12:36 pm
حکومت کی ’پے پال‘ کو پاکستان میں لانے کی کوششیں تیز , امریکی آن لائن کمپنی کب تک پاکستان میں آجائے گی

حکومت کی ’پے پال‘ کو پاکستان میں لانے کی کوششیں تیز , امریکی آن لائن کمپنی کب تک پاکستان میں آجائے گی

12:36 pm

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کی حکومت نے ایک بارپھر آن لائن ادائیگیوں کا نظام چلانے والی بین الاقوامی امریکی کمپنی پے پال کو ملک میں لانے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حکومتی ذمہ داران کو امید ہے کہ آئندہ برس جون تک کمپنی پاکستان میں اپنی خدمت کی فراہمی کا آغاز کر دے گی۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کے ایک اعلیٰ افسرکا کہنا ہے کہ پاکستان کا ایک وفد رواں ماہ ہی کمپنی کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کے لیے امریکا جا رہا ہے۔
جہاں کمپنی کو حکومت پاکستان کی طرف سے مکمل سولیات اور تحفظ کی یقین دہانی کروائی جائے گی۔حکومت کو یقین ہے کہ آن لائن ادائیگی کرنے والی سب سے بڑی کمپنی 2020ء تک پاکستان میں ہو گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے پاکستان کی برآمدات میں 5 ارب ڈالر کا اضافہ کیا جائے گا۔۔ واضح رہے کہ پے پال پوری دنیا کی 190مارکیٹس میںآ ن لائن ادائیگیوں کا نظام چلاتی ہے جس سے رقوم آن لائن طریقے سے منتقل کی جاتی ہیں۔ پاکستان کے فری لانسر اور ای کامرس سے وابستہ افراد طویل عرصے سے مطالبہ کر رہے تھے کہ پے پال کو پاکستان لایا جائے، سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے پے پال کو پاکستان لانے کی کوششوں کے لیے اپنے عزم کا اظہار بھی کیا تھا تاہم ان کی کوششیں ضائع ہو گئی تھیں کیونکہ پیسوں کی آئن لائن منتقلی کرنے والی کمپنی پے پال نے پاکستان آنے سے انکار کر دیا تھا۔ جس سے پاکستانی فری لانسرز میں مایوسی بھی پیدا ہوئی۔واضح رہے کہ پاکستان کی فری لانسر کمیونٹی جدنیا کی تیسری بڑی کمیونٹی ہے۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اگر پے پال پاکستان آتی ہے تو اس سے 2 لاکھ فری لانسرز اور 7 ہزار چھوٹے کاروبار کرنے والے افراد کو بہت زیادہ سہولت ملے گی اس کے علاوہ پاکستان میں ہزاروں ایسے آن لائن کام کرنے والے افراد بھی ہیں جو ابھی رجسٹرڈ نہیں ہیں۔

تازہ ترین خبریں