07:19 am
بحریہ یونیورسٹی کی طالبہ پانچویں فلور سے نیچے گر کر جاں بحق

بحریہ یونیورسٹی کی طالبہ پانچویں فلور سے نیچے گر کر جاں بحق

07:19 am

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) زندگی اتنی سستی ہے کہ کبھی کبھی موت کے مہنگا ہونے کا گماں ہوتا ہے۔جب نوجوان بیٹا یا بیٹی کی لاش کو کندھا دینا پڑ جائے تو باپ کے قدموں میں جان نہیں رہتی اور کاندھوں میں طاقت۔ وہ پھول سے بچے کہ جنہیں بچپن سے بڑی محنت سے پال پوس کر بڑا کیااور انہیں افسر بنائے جانے کے والدین سپنے دیکھتے ہیں یا پھر بیٹیوں کی ڈولیاں اٹھانے اور ان کے ہاتھوں پر لگی مہندی دیکھنے کے والدین سپنے دیکھتے اور ان کا جہیز اکٹھا کرتے کرتے بوڑھے ہو جاتے ہیں
اگر ان کے سپنے پورے نہ ہوں اور ان کی بیٹیوں کے ہاتھ مہندی نہ لگے تو وہ والدین جیتے جی مر جاتے ہیں۔ اگر موت نا گہانی ہو تو افسوس نہیں ہوتالیکن اگر کسی ادارے کی بدانتظامی یا نااہلی کی وجہ سے ہو جائے تو دکھ سوا سیر ہو جاتا ہے۔ حلیمہ نامی لڑکی بھی والدین کے سپنے پورے کرنے کے لیے بحریہ یونیورسٹی میں بی ایس فنانسنگ کی طالبہ تھی۔گزشتہ روز قضا نے اسے آن گھیرا اور وہ پانچویں فلور سے گر کر جاں بحق ہو گئی۔پانچویں فلور پر فرش میں جہاں گیپ تھا وہاں یونیورسٹی انتظامیہ نے شاپر ڈال رکھا تھا معصوم حلیمہ نے شاپر والی جگہ پر پاؤں رکھا اور پہلے فلور پر آ رہی۔ بحریہ یونیورسٹی میں 5 ویں فلور پر واقع اس اوپن جگہ کو مبینہ طور پر شاپر کے ساتھ کور کیا گیا تھا طالبہ (حلیمہ )نے پاؤں رکھا اور گراؤنڈ فلور پر جا گری اور موقعہ پر جاں بحق ہو گئی۔۔یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنی غلطی ماننے کی بجائے الٹا یہ خبر دی کہ جس بلاک میں حلیمہ کی موت واقع ہوئی ہے وہ بلاک کئی ہفتوں سے بند تھا جبکہ طالبعلموں کا کہنا ہے کہ وہ اسی بلاک میں کلاسز لے رہے تھے جہاں حلیمہ کی موت ہوئی ہے۔تاہم یہ ایک حادثاتی موت نہیں بلکہ قتل ہے جس کا الزام انتظامیہ کے سر جاتا ہے۔


تازہ ترین خبریں