05:36 pm
لاک ڈاؤن مئوخرکرنے کا ہمارا کوئی ارادہ نہیں،اگر قیادت گرفتار ہوئی تو کیا کیا جائے گا

لاک ڈاؤن مئوخرکرنے کا ہمارا کوئی ارادہ نہیں،اگر قیادت گرفتار ہوئی تو کیا کیا جائے گا

05:36 pm

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خبردار کیا ہے کہ لاک ڈاؤن مئوخرکرنے کا ہمارا کوئی ارادہ نہیں ہے، گرفتاریوں سے سیلاب نہیں رکے گا، اگر قیادت گرفتار ہوئی اور قیادت کے بغیرپھرجو ہوگا اس کی ضمانت نہیں دے سکتے۔ انہوں نے آج یہاں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان پاکستان کیخلاف وعدہ معاف گواہ بن گیا ہے، عمران خان اپنے گاؤں کا مسئلہ حل نہیں کرسکتا وہ ملک کا مسئلہ کیسے حل کرے گا؟ کشمیرکی حیثیت ختم کرنا مودی کی انتخابی مہم کا حصہ تھا۔
انہوں نے کہا کہ 25جولائی کا الیکشن ملکی تاریخ کا بدترین الیکشن تھا۔ دونوں بڑی جماعتیں ن لیگ اورپیپلزپارٹی ہم سےرابطےمیں ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم احتساب کے خلاف نہیں ہیں۔احتساب کے ادارے ابھی حکومت کے لئے استعمال ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ اور لاک ڈاؤن مئوخرکرنے کا ہمارا کوئی ارادہ نہیں ہے، گرفتاریوں سے سیلاب نہیں رکے گا، اگر قیادت گرفتار ہوئی اور قیادت کے بغیرپھرجو ہوگا اس کی ضمانت نہیں دے سکتے۔دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رہنماء احسن اقبال نے انٹرویومیں کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ کے مطالبات میں آئین کی حفاظت اور اس کی بالادستی، حکومت کی رخصتی اور 90 دن میں نئے انتخابات شامل ہیں۔ہم نے فضل الرحمان کے کو کچھ استفسارات کیے ہیں کہ ایک سیاسی مطالبات کی فہرست ہونی چاہیے، ن لیگ نہیں چاہتی کہ مذہبی انتشار پھیلے کیوں کہ ہم فیض آباد کا دھرنا بھگت چکے ہیں۔انہوںنے کہاکہ احتجاج کی تاریخ پر بھی اختلاف ہے کیوں کہ اس وقت راولپنڈی اور اسلام آباد میں ڈینگی پھیلا ہوا ہے جو کہ نومبر میں ختم ہوجائے گا، دوسری بات یہ کہ دس نومبر کو 12 ربیع الاول بھی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ نومبر کے آخری ہفتے کی کوئی تاریخ مقرر کی جائے۔احسن اقبال نے کہاکہ مولانا چاہتے ہیں کہ اکتوبر کے آخر میں احتجاج کیا جائے اور اس حوالے سے ن لیگ نے گزارش کی ہے کہ تاریخ پر نظر ثانی کی جائے۔ملک میں احتساب کے سوال پر احسن اقبال نے جواب دیا کہ سیاست دانوں کی طرح سابق ججز کا بھی احتساب ہونا چاہیے، ثاقب نثار نے ڈیم اور کنڈنی اینڈ ٹرانسپلانٹ کے ادارے کو نقصان پہنچایا لیکن اس کو پوچھنے والا کوئی نہیں۔انہوںنے کہاکہ اپوزیشن ہر مثبت اقدام پر حکومت کیساتھ ہے کیوں کہ نیب کا قانون اتفاق رائے سے ہی تبدیل ہو سکتا ہے۔امریکہ میں عمران خان کے بیانات پر رد عمل دیتے ہوئے ن لیگی رہنما نے کہا کہ ملکی کے لیے سیکیورٹی رسک بننے سے بہتر ہے آپ کاغذ سے دیکھ کر پڑھ لیں۔