05:45 pm
اگر نو لاکھ جانوروں کو ایک جگہ بند کر دیا جائے تو برطانیہ میں احتجاج شروع ہو جائے گا

اگر نو لاکھ جانوروں کو ایک جگہ بند کر دیا جائے تو برطانیہ میں احتجاج شروع ہو جائے گا

05:45 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اگر نو لاکھ جانوروں کو ایک جگہ بند کر دیا جائے تو برطانیہ میں احتجاج شروع ہو جائے گا مودی نے تو نو لاکھ کشمیریوں کو قید کر رکھا ہے اقوام متحدہ کو جاگنا ہوگا- بھارت مقبوضہ کشمیر سے 50 دنوں پر مبنی کرفیو فوری اٹھائے۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی 74ویں جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران کہا ہے کہ اقوام متحدہ کو کشمیر میں جاری بھارتی مظالم پر فوری ایکشن لینا چاہیے اور مظلوم کشمیریوں پر سے کرفیو فوری ہٹانے کے لیے اقدامات کرنے چاہیئیں۔ مزید تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کے 74ویں جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا
کہ میں آج یہاں چار اہم امورپربات کروں گا۔ پاکستان کی نمائندگی اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہوں۔ سمجھتا ہوں کہ ماحولیات سے نمٹنے کیلیےبہت سے لیڈرسنجیدگی نہیں دکھا رہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سےمتاثر 10 ممالک میں شامل ہے۔ پاکستان میں بھی گلیشئرزتیزی سے پگھل رہے ہیں۔ پاکستان میں 80 فیصد پانی گلیشیئرزسے آتا ہے۔ موسمیات تبدیلی سے متعلق بہت سے ممالک کے سربراہان نے بات کی۔ اقوام متحدہ کو موسمی تبدیلی پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ گلیشئرزپگھلتے رہے اور کچھ نہ کیا تو بڑی تباہی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کے پی میں ایک ارب سے زیادہ درخت لگائے۔ صر ف ایک ملک کچھ نہیں کرسکتا،سب ملکوں کی ذمے د اری ہے۔ امید کرتا ہوں اقوام متحدہ ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں قدم اٹھائے گا۔ گرین ہاؤس گیسز میں پاکستان کا حصہ انتہائی کم ہے۔ عمران خان نے منی لانڈرنگ کے حوالے سے بتایا کہ ہر سال اربوں ڈالر غریب ملکوں سے ترقی یافتہ ملکوں میں چلے جاتے ہیں۔ امیر افراد اربوں ڈالر غیر قانونی طریقے سے یورپ کے بینکوں میں منتقل کردیتے ہیں۔ ہمارے ملک کا قرضہ 10برسوں میں چار گنا بڑھ گیا۔ غریب ملکوں کو اشرافیہ طبقہ لوٹ رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں ٹیکس کی آدھی رقم قرضوں کی ادائیگی میں چلی جاتی ہے۔ ہمیں مغربی ملکوں میں بھیجی گئی رقم واپس لینے میں مشکلات کا سامنا رہا۔ امیر ممالک کو چاہیے کہ وہ غیر قانونی ذرائع سےآنیوالی رقم کے ذرائع روکیں۔ غریب ملکوں سے لوتی گئی رقم غریبوں کی زندگیاں بدلنے پر خرچ ہوسکتی ہے۔ ہم نے مغربی دارالحکومتوں میں کرپشن سے لی گئی جائیدادوں کا پتا چلایا۔ امیر ممالک میں ایسے قانون ہیں جوکرمنلز کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ کرپٹ حکمرانوں کو لوٹی گئی رقم بیرون ممالک بینکوں میں رکھنے سے روکا جائے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میرے خطاب کا تیسرا نکتہ اسلام فوبیا ہے۔ نائن الیون کے بعد سے اسلام فوبیا میں اضافہ الارمنگ ہے۔ اسلام فوبیا کی وجہ سے دنیا میں تقسیم بڑھی۔ افسوس کی بات ہے مسلم ملکوں کے سربراہوں نے اس بارے میں توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام صرف ایک ہے جو حضورﷺ نے ہمیں سکھایا۔ اسلام فوبیا کی وجہ سے بعض ملکوں میں مسلم خواتین کا حجاب پہننا مشکل بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کا کسی بھی مذہب کیساتھ کوئی تعلق نہیں۔ کچھ عالمی لیڈرز نے دہشتگردی کو اسلام سے جوڑا۔ ماضی میں خود کش حملوں اور اسلام کوجوڑا گیا۔ بنیاد پرست اسلام یا دہشتگرد اسلام کچھ نہیں ہوتا۔ لیکن بھی افسوس کی بات ہے بعض سربراہان اسلامی دہشتگردی اور بنیاد پرستی کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ کوئی مذہب بنیاد پرستی نہیں سکھاتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ماضی میں حکومت نے روشن خیال اسلام کی اصطلاح استعمال کی۔ جبکہ مسلم لیڈرز نے ماضی میں اسلامو فوبیا کے بارے میں بات نہیں کی۔ عمران خان نے کہا کہ نائن الیون سے پہلے تامل ٹائیگرز نے بڑی دہشتگردی کی لیکن تامل ٹائیگرز ہندو تھے۔ اس کسی نے ہندوازم کو دہشتگردی سے نہیں جوڑا؟ عمران خان نے کہا کہ مغربی لوگوں کوسمجھ نہیں آتا کہ پیغمبرﷺکی توہین مسلمانوں کیلئے بہت بڑ ا مسئلہ ہے۔ جب اسلام کی توہین پرمسلمانوں کاردعمل سامنے آتا ہے تو ہمیں انتہا پسند کہہ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام پہلا مذہب ہے جس نے غلامی ختم کی۔اور اقلیتوں کو برابر کے حقوق دیے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میرے خطاب کا چوتھا نکتہ اور یہاں آنے کا اہم مقصد مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بتانا ہے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ 2001ء کے بعد پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شمولیت اختیار کی۔ میں نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کے شامل ہونے کی مخالفت کی تھی۔ جب ہم اقتدار میں آئے تو پہلی ترجیح تھی کہ پاکستان خطے میں امن لے کرآئے۔ پاکستان میں 70 ہزارافراد دہشتگردی کیخلاف جنگ میں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ جبکہ نائن الیون واقعے میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا۔ پھر بھی ہزار پاکستانی ایسی جنگ میں مارے گئے جن کا اس سے تعلق ہی نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر بات سے پہلے میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہماری حکومت جنگ کیخلاف ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ اقوام متحدہ کا امتحان ہے کہ کشمیریوں کو ان کاحق خودداریت دلوایا جائے، کیا اقوام متحدہ 1.2ارب لوگوں کوخوش کرے گا یا عالمی انصاف کو مقدم رکھے گا؟ اگر عالمی برادری نے مداخلت نہ کی تو دوایٹمی طاقتیں سامنے کھڑی ہیں۔ پاکستان اور بھارت میں جنگ ہوئی توکچھ بھی ہوگا۔ لہذا بھارت مقبوضہ کشمیر سے 50دن سے زائد جاری کرفیو اٹھائے۔

تازہ ترین خبریں