09:16 am
’’پاکستان کو اب افغان طالبان کارڈ کھیلنا پڑے گا ‘‘

’’پاکستان کو اب افغان طالبان کارڈ کھیلنا پڑے گا ‘‘

09:16 am

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مسئلہ کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سینئیر دفاعی تجزیہ کار ائیرمارشل (ر) شاہد لطیف کا کہنا تھا کہ بھارت نے لوگوں کو اس بات پر قائل کر رکھا ہے کہ پاکستان دہشتگرد ہے۔ حالانکہ دہشتگردی وہ خود کرواتا ہے۔ کشمیر کے مسئلے پر بھی بھارت نے لوگوں کو قائل کر رکھا ہے کہ یہ کوئی آزادی کی جدوجہد نہیں ہے۔ یہ پاکستان ہی ہے جو سب کچھ کروا رہا ہے۔
آپ تو ہر موڑ پر ہارے ہوئے لوگ ہیں ، تو کیا آپ آج بھی کھڑے نہیں ہوں گے ؟ دنیا کے بڑے بڑے تھنک ٹینکس میں بھارت کے لوگ موجود ہیں، مریم نواز جو کشمیر کا مقدمہ لڑنے کی بات کررہی تھیں ان کے والد ہی تھے جنہوں نے دفتر خارجہ کو تقریباً بند کر دیا تھا۔ مودی کہتا تھا کہ میں پاکستان کو تنہا کر دوں گا وہ اپنی اس کوشش میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوا یہ تو اب اس حکومت نے آ کر دفتر خارجہ کو فعال کیا ، جس کی بنا پر اب کچھ ممالک ہم سے بات کرر ہے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ کشمیر میں خانہ جنگی کا سلسلہ شروع ہونے جا رہا ہے، کشمیر کی عوام نے اپنی جان و مال ، عزت و آبرو کے نذرانے دئے۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ افغانستان کے طالبان کا کارڈ ہمیں کھیلنا پڑے گا ، ہمیں امریکی صدر کو بتانا پڑے گا کہ ہماری مشرقی سرحد ہے ہماری اصل ذمہ داری وہی ہے۔ آپ افغان امن عمل کی بات کر رہے ہیں ، امریکہ امن کی صورت میں وہاں سے نکلنا چاہے گا۔ امریکی صدر کو کہنا چاہئیے کہ کیا ہم اپنے مشرقی بارڈر پر ایسی صورتحال کے باوجود دوسرے بارڈر کو دیکھ سکتے ہیں۔ مہربانی کریں اور ہمیں اس بارڈر کی ذمہ داری نہ دیں یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ کم از کم ان کو بآور کروانا چاہئیے کہ تم سپر پاور ہو تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم ہندوستان کو اس معاملے ہر مجبور نہ کرو کہ وہ اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل کرو۔ تمہیں اپنے حق کا پتہ ہے کہ افغانستان میں مدد کرو ، ہم مشرقی محاذ کو قربان کر کے وہاں دھیان نہیں دے سکتے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ یہ کارڈ کھیلا جائے۔