08:58 am
بلو چستان نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر و رکن قومی اسمبلی سرداراختر جان مینگل نے کہا ہے

بلو چستان نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر و رکن قومی اسمبلی سرداراختر جان مینگل نے کہا ہے

08:58 am

کوئٹہ(این این آئی)بلو چستان نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر و رکن قومی اسمبلی سرداراختر جان مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان کا موسم اسلام آباد کے موسم کی مناسبت سے بدلتا ہے جبکہ اسلام آباد کا موسم سیاسی جماعتوں نہیں بلکہ کسی اور کے کہنے سے بدلتا ہے موسم بدلتے دیر نہیں لگتی بارش بھی ہوسکتی ہے سیلاب بھی آسکتا ہے زلزلے کے جھٹکے بھی آسکتے ہیں ہم نے صرف حکومتیں گرانے کیلئے سیاست نہیں کی کسی بھی حکومت کی ترجیحات میں بلوچستان شامل نہ ہو ہم اسکا ساتھ نہیں دیتے اگر ایک بار پھر بلوچستان کو قربانی کا بکرا بنایا
 
جائے گا تو پھر ہم اپنا خون بہانا نہیں چاہتے،ملک میں اگر کوئی تبدیلی آئی یا لائی گئی ہے تو وہ سیاسی نہیں بلکہ دوسری قوتوں کی طرف سے لائی گئی ہے مجھے پاکستان میں سیاسی انقلاب نظر نہیں آرہابدقسمتی سے پاکستان کی سیاسی قیادت میں وہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ سیاسی تبدیلیاں لاسکیں اگر اب غیر سیاسی قوتوں کی طرف سے تبدیلی لائی جاتی ہے تو اس تبدیلی کا کیا فائدہ ہے۔یہ بات انہوں نے منگل کی رات نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ انتخابات ہونگے 2018ء کے انتخابات میں دھاندلی سے نہ صرف ایوان سے باہر بیٹھی جماعتیں بلکہ ہم بھی متاثر ہوئے ہیں راتوں رات سیاسی جماعتیں بناکرانہیں مینڈیٹ دیا گیاحقیقی نمائندوں کے نتائج تبدیل کرنے والے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور جب تک انہیں سزائیں نہیں دی جاتی آج جنہیں الیکشن جتوایا گیا ہے کل کسی اور کو جتوائیں گے یہ سلسلہ چلتا رہے گاجب تک سزا و جزا کا عمل طے نہیں ہوتا جتنے بھی الیکشن ہوں اس میں نتائج ایسے ہی آئیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں نے اپوزیشن کے سامنے واضح کیا ہے کہ سیاسی معاملات میں کسی بھی ادارے کی مداخلت قبول نہیں کریں گے تمام ادارے اپنے دائرہ اختیارمیں رہ کر کام کریں پی ٹی آئی کی حکومت نے کم از کم یہ تسلیم کیا کہ ہمارے چھ نکات بلوچستان کے حقیقی مسائل پر مبنی ہیں یہی مطالبات ہم (ن) لیگ کے پاس بھی لیکر گئے تھے اور پیپلز پارٹی کے پاس بھی گئے تھے لیکن اس بات کا کریڈٹ پی ٹی آئی کو ملنا چاہئے کہ انہوں نے ہم سے ان نکات پر معاہدہ کیا عملدرآمد ہوا یا نہیں ہوا یہ الگ بات ہے پانچ فیصد ہودس فیصد ان مطالبات کو حل کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پچھلے حکمرانوں نے ہمارے مطالبات کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیااب جو پی ٹی آئی کی قیادت سے ملاقات ہوگی اس میں حتمی ڈیڈ لائن دیں گے اگر عملدرآمد نہیں ہوا تو ہم اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں میرا بس چلے تو آج کے آج مطالبات حل کریں لیکن یہ پی ٹی آئی پر منحصر ہے کہ وہ کتنا وقت مانگتے ہیں تین مہینے سے زائدہ ٹائم نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن جماعتیں یہ یقین دہانی کرائیں کہ وہ اقتدارمیں آنے کے بعد چھ نکات پر عمل کریں گی اور بلوچستان کو قربانی کا بکرا نہیں بنائیں گی تو آنے والے دنوں میں انکے احتجاج میں شریک ہونے کے حوالے سے پارٹی سے مشاورت کریں گے۔

تازہ ترین خبریں