02:07 pm
تبدیلی سرکار نے ہاتھ کھڑے کردیئے

تبدیلی سرکار نے ہاتھ کھڑے کردیئے

02:07 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو شبر زیدی نے کہا ہے کہ بیرون ملک موجود پاکستانیوں کے پیسے کا پتا نہیں چل سکتا، مجھے جو ڈیٹا ملا ہے اس کی بنیاد پر بتا رہا ہوں، ایف بی آر کے ڈیٹا میں یواے ای اوردوسرے ممالک میں شہرت یافتہ پاکستانیوں کا ڈیٹا شامل نہیں۔ انہوں نے آج یہاں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کو 7 سے 8 ارب ڈالرز کے اکاؤنٹس کا ڈیٹا مل گیا ہے۔لیکن اس ڈیٹا میں ڈیٹا میں یواے ای اور دوسرے ممالک کی شہریت والے پاکستانیوں کا ڈیٹا شامل نہیں ہے۔
متحدہ عرب امارات کے حکام سے معلومات کے تبادلے پر بات چیت جاری ہے۔ شبر زیدی نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کا کتنا پیسا ہے اس کا پتا نہیں چل سکتا۔ مجھے جو ڈیٹا ملا ہے اس کی بنیاد پر بتا رہا ہوں۔دوسری جانب ایف بی آر نے دکانداروں ، ہول سیلز ڈیلر ز ، ڈسٹری بیوٹرز ، مینو فیکچررز اور سروسز فراہم کرنے و الے کمپنیوں کے لئے آن لائن بزنس لائسنس جاری کرنے کی نئی سکیم کا اجراء کا فیصلہ کیا ہے جس کا مسودہ جاری کردیا ہے اگر ان تاجروں کی آمدن قابل ٹیکس ہو گی تو انہیں انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت انکم ٹیکس ادا کرنا ہو گا اس سکیم کامقصد ٹیکس حکام ، دکانداروں اور کاروباری کے دوروں کے سبب پیدا ہونے والی تشویش اور خدشات کودور کر کے کاروباری افراد کو ٹیکس حکام کو معاملہ میں شامل کئے بغیر کاروباری افراد کو آن لائن بزنس لائسنس جاری کرنا ہے اس ضمن میں ایف بی آر نے انکم ٹیکس آرڈیننس 2001ء میں ایک ترمیم کامجوزہ مسودہ جاری کر دیا ہے۔اسی طرح فیڈرل بورڈ آف ریو نیو نے مہنگی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں پلاٹ مالکان کا ڈیٹا اکٹھا کرنا شروع کر دیا،بے نامی جائیدادوں کی چھان بین کے لئے سوسائٹیز کا ریکارڈ حاصل کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق سوسائٹیز کے ریکارڈ سے بے نامی جائیداد کی معلومات حاصل کی جائیںگی۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز ایف بی آر کو پراپرٹی کے حقیقی مالکان کی تفصیلات فراہم کریں گی ۔ تمام ہاؤسنگ سوسائٹیز سے پراپرٹی کی خرید و فروخت کی تفصیلات لی جائیں گی ۔ ایف بی آر کے مطابق اس اقدام سے کروڑوں کی پراپرٹی خریدنے والوں کے ذرائع آمدن کا کھوج لگایا جائے گا۔