05:46 pm
27 فروری کے بعد اب 27 ستمبر، سرپرائز، ایک اور سرجیکل اسٹرائیک

27 فروری کے بعد اب 27 ستمبر، سرپرائز، ایک اور سرجیکل اسٹرائیک

05:46 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) 27 فروری کے بعد اب 27 ستمبر، سرپرائز، ایک اور سرجیکل اسٹرائیک! وزیراعظم کے تاریخی خطاب پر ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور کا زبردست ردعمل۔ تفصیلات کے مطابق ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے ٹوئٹر پر اپنے ذاتی اکاونٹ سے وزیراعظم عمران خان کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کیے گئے تاریخی خطاب پر ردعمل دیا ہے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا ہے کہ پاکستان نے 27 فروری کو بھارت پر سرجیکل اسٹرائیک کی تھی، اور اب 27 ستمبر کو ایک مرتبہ پھر پاکستان نے بھارت پر سرجیکل اسٹرائیک کر کے اسے سرپرائز دے دیا۔ اس سے قبل وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کے 74ویں جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لا اله الا الله، ہم آخری سانس تک لڑیں گے، کیا ہم مسلمان کم تر مخلوق ہیں؟ اب بھارت کو کرفیو اٹھانا پڑے گا،
اس صورت حال میں اقوام متحدہ پر ذمے داری عائد ہوتی ہے، اگر عالمی برادری نے مداخلت نہیں کی تو دو جوہری ملک آمنے سامنے ہوں گے، کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینی پڑی گی، ورنہ جنگ ہوئی توہمارے پاس کوئی آپشن نہیں بچے گا، کیا اقوام متحدہ 1.2ارب لوگوں کوخوش کرے گا یا عالمی انصاف کو مقدم رکھے گا؟ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کے 74ویں جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب کیا ہے۔ وزیراعظم نے پہلی مرتبہ اقوام متحدہ کے کسی اجلاس میں بھارتی جاسوس اور دہشت گرد کلبھوشن یادیو کا ذکر کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے کلبھوشن یادیو کو پاکستان میں دہشت گردی کیلئے بھیجا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور آر ایس ایس گجرات کے قصائی ہیں جنہوں نے مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ یہ لوگ مغرور اور دہشت گرد ہیں۔ یہ لوگ مسلمانوں کی نسل کشی کرنا چاہتا ہیں۔ اور دنیا صرف اس لیے خاموش رہتی ہے کیونکہ اس کے بھارت میں تجارتی مفادات ہیں۔ ایسا طرز عمل شرمناک اور افسوسناک ہے۔ مودی کی انا اور تکبر نے انہیں نابینا بنا دیا ہے، مودی آر ایس ایس کا مستقل رکن ہے جو ہٹلر اور مسولینی کی پیروکار تنظیم ہے، آر ایس ایس بھارت سےمسلمانوں ،عیسائیوں سے نسل پرستی کی بنیاد پر قائم ہوئی، آر ایس ایس ہٹلر سے متاثر ہو کر بنی۔ اس سے قبل وزیراعظم نے عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی نمائندگی کرنا اعزاز کی بات ہے، میں 4 اہم نکات پر بات کرنا چاہتا ہوں۔ موسمیاتی تبدیلی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلوں سے متاثر 10 ممالک میں شامل ہے، موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان کے گلیشئر پگھل رہے ہیں، اقوام متحدہ کو موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے، اکیلا ملک کوئی بھی اقدامات نہیں کرسکتا۔ اسلام فوبیا سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ نائن الیون کے بعد سے اسلاموفوبیا میں اضافہ الارمنگ ہے۔ مغرب میں کچھ لیڈرز نے اسلام کو دہشت گردی سے جوڑا۔ اسلاموفوبیا کی وجہ سے بعض ملکوں میں مسلم خواتین کا حجاب پہننا مشکل بنا دیا گیا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ بنیاد پرست اسلام یادہشت گرد اسلام کچھ نہیں ہوتا، اسلام صرف ایک ہے جو حضرت محمدﷺ لے کر آئے۔ دہشت گردی کا کسی بھی مذہب کیساتھ کوئی تعلق نہیں۔ وزیراعظم کا مزید کہنا ہے کہ امیر افراد اربوں ڈالر غیر قانونی طریقے سے یورپ کے بینکوں میں منتقل کردیتے ہیں، ہر سال اربوں ڈالر غریب ملکوں سے ترقی یافتہ ملکوں میں چلے جاتے ہیں، غریب ملکوں کو اشرافیہ طبقہ لوٹ رہا ہے، ہمارے ملک کا قرضہ 10برسوں میں چار گنا بڑھ گیا، اس کے نتیجے میں ٹیکس کی آدھی رقم قرضوں کی ادائیگی میں چلی جاتی ہے۔ غریب ملکوں سے لو ٹی گئی رقم غریبوں کی زندگیاں بدلنے پر خرچ ہوسکتی ہے۔

تازہ ترین خبریں