملازمت انتقال اور دو ججوں کی مدت ملازمت سے سبکدوشی کے بعد سپریم اپیلٹ کورٹ مکمل طور پر خالی ہوکررہ گئی ہے ۔
چیف کورٹ گلگت بلتستان میں سابق چیف جج جسٹس صاحب خان کے مدت ملازمت پوری کرکے سبکدوشی کے بعد سے عہدہ خالی ہے جبکہ دو نئی تخلیق کردہ عہدوں پر بھی ججز کی تقرری عمل میں نہیں لائی جاسکی ہے ۔ گلگت بلتستان سروسز ٹریبونل کے چیئرمین میر اخلاق حسین رواں ماہ کے شروع ہفتے میں انتقال کرگئے تھے جس کے بعد مذکورہ آئینی عہدہ بھی خالی ہے جبکہ سابق چیف الیکشن کمشنر جسٹس(ر) طاہر علی شاہ اپنی مدت ملازمت پوری کرکے 2016کو ریٹائرڈ ہوئے تھے جس کے بعد ابھی تک اس عہدے پر کسی کی تقرری عمل میں نہیں لائی جاسکی ہے ۔ سپریم اپیلٹ کورٹ گلگت بلتستان کے چیف جج جسٹس رانا شمیم 30اگست 2018 کو اپنی مدت ملازمت پوری کرگئے تھے ،جج شہباز خان 2016میں انتقال کرگئے تھے جبکہ تیسرے اور آخری جج جاوید اقبال نے گزشتہ دنوں اپنی مدت ملازمت پوری کرکے سبکدوش ہوگئے جس کے بعد ابھی تک ججوں کی آسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں اور تقرریاں عمل میں نہیں لائی جاسکی ہیں۔ گلگت بلتستان چیف کورٹ کے سابق چیف جج جسٹس صاحب خان 8جون 2018کو اپنی مدت ملازمت پوری کرکے سبکدوش ہوگئے تھے جس کے بعد ایک جج کی آسامی خالی ہوگئی جبکہ گلگت بلتستان آرڈر 2018کے تحت چیف کورٹ گلگت بلتستان میں دو مزید عہدوں تخلیق کرنے کی منظوری دیدی گئی تھی تاہم ابھی تک تینوں خالی عہدوں پر کوئی بھی تقرری عمل میں نہیں لائی جاسکی ہے ۔ گلگت بلتستان کی عدالتوں کے اہم ترین عہدوں کے خالی ہونے کی وجہ سے نہ صرف عدالتی امور مکمل طور پر متاثر ہوئے ہیں بلکہ گلگت بلتستان میں انصاف کے منتظر سینکڑوں لوگ بھی مایوسی کا شکار ہوگئے ہیں ۔ اس کے علاوہ چیف الیکشن کمشنر اور چیئرمین سروسز ٹریبونل کے آئینی عہدے بھی خالی ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر 2016 میں اپنی مدت ملازمت پوری کرگئے تھے جبکہ چیئرمین سروسز ٹریبونل میر اخلاق حسین رواں ماہ کے شروع ہفتے میں حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے خالق حقیقی سے جاملے تھے ۔ دوسری جانب گلگت بلتستان انسداد دہشتگردی عدالت نمبر2کے جج کا عہدہ طویل عرصے سے خالی پڑا ہوا ہے ، انسداد دہشتگردی عدالت کے جج جمشید کو سٹی پارک میں دوران چہل قدمی دہشتگردوں نے فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا جس کے بعد ابھی تک تقرری نہیں ہوسکی ہے ۔ بینکنگ کورٹ کے اور نیب کورٹ کے جج بھی اپنی مدت ملازمت پوری کرکے سبکدوش ہوگئے ہیں تاہم ابھی تک تقرریاں عمل میں نہیں لائی جاسکی ہیں اور اضافی زمہ داریاں دیکر کام چلایا جارہا ہے ۔ گلگت بلتستان میں اہم ترین عہدوں کے خالی ہونے کی وجہ سے آئینی بحران کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے ۔ سیاسی حلقے اس معاملے میں سمجھتے ہیں کہ جماعتوں اور زمہ داروں کے مابین اتفاق رائے نہ ہونے اور اپنے اپنے مفاد ہونے کی وجہ سے کھینچاتانی ہورہی ہے اور اتفاق رائے نہیں ہورہی ہے جس کا نزلہ گلگت بلتستان کے عوام پر گررہا ہے ۔واضح رہے کہ اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی عدم موجودگی کی وجہ سے سینکڑوں لوگ اب بھی سزائیں پوری کاٹنے کے باوجود جیلوں میں سسک رہے ہیں جو کہ بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے ۔