04:45 pm
102ممالک کے لوگوں نے تہجد کے ساتھ میری بریت کی دعا کی

102ممالک کے لوگوں نے تہجد کے ساتھ میری بریت کی دعا کی

04:45 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ماڈل کورٹ کے جج عمران شفیق نے گذشتہ روز محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا اور قندیل بلوچ قتل کیس کے مرکزی ملزم وسیم کو عمر قید کی سزا سنا دی۔ ملزم وسیم قندیل بلوچ کا بھائی تھا۔ جبکہ مقدمے میں نامزد مفتی عبد القوی سمیت دیگر ملزمان کو کیس سے بری کر دیا گیا ہے۔عدالت نے مفتی عبد القوی کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔ اس حوالے سے مفتی عبد القوی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں صبح آیا تھا
حاضری لگوا کر چلا گیا،اس کے بعد اب آیا ہوں جب فیصلہ سنایا گیا۔فیصلے میں مجھے باعزت بری کیا گیا،میرے خلاف کسی قسم کی شہادت نہیں آئی۔مفتی عبدالقوی نے مزید کہا کہ مجھے تو رویت ہلال والا منظر یا د آ رہا تھا جب کہتے تھے کہ پورے ملک میں کہیں بھی چاند کی شہادت موصول نہیں ہوئی،اسی طرح میرے خلاف بھی کوئی شہادت نہیں ملی۔ پورے پاکستان کے 22 کروڑ عوام میں پولیس سمیت کسی نے بھی میرے خلاف شہادت نہیں دی۔انہوں نے مزید کہا کہ آج انصاف کا دن ہے، آج انصاف کی فتح ہوئی ۔ آج کا دن تاریخی ہے۔ مفتی عبدالقوی نے مزید کہا آج کا دن وزیراعظم عمران خان کی تقریر اور میرے باعزت بری ہونے کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، مفتی عبدالقوی نے مزید کہا کہ 102ممالک کے لوگوں نے تہجد کے ساتھ میری بریت کی دعا کی،آج قبولیت کا دن ہے۔ جمعہ کا دن تحریک انصاف کے لیے مبارک دن ہے۔واضح رہے ماڈل کورٹ نے ماڈل قندیل بلوچ قتل کیس کا فیصلہ آج سنایا ہے۔جس میں قندیل بلوچ قتل کیس کے مرکزی ملزم وسیم کو عمر قید کی سزا دی گئی جب کہ مفتی عبد القوی سمیت دیگر ملزمان کو بری کر دیا گیا۔یاد رہے کہ ماڈل قندیل بلوچ کو 16 جولائی 2016ء کی شب ملتان کے علاقہ مظفر آباد میں قتل کر دیا گیا تھا ۔ معروف سوشل میڈیا اسٹار قندیل بلوچ کو کو ملتان میں ان کے آبائی گھر میں قتل کیا گیا تھا جس کے بعد قندیل بلوچ کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا جو تقریباً تین سال تک چلا۔ مقدمہ میں کم و بیش 130 پیشیاں ہوئیں۔ جس کے بعد آج قندیل بلوچ قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے۔

تازہ ترین خبریں