05:42 pm
(حفیظ جلدمناورجیل میں ہوگا)جی بی کوعبوری صوبہ بنائے بغیرکوئی فیصلہ کیاگیاتواحتجاج کرینگے،امجدایڈووکیٹ

(حفیظ جلدمناورجیل میں ہوگا)جی بی کوعبوری صوبہ بنائے بغیرکوئی فیصلہ کیاگیاتواحتجاج کرینگے،امجدایڈووکیٹ

05:42 pm

گلگت(اوصاف نیوز) پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صوبائی صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے بعد وفاقی حکومت کا رد عمل کے انتظار میں ہیں اس کے بعد پیپلز پارٹی گلگت بلتستان اپنا لائحہ عمل طے کرے گی سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے دو حصے ہیں ایک حصہ پارلیمنٹ سے متعلق اور دوسرا حصہ حکومت سے متعلق ہے اگر تحریک انصاف کی وفاقی حکومت سپریم کورٹ کے
فیصلے کے پارٹ 1 پر عملدر آمد کرتے ہوے گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بناتے ہیں تو پیپلز پارٹی اس فیصلے کو قدر کی نگاہ سے دیکھے گی اگر تحریک انصاف کی حکومت اس فیصلے پر عملدر آمد کرنے کے بجاے کوئی گورننس آرڈر جاری کرتی ہے یا گورننس آرڈر جاری کئے بغیر کوئی بھی تقرری گلگت بلتستان میں کرتی ہے تو پیپلز پارٹی پورے گلگت بلتستان میں احتجاج کرے گی چاہیے کوئی بھرتی کی شکل میں ہو یا ایکزیگٹو آرڈر جاری ہو۔حفیظ الرحمن اور گنڈا پور کا کوئی بھی انتظامی فیصلہ ہوا وہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی بہت بڑی اسٹیں ہولڈر ہے ہم میدان کے اندر ہیں ہم ایک ایک چیز کو سنھبالنے کی طاقت رکھتے ہیں اور روکنے کی طاقت بھی رکھتے ہیں حق ملکیت کی تحریک جو 2015 سے شرور ہوئی ہے وہ حفیظ الرحمن کے تابوت میں بھی آخری کیل ہے اور پی ٹی آئی کی پوری جماعت کے اوپر بھی آخری کیل ہے یہ تحریک گلگت بلتستان کے عوام کی آواز ہے حق ملکیت کی تحریک پیپلز پارٹی نے شروع کی ہے اور اس کی ضامن بھی پیپلز پارٹی ہے پیپلز پارٹی گلگت بلتستان جی بی کی ایک ایک اینچ ذمین کی تحفظ کرینگے انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے اوپر بیانیہ لانے کے کئے پیپلز پارٹی آل پارٹیز کانفرنس بلاے گی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے اوپر وفاق کیا تشریح کرنا چاہتی ہے اس کا انتظار ہے اس کے بعد ہمارا لائعمل جاری ہوگا انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف پانچ سال پورا کرنے کے بعد کورٹ لکھپت جیل میں ہے اور حفیظ الرحمن بھی پانچ سال پورا کرنے کے بعد مناور جیل میں ہونگے ان کا ایجنڈا کرپشن تھا کرپشن ہے اور کرپشن رہے گا مسلم لیگ ن کی صوبائی اور مرکزی حکومت سے عوام کی کوئی دادرسی نہیں ہوئی ن لیگ کھیل کے میدان سے اوٹ ہوئی ہے اب اگر ذکر کیا جاے تحریک انصاف کی تو وہ اپنے ابتدائی مرحلے میں ہی ناکام ہوگئے ہیں تحریک انصاف کا کردار سپریم کورٹ مین ذیر سماعت کیس میں ثابت ہوگیا کہ انکا گلگت بلتستان کی عوام کے ساتھ کتنا رفت ہے الیکشن تک تحریک انصاف نے گلگت بلتستان کو کچھ بھی نہیں دینا ہے صرف لینا ہے دینا ہوتا تو بہت پہلے دے چکے ہوتے انہوں نے تعمیراتی پراجیکٹس کے بجٹ پر کٹ مارا تحریک انصاف نے گلگت بلتستان میں اسی طرح کے ماحول میں الیکشن لڑنا ہے گلگت بلتستان کہ عوام غروب ہونے والے سورج کے ساتھ کھبی نہیں جاینگے۔انہوں نے مزید کہا کہ حفیظ الرحمن جعلی ڈگری کیس میں پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کو شدید تحفظات ہیں یہ کیس دو سال سے سپریم اپیلیٹ کورٹ میں ذیر سماعت ہے دو دفع اس کیس کی سماعت کے لئے رکھا گیا مگر ایک معزز جج صاحب کو غیر حاضر کرایا گیا۔اور گزشتہ دنوں اس کیس میں فیصلہ سنایا گیا جس پر ہم شدید تحفظات رکھتے ہیں پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے وکلاء اس کیس میں نظر ثانی کے لئے دوبارہ درخواست دینگے اور جنگ لڑیںگے۔