02:32 pm
عمران خان کے سب سے قریبی دوست کو3سال قید کی سزا

عمران خان کے سب سے قریبی دوست کو3سال قید کی سزا

02:32 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) عمران خان کے سب سے قریبی دوست کو3سال قید کی سزا ۔۔۔عارف نقوی کا شمار دنیا کے امیر اور اثرورسوخ رکھنے والی شخصیات میں ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ وزیراعظم عمران خان کے بھی دوست ہیں۔گزشتہ الیکشن میں پی ٹی آئی کو بیرون ملک سے ملنے والے فنڈز میں بھی ان کا نام آیا تھا کہ انہوں نے پی ٹی آئی کی بڑے پیمانے پر بے لوث مدد کی تھی۔تاہم گزشتہ کئی ماہ سے وہ لندن میں گرفتار ہیں۔
اسی گرفاری کے دوران ان پر امریکہ کی طرف سے بھی کیس چل رہا ہے جبکہ عرب امارات میں بھی ایک کیس کے حوالے سے ان کا وکیل پیشیاں بھگتا رہا تھا۔ متحدہ عرب امارات میں تو انہیں سزا ہو گئی جبکہ لندن اور امریکہ کے کیسزکا فیصلہ ہونا باقی ہے۔متحدہ عرب امارات نے دبئی کی غیرفعال کمپنی ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی کو ایئر عربیہ کے مقدمے میں ان کی غیر موجودگی میں 3 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ عارف نقوی اپنی سزا پوری کریں گے یا نہیں کیونکہ وہ ان دنوں لندن میں ہیں اور اپنی ممکنہ طور پر امریکا حوالگی سے متعلق کیس کی سماعت کے منتظر ہیں۔بلوم برگ کی ایک رپورٹ کے مطابق دبئی کے فنانشل سینٹر واچ ڈاگ نے سرمایہ کاروں کو گمراہ کرنے اور ان کے پیسے ناجائز طریقے سے استعمال کرنے کے الزام میں ابراج گروپ پر 31 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ ابراج گروپ کے بانی پر امریکا میں بھی فراڈ کے الزامات عائد ہیں جبکہ انہوں نے مئی میں برطانوی تاریخ کے سب سے بڑے سیکیورٹی بانڈ کی ادائیگی کر کے ضمانت حاصل کی تھی۔وہ امریکا حوالگی کے حوالے سے اپنے مقدمے کی سماعت کے منتظر ہیں البتہ وہ مشروط ضمانت کے عدالتی حکم کے تحت ایک الیکٹرانک ٹیگ پہننے اور لندن میں اپنے گھر میں رہنے کے پابند ہیں۔ اس سے قبل ان کے ترجمان نے کہا تھا کہ عارف نقوی نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے خود کو بے گناہ قرار دیا ہے اور وہ مقدمے میں رہائی کے لیے پُرامید ہیں۔ ابراج گروپ نے ایئر عربیہ سے رقم وصول کی تھی جس کے بورڈ میں عارف نقوی بھی موجود تھے، تاہم اس رقم کو ابراج گروپ کے فنڈز کے خسارے کو پورا کرنے اور سرمایہ کاروں کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔عارف نقوی اس سے قبل شارجہ میں بھی ایک مقدمے کا سامنا کر چکے ہیں اور ان پر کروڑوں ڈالر کے چیک بائونس ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔اس مقدمے میں بھی انہیں 3 سال کی سزا ہوئی تھی لیکن درخواست گزار سے معاملات طے ہونے پر اس مقدمے کو فوری طور پر ختم کردیا گیا تھا۔یاد رہے کہ مئی میں دیوالیہ ہونے سے قبل ابراج گروپ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کا سب سے بڑا فنڈز گروپ تھا تاہم بل گیٹس فائونڈیشن سمیت دیگر سرمایہ کاروں نے ایک ارب ڈالر کے صحت عامہ کے فنڈز کی مینجمنٹ پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔