07:25 am
وزیراعظم عمران خان نے عثمان بزدار کی قسمت کا فیصلہ کر لیا، حکم بھی جاری کردیا

وزیراعظم عمران خان نے عثمان بزدار کی قسمت کا فیصلہ کر لیا، حکم بھی جاری کردیا

07:25 am

لاہور(نیوز ڈیسک ) وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے وزیراعظم عمران خان کے سامنے پارٹی رہنماؤں کی شکایات کا انبار لگا دیا، وزیراعلیٰ نے کہا کہ انتظامی معاملات میں پارٹی رہنماء مداخلت کرتے ہیں، مداخلت سے پارٹی منشور اور فیصلوں پر عملدرآمد میں مشکلات کاسامنا ہے، وزیراعظم نے وزیراعلیٰ کوتمام انتظامی معاملات اپنے ہاتھ میں رکھنے کی ہدایت کردی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ سے ملاقات میں کفایت شعاری اپنانے اور گورننس بہتر کرنے کی ہدایت کی۔صوبے میں گورننس بہتر بنانے کیلئے پارٹی منشور پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔عثمان بزدار نے انتظامی معاملات میں پارٹی رہنماؤں کی مداخلت کا شکوہ کیا۔پی ٹی آئی رہنماؤں کی مداخلت سے پارٹی منشور اور فیصلوں پر عملدرآمد میں مشکلات درپیش ہیں۔
جس پر وزیراعظم عمران خان نے عثمان بزدار کو ہدایت کی ہے کہ بطور وزیراعلیٰ تمام انتظامی معاملات اپنے ہاتھ میں رکھیں۔ارکان کی تنخواہوں میں اضافے کیلئے کفایت شعاری مہم کو مدنظر رکھا جائے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے وزیراعظم کوبتایا کہ نوازشریف کے علاج کیلئے جیل انتظامیہ اور شریف فیملی سے رابطوں میں ہیں۔ نوازشریف کو علاج معالجے کی بہترین سہولت فرام کرنے کی پیشکش کی ہے۔اس سے قبل وزیراعظم عمران خان سے آج وزیراعظم آفس میں وزیراعلیٰ پنجاب نے ملاقات کی۔ ملاقات میں پنجاب کے سیاسی اور انتظامی معاملات سمیت وزراء ،ارکان اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات سے متعلق بات چیت کی گئی۔بتایا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نےوزیراعظم کو اپنی تنخواہ اور مراعات کے فیصلے پربھی وضاحت پیش کی۔گزشتہ دنوں پنجاب اسمبلی نے وزراء ، ارکان اسمبلی اور وزیراعلیٰ پنجاب کی تنخواہوں اور مراعات کا بل منظور کیا تھا۔بل کی منظوری پرعوام نے سوشل میڈیا پر خوب تنقید کی۔ جس پر وزیراعظم عمران خان نے معاملے پر نوٹس لیتے ہوئے گورنر پنجاب کو بل پر دستخط کرنے سے روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کوعمر بھر کیلئے گھر دینے کا فیصلہ درست نہیں، لائف ٹائم مراعات کا دورانیہ زیادہ سے زیادہ 3 ماہ کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ بل کو دوبارہ ایوان میں پیش کیا جائے اور وزیراعلیٰ کولائف ٹائم گھر جیسی مراعات دینے کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے، اسی طرح وزیراعلیٰ پنجاب بل کو دوباری ایوان میں پیش کریں۔واضح رہے پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے رکن غضنفرعباس چھینہ نے پنجاب عوامی نمائندگان ترمیمی بل 2019ء پیش کیا جس کی منظوری قائمہ کمیٹی برائے قانون نے دی اور یوں بل 24 گھنٹے کے اندر منظور بھی ہوگیا۔ بل کے تحت ارکانِ اسمبلی کی تنخواہ اور مراعات 83 ہزار ماہانہ سے بڑھ کر ایک لاکھ 92 ہزار روپے ہوگئی، بنیادی تنخواہ 18 ہزار سے بڑھا کر 80 ہزارروپے ماہانہ، ڈیلی الاؤنس 1 ہزار سے بڑھا کر 4 ہزار، ہاؤس رینٹ 29 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار، یوٹیلیٹی الاؤنس 6 ہزار سے بڑھا کر 20 ہزار روپے اور مہمان داری الاؤنس 10 ہزار سے بڑھا کر 20 ہزار روپے کردیا گیا۔ اسی طرح وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے لائف ٹائم لاہور میں سرکاری رہائش سمیت دوسری مراعات شامل تھیں۔