02:11 pm
کیا حافظ سعید کو رہا کردیا گیا ہے، بھارت میں مچنے والے کہرام کے بعد حکومت پاکستان نےواضح اعلان کردیا

کیا حافظ سعید کو رہا کردیا گیا ہے، بھارت میں مچنے والے کہرام کے بعد حکومت پاکستان نےواضح اعلان کردیا

02:11 pm

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارت کی جانب سے یک طرفہ اقدامات کے باوجود کرتارپور راہداری منصوبہ اور افغان طالبان اور امریکہ کے مابین امن مذاکرات میں سہولت کار ی کا عمل متاثر نہیں ہوگا۔وزارت خارجہ میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارت کے یکطرفہ اقدامات کے باوجود کرتارپور راہداری منصوبہ جاری رہے گا
اور پاکستان اپنی طرف سے کرتارپور راہداری میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گا ، اس کے علاوہ پاکستان افغان طالبان اور امریکہ کے مابین امن مذاکرات میں سہولت کاری کا کردار ادا کرتا رہے گا۔تاہم انہوںنے امریکہ اور بین الاقوامی براداری سے اپیل کی کہ وہ بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے پر اپنا کردار ادا کریں۔ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارت کے یکطرفہ اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ وادی میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا راج ہے، اور مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل کی شکل اختیار کرچکا ہے جہاں چالیس لاکھ مسلمانوں کو بھارتی افواج نے قید کررکھا ہے۔کئی روز سے کرفیو نافذ ہے جس کے باعث مقبوضہ وادی میں کھانے پینے کی اشیا کی کمی ہے جبکہ وادی میں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروس بھی بند ہے۔ترجمان نے کہا کہ کشمیری عوام علاج معالجے کی سہولت سے بھی محروم ہیں ۔پاکستان نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارت کے موقف کو یکسر مستردکرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا داخلی معاملہ نہیں ہے، بلکہ مسئلہ کشمیر کا مکمل حل سلامتی کونسل کی قراردادوں میں پنہاں ہے، ڈاکٹر محمد فیصل نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بھا رت کے یکطرفہ فیصلے کے بعد وزیر اعظم نے تمام آپشنز استعمال کرنے کا کہہ دیا ہے، وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ اور سکیورٹی کونسل کے صدور کو خط لکھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی سربراہی میں قومی سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد پاکستان اپنا سفیر بھارت نہیں بھیج رہا، ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ بھارتی فیصلے کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں جانے کیلئے پاکستان اس بات کا جائزہ لے جارہا ہے، اس سلسلے میں جلد اٹارنی جنرل کی سربراہی میں فیصلہ کیا جائے گا، پاکستان اس سلسلے میں تمام اقدامات کرے گا اور کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔ان کا کہنا تھا کہ سیکریٹری خارجہ نے امریکی نمائندہ ایلس ویلز سے مختلف امور پر بات کی ہے اور انہیں افغان امن عمل اور کشمیر کی صورتحال پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی، ایلس ویلز کو بھارتی یکطرفہ اقدام بارے تشویش سے آگاہ کیا ہے جبکہ امریکا کے ساتھ کشمیر کا معاملہ جلد اٹھایا جائے گا۔کرتارپور راہداری سے متعلق ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان تمام مذاہب کا احترام کرتا ہے، کرتارپور راہداری منصوبہ جاری رہے گا اور پاکستان اپنی طرف سے کرتارپور راہداری میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔ایک اور سوال کے جواب میں ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ پاکستان مسلمان ملک ہے اور خوف مسلمانوں کی ڈکشنری میں شامل نہیں لہذا بھارت کچھ بھی کرنے سے پہلے 27 فروری کو یاد رکھے۔ انہوںنے کہا کہ اسلامی دنیا سے ردعمل آرہا ہے لیکن زیادہ ترمسلم ممالک حج کے معاملات میں مصروف ہیں اور اب تو بھارت میں بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں ۔ حافظ سعید کی رہائی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھاکہ حافظ سعید کو رہا نہیں کیا جا رہا، بھارتی میڈیا بے بنیاد خبریں پھیلا رہا ہے۔ٖفضائی حدود سے متعلق انکا کہنا تھا کہ فضائی راستے تبدیل کیے گئے ہیں تاہم فی الحال انہیں بند نہیں کیا جارہا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ وادی میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا راج ہے، کئی روز سے کرفیو نافذ ہے جس کے باعث مقبوضہ وادی میں کھانے پینے کی اشیا کی کمی ہے جبکہ وادی میں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون سروس بھی بند ہے۔کشمیری عوام علاج معالجے کی سہولت سے بھی محروم ہیں اور مقبوضہ کشمیر دنیا کی سب جیل میں تبدیل ہوچکا ہے پاکستان، بھارت کا یہ مؤقف مسترد کرتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر اس کا داخلی معاملہ ہے، مسئلہ کشمیر کا مکمل حل سلامتی کونسل کی قراردادوں میں پنہاں ہے، بھارت کے یکطرفہ فیصلے کے بعد وزیر اعظم نے تمام آپشنز استعمال کرنے کا کہہ دیا ہے، وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ اور سکیورٹی کونسل کے صدور کو خط لکھے ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنا سفیر بھارت نہیں بھیج رہا، بھارتی فیصلے کے خلاف عالمی عدالت انصاف میں جانے کا جائزہ لیا جارہا ہے جبکہ کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا،ان کا کہنا تھا کہ سیکریٹری خارجہ نے امریکی نمائندہ ایلس ویلز سے مختلف امور پر بات کی اور انہیں افغان امن عمل اور کشمیر کی صورتحال پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی، ایلس ویلز کو بھارتی یکطرفہ اقدام بارے تشویش سے آگاہ کیا ہے جبکہ امریکا کے ساتھ کشمیر کا معاملہ جلد اٹھایا جائے گا۔