04:21 pm
، سی پیک اتھارٹی کے قیام کے لئے قانون سازی کے لئے مسودہ تیار کر لیا، سیینیٹ خصوصی کمیٹی

، سی پیک اتھارٹی کے قیام کے لئے قانون سازی کے لئے مسودہ تیار کر لیا، سیینیٹ خصوصی کمیٹی

04:21 pm

اسلام آ باد (آ ئی این پی ) ایوان بالا کی خصوصی کمیٹی برائے سی پیک کو آگاہ کیا گیا ہے کہ سی پیک پر کام کسی قسم کی سست روی کا شکار نہیں ہے، سی پیک اتھارٹی کے قیام کے لئے قانون سازی کے لئے مسودہ تیار کر لیا ہے،حکومت فیصلہ کرے گی کہ اس کو ایگز یکٹو آرڈر کے ذریعے لانا ہے یا پارلیمنٹ میں بل لانا ہے،سپیشل اکنامک زونز کے قانون میں نقائص ہیں ، یہ قومی ضروریات کو پوری نہیں کر رہا ، اس قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے، ماضی کا سپیشل اکنامک زونز کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے،سپیشل اکنامک زونز کے نام پر زمین پر قبضہ کیاگیا،سپیشل اکنامک زونز حوالے سے پالیسی پریوٹرن لے رہے ہیں اور قومی مفاد کے تابع بنا رہے ہیں
،سی پیک کے تحت تین معاشی زونز پر کام جاری ہے ، 9 خصوصی معاشی زونز بنیں گے اوران کی لوکیشن میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ،تین زونز پر کام ترجیحی بنیاد پر کا م جاری ہے ،رشکئی زون کے لیے زمین حاصل کر لی ہے ، دسمبر تک دس میگا واٹ بجلی مہیا کر دی جائے گی ،توقع ہے کہ دسمبر تک کمپنیوں کو رشکئی زون میںسرمایہ کاری کی دعوت دے دیں گے،فیصل آباد اسپیشل معاشی زون کے لیے 3 ہزار ایکڑ اراضی حاصل کر لی ہے ،دھابے جی زون پر کام شروع ہونے میں دو سال لگ جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہارسیکرٹری منصوبہ بندی ظفر حسن ،چیئرمین سرمایہ کاری بور ڈ زبیر گیلانی ، سیکرٹری سرمایہ کاری بورڈ عمر رسول و دیگر حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا جبکہ چیئرمین کمیٹی شیری رحمن نے کہاکہ یہ تاثر ہے کہ سی پیک کے منصوبوں پر کام رکا ہوا ہے، حکومت سی پیک کے حوالے سے بار بار پالیسی مت تبدیل کرے،تشویش ہے کہ اب سپیشل اکنامک زونز کے حوالے سے پالیسی تبدیل ہو رہی ہے، سی پیک اتھارٹی کے حوالے سے ٹی او آر ابھی تک کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے ، انھیں فورا کمیٹی کے سامنے پیش کریں ، سی پیک اتھارٹی میں صوبوں کی نمائندگی ہونی چاہیے، سی پیک اتھارٹی کے حوالے سے کسی آرڈیننس کو قبول نہیں کریں گے، حکومت جلدبل تیار کر کے پارلیمنٹ میں پیش کرے۔بدھ کو ایوان بالا کی خصوصی کمیٹی برائے سی پیک کا اجلاس کمیٹی چئیرمین سینیٹر شیری رحمن کی صدارت میں ہوا۔ چیئرمین کمیٹی شیری رحمن نے کہاکہ سی پیک اتھارٹی کے حوالے سے ٹی او آر ابھی تک کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے ، انھیں فورا کمیٹی کے سامنے پیش کریں،سینیٹ کی سی پیک کمیٹی نے اتھارٹی بنانے کی تجویز اس لیے کی تھی تاکہ منصوبے پر کام جلدی مکمل ہو،ہم نے کہا تھا کہ صوبوں کو اس میں شامل کیا جائے ،کمیٹی نے ایسی اتھارٹی ہرگز تجویز نہیں کی تھی جو پوری ٹیکنوکریٹ ہو، اگر اتھارٹی مرکزیت کی طرف جاتا ہے تو ہم اس کی حمایت نہیں کریں گے ،پارلیمنٹ کی سی پیک کمیٹی نے اتھارٹی کے قیام کو مسترد کر دیا ہے ، سی پیک اتھارٹی میں صوبوں کی نمائندگی ہونی چاہیے، سی پیک اتھارٹی کے حوالے سے کسی آرڈیننس کو قبول نہیں کریں گے، حکومت بل تیار کر کے لائے،سینیٹر جاوید عباسی نے کہاکہ تاثر گیا ہے کہ سی پیک اتھارٹی کمیٹی کی تجویز پر اتھارٹی قائم کی گئی ہے ،ہزارہ موٹر وے پر حولیاں پر رابطہ پل بننا تھا جو ایک سال سے رکا ہوا ہے ،لوگ کہ رہے ہیں کہ سی پیک پر کام رکا ہوا ہے ، ایسا لگتا ہے کہ آہستہ آہستہ اس پر کام بند کرنا چاہتے ہیں ،اتھارٹی کو اگر پارلیمنٹ کے قانون سازی کے زریعے بنانا چاہتے ہیں تو بل لائیں ، ایگزیکٹو آرڈر کے زریعے اتھارٹی کے قیام کی حمایت نہیں کریں گے ،سینیٹرعثمان خان کاکڑ نے کہاکہ سی پیک کا کہا جا رہا ہے وہ بند ہو گیا ہے ، ٹھیک ہے کہ بند ہو گیا ہے ،ہمیں ایسا منصوبہ نہیں چاہیے جس میں بلوچ پشتون کو فائدہ نہ ہو،اس سے بلوچستان کی کوئی تقدیر نہیں بدلی ،سی پیک اتھارٹی تو باکل قائم نہیں ہونی چاہیے جس میں صرف پانچ بندے ہوں،سیکرٹری منصوبہ بندی ظفر حسن نے کمیٹی کو بتایا کہ سی پیک اتھارٹی کے قیام کے لئے قانون سازی کے لئے مسودہ تیار کر لیا ہے،حکومت فیصلہ کرے گی کہ اس کو ایگز یکٹو آرڈر کے ذریعے لانا ہے یا پارلیمنٹ میں بل لانا ہے، چیئرمین سرمایہ کاری بور ڈ نے کمیٹی کو آ گاہ کیاکہ ماضی کا سپیشل اکنامک زونز کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے،سپیشل اکنامک زونز کے نام پر زمین پر قبضہ کیاگیا، ماضی میں یہی کچھ ہوا،سپیشل اکنامک زونز کے قانون میں نقائص ہیں ، یہ قومی ضروریات کو پوری نہیں کر رہا ، اس قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے،پاکستان کو کرنٹ اکائونٹ خسارہ کم کرنے کے لئے ایکسپورٹ کو بڑھانا ہے اور صنعتوں کو فروغ دینا ہے، قرضوں پر ملک نہیں چل سکتا،ہم سپیشل اکنامک زونز حوالے سے یوٹرن لے رہے ہیں اور قومی مفاد کے تابع بنا رہے ہیں،پاکستان کی ایکسپورٹ میں اضافے کے لیے ہم موجودہ ایکسپورٹرز پر انحصار نہیں کر سکتے ،ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں چینی کمپنیاں صنعت لگائیں ،پاکستان میں مصنوعات پر ویلیو ایڈیشن ہو اور اسے ایکسپورٹ کیا جائے ، ویتنام کی ایکسپورٹ 214ار ب ڈالر سے بڑھ گئی ہے،بنگلہ دیش کی برآمدات بھی 40ارب ڈالر سے بڑھ گئیں ہیں،جب ہم سی پیک لائے تھے تو کہنا چاہیے تھا کہ چینی کمپنیاں یہاں آئیں ، مال بنا کر باہر بھیجیں،سی پیک کے تحت تین معاشی زونز پر کام نہیں روک رہے ، ان پر کام جاری ہے ،جب سپیشل اکنامک زونز کے حوالے سے قانون تبدیل ہو گا تو ان سے زیادہ فائدہ ہو گا ، سینیٹر شیری رحمان نے کہاکہ تشویش ہے کہ اب سپیشل اکنامک زونز کے حوالے سے پالیسی تبدیل ہو رہی ہے، بار بار پالیسی تبدیل نہیں ہونی چاہیے، سپیشل اکنامک زونز کے لئے زمین ہتھیانے کے الفاظ بولے گئے ہیں،اب آپ ایک سال بعد کہ رہے ہیں کہ سپیشل اکنامک زونز پر یو ٹرن ہے ۔چئیرمین سرمایہ کاری بورڈ نے واضح کیا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اس سال کے اندر سپیشل اکنامک زون قانون میں تبدیلی لائیں ،اس قانون کے اطلاق میں خامیاں ہیں جو گزشتہ چند سالوں میں بڑھیں ،ہم چاہتے ہیں کہ سی پیک کے اسپیشل اکنامک زون وہ کام کرے جو ہماری ضروریات کو پورا کرے ،ہم انھیں وہی فائدہ دیں گے جو بنگلہ دیش ،وینام اور دیگر ممالک دے رہے ہیں، ہم اپنی جغرافیہ اور لیبر کو استعمال کریں گے، سیکریٹری سرمایہ کاری بورڈ نے کمیٹی کو آ گاہ کیاکہ سی پیک پر کام کسی قسم کی سست روی کا شکار نہیں ہوا، ملک میں سی پیک کے تحت نو خصوصی معاشی زونز بنیں گے ،تین زونز پر کام ترجیحی بنیاد پر کیا جائے گا ،سب سے پہلے رشکئی ، پھر فیصل آباد اور پھر دھابے جی اسپیشل اکنامک زون پر کام ہو گا ،رشکئی زون کے لیے زمین حاصل کر لی ہے ، دسمبر تک دس میگا واٹ بجلی مہیا کر دی جائے گی ،توقع ہے کہ دسمبر تک کمپنیوں کو رشکئی زون میںسرمایہ کاری کی دعوت دے دیں گے،فیصل آباد اسپیشل معاشی زون کے لیے 3 ہزار ایکڑ اراضی حاصل کر لی ہے ، دس میگا واٹ بجلی دسمبر تک آ جائے گی ،دھابے جی زون پر کام شروع ہونے میں دو سال لگ جائیں گے، سینیٹر عثمان کاکٹر نے کہاکہ بلوچستان میں بوستان صنعتی زون کو جلدی مکمل ہونے والے صنعتی زون میں کیوں نہیں شامل کیا گیا، کمیٹی سفارش کرے کہ اس کو جلدی مکمل ہونے والے صنعتی زونز میں شامل کیا جائے، سیکرٹری توانائی نے کمیٹی کو آ گاہ کیاکہ گوادر میں 300میگاواٹ کے کوئلہ کے توانائی کے منصو بے کے لئے نیپرا نے ٹیرف کا تعین کر لیا تھا لیکن منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی نے اعتراض کیاکہ یہ ٹیرف کم ہے ، اس نیپرا کو ریویو کی درخواست کی جس پر نیپرا نے ٹیرف پرنظر ثانی کر کے7.5سینٹ کیا لیکن کمپنی نے پھر بھی اعتراض کیا کہ زیادہ ہونی چاہیے جس پر کمپنی نے ٹرائیبیونل میںجانے کا فیصلہ کیا ہے جو دو ماہ کے اندر تشکیل دیا جائے گا۔ کمیٹی نے ملتان سکھر موٹر وے پر انٹر چینج بنانے کے لئے سینیٹر جاوید عباسی کی جانب سے پیش کی گئی قراداد بھی منظور کرلی۔ کمیٹی کو وزارت تجارت کے حکام نے آ گاہ کیاکہ چین کے ساتھ آزادانہ تجارت کا معاہدہ دسمبر تک رجسٹرڈ کر لیا جائے گا،معاہدے میں پاکستان کے مفادات کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے، معاہدے کے تحت پاکستان کو فراہم کی گئیں مراعات سے فائدہ اٹھانے کے لئے ایکشن پلان پر کام کر رہے ہیں