06:07 am
مسئلہ کشمیرحل نہ کیا گیا تو یہ اقوام متحدہ کی مکمل ناکامی ہوگی

مسئلہ کشمیرحل نہ کیا گیا تو یہ اقوام متحدہ کی مکمل ناکامی ہوگی

06:07 am

اسلام آباد(نیوزڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کشمیر کی صورتحال سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا، میری وضاحت کی وجہ سے انہوں نے کشمیر کی صورتحال پر بیان دیا، امریکا کو اپنا وزن اقوام متحدہ کے پلڑے میں ڈالنا چاہیے، اگر مسئلہ کشمیرحل نہ کیا گیا تو یہ اقوام متحدہ کی مکمل ناکامی ہوگی.نیویارک میںایشیاسوسائٹی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کو کرنا چاہیے، کیا مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی 9 لاکھ فوج دہشت گردی روکنے کے لیے ہے؟ خطے میں جنگ ہوئی تو صرف تیل کی قیمت میں اضافہ ہی غربت بڑھا دے گا،
مقبوضہ کشمیر کی صورتحال میں یہی ایکشن لینے کا وقت ہے. انہوں نے کہا کہ اپنی ہرممکن کوشش کررہے ہیں،مسئلہ کشمیر انتہائی پیچیدہ ہے،عالمی راہنماؤں کو مقبوضہ کشمیرکی صورتحال سمجھانے میں کامیاب رہا ہوں،صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ثالثی کا کہا تھا.وزیراعظم نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے اسلامی دہشت گردی جیسے الفاظ استعمال کر رہا ہے، پاکستان اور بھارت کو چاہیے کہ وہ کشمیریوں کو آزادانہ فیصلے کی اجازت دیں. انہوں نے کہا کہ تاریخ پر نظر ڈالیں تو تمام جنگیں غلط حساب کتاب لگانےکی وجہ سے ہوئیں، افغانستان کی جنگ کے بارے میں خیال کیا گیا تھا چند ہفتے چلے گی، میں جنگ کی دھمکی نہیں دے رہا،دنیا کو صورتحال سے خبردار کر رہا ہوں‘اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات میں انہیں قائل کرنےکی کوشش کروں گا.عمران خان نے کہا کہ کرفیو ہٹنے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی ہے، مقبوضہ کشمیرمیں خونریزی ہوئی تو پاکستان میں بھی صورتحال خراب ہوگی، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال ا±جاگر کرنے کے لیے میں نے ہر ممکن کوشش کی، مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر ہم اپنی بہتر کوشش ہی کرسکتے ہیں. انہوں نے کہا کہ بھارت میں رہنے والے کروڑوں مسلمانوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے، عالمی برادری کو کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر بھی توجہ دینی چاہیے.انہوں نے کہا کہ نبی کریمﷺ نے ہی سب سے پہلے فلاحی ریاست کی بنیاد رکھی، قانون کی حکمرانی مہذب اور غیرمہذب معاشر ے میں تمیز کرتی ہے، میں نے منتخب ہونے کے بعد ہمسایہ ملک کو مذاکرات کی دعوت دی. واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے زیراہتمام مذکراے میں وزیراعظم عمران خان نے امیر اور طاقتور مغربی ممالک کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا تھا کہ امیر ممالک امداد نہ دیں،امداد غریب ممالک کی مدد نہیں کرتی، دنیا میں منی لانڈرنگ روکنے کے لیے سخت قوانین کی ضرورت ہے، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ غیرقانونی رقوم کی نقل و حرکت پوری دنیا میں ترقی یافتہ ممالک کو متاثر کرنے کے ساتھ ترقی پذیر ممالک کو تباہ و برباد کردیتی ہے.عمران خان نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ لوگ منی لانڈنگ کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک میں غربت، اموات، تباہی اور انسانی ترقی پر پڑنے والے اثرات سے ناواقف ہیں ‘ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 10 برس میں پاکستان کی کرپٹ قیادت نے مجموعی طور پر اتنا قرضہ لیا جو گزشتہ 60 برس میں بھی نہیں لیا گیا تھا‘پاکستان منی لانڈرنگ کے خاتمے اور لوٹی ہوئی رقم کی واپسی کے لیے اقدامات کررہا ہے.وزیراعظم نے واضح کیا کہ ان کی حکومت نے بیرون ملک جائیداد بنانے والے پاکستانیوں کی نشاندہی کرلی ہے جبکہ قانونی سقم کو دور کرکے منی لانڈرنگ انتہائی مشکل بنادی ہے‘انہوں نے کہا کہ میں حیران ہوں کہ امیر ملک آف شور کمپنیوں کی اجازت کیوں دیتے ہیں؟انہوں نے ترقی یافتہ ممالک کو مخاطب کرکے کہا کہ امیر ممالک منی لانڈرنگ کے سدباب کے لیے زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے کیونکہ اس طرح انہیں فائدہ پہنچتا ہے.وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لیے امیر ملکوں میں سیاسی عزم کی ضرورت ہے‘انہوں نے کہا کہ ٹیکس چوری، ٹیکس کی عدم ادائیگی، کرپشن اور منی لانڈرنگ کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک اربوں ڈالر سے محروم ہوجاتے ہیں جو ان کی ترقی میں خرچ ہوسکتے ہیں اور اس کے سدباب کے لیے مشترکہ لائحہ عمل وقت کی اہم ضرورت ہے. انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل اکانومی پر ٹیکس ادائیگی ایک نیا چینلج ہے جس کے لیے بھرپور تعاون ضروری ہے‘کانفرنس میں شریک دیگر راہنماؤں اور اقتصادی ماہرین نے منی لانڈرنگ سمیت دیگر غیرقانون رقوم کی نقل و حرکت اور اس کے نقصانات سے متعلق گفتگو کی. اس ضمن میں تھامس رائٹرز کی ماہر اقتصادیت سینہا شاہ نے بتایا کہ عالمی بینگ نظام میں گردش ہونے والی تقریباً 86 فیصد رقم غیرقانونی ہے‘انہوں نے بتایا کہ ہر سال غیرقانونی رقوم کی نقل و حرکت کے باعث 15 کھرب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ ہم یہ جنگ نہیں جیتے رہے کیونکہ نقصان ہونے والی رقم کا صرف ایک فیصد حاصل کرپاتے ہیں.

تازہ ترین خبریں