09:29 am
کپتان کے جنرل اسمبلی میں دھواں دار خطاب کے بعد جانتے ہیں

کپتان کے جنرل اسمبلی میں دھواں دار خطاب کے بعد جانتے ہیں

09:29 am

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کے اقتدار میں آنے کے بعد ہی ان کے مخالفین نے کئی مواقع پر پراپیگنڈہ کیا اور یہ تاثر دیا کہ متقدر حلقے عمران خان کو بطور وزیراعظم لے لر آئے اس لیے عمران خان الیکٹڈ نہیں بلکہ سیلیکٹڈ ہیں جنہیں ووٹوں کے ذریعے منتخب ہونا تھا لیکن اُن کا انتخاب کسی اور طریقے سے کر لیا گیا اور انہیں ملک کی وزارت عظمیٰ سونپ دی گئی۔ عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کئی موقعوں پر خود کو گذشتہ ادوار حکومت کے حکمرانوں سے الگ اور منفرد ثابت کیا لیکن عمران خان کے مخالفین نے ان کے خلاف نہ صرف پراپیگنڈہ کیا بلکہ ان پر خوب تنقید بھی کی۔ وجہ صرف ایک ہی تھی
کہ وہ سیاسی حریف تھے۔ عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف اقتدار میں آئی تو ملک کو معاشی تنگی کا سامنا تھا جس کے لیے وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم نے کافی دوڑ دھوپ کی اور کئی ممالک سے قرضہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ وزیراعظم عمران خان نے اسی طرح ملک کے دیگر مسائل پر بھی توجہ دی اور کئی قابل تعریف اقدامات کیے۔ لیکن اس کے باوجود وزیراعظم عمران خان ''سیلیکٹڈ'' اور ''لاڈلے'' ہی کہلائے۔ تاہم اب وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان نے گذشتہ رات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس سے خطاب کیا جس میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر پر ڈھائے جانے والے مظالم اور دنیا بھر میں مسلمانوں کے حوالے سے پائے جانے والے اسلام فوبیا پر بات کی اور پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کا مؤقف پوری دنیا کے سامنے پیش کیا۔ وزیراعظم عمران خان کی اس تقریر کو مسلم اُمہ کی جانب سے خوب سراہا گیا۔ عمران خان نے اجلاس سے 45 منٹ تک خطاب کیا جس میں انہوں نے دہشتگردی پر بھی بات کی اور دنیا کو یہ بآور کروایا کہ اسلام ایک پُر امن مذہب ہے جس کا دہشتگردی سے کوئی تعلق نہیں ہے لہٰذا دہشتگردی کو اسلام سے جوڑنے کا یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہئیے۔ وزیراعظم عمران خان کی اس تقریر نے مسلم اُمہ کے دل جیت لیے اور ان کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں نے وزیراعظم عمران خان کی سلامتی کی دعائیں کیں جبکہ کروڑوں لوگوں ن ان کی تقریر کو خوب سراہا۔ وزیراعظم عمران خان کی اقوام متحدہ میں کی گئی تقریر بلا شُبہ وقت کی ضرورت اور کسی بھی مسلم رہنما کی جانب سے کی جانے والی بہترین تقریر کی ، عمران خان کی تقریر نہ صرف متوازن تھی بلکہ ان کی تقریر میں وہ تمام پہلو موجود تھے جن پر بات ہونا لازمی تھا۔ عمران خان کی تقریر ان کے ناقدین کے لیے بھی منہ توڑ جواب تھا لیکن ان کے مخالفین ان کی اس تقریر پر بھی ناخوش ہیں۔ عمران خان کے چاہنے والوں نے اس تقریر کے بعد بھی عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔ عمران خان کے چاہنے والوں کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی تقریر عمران خان کے ناقدین کے لیے ایک کرارا جواب ہے۔ اس کے بعد ابھی اگر عمران خان کو ''سیلیکٹڈ'' کہا جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ عمران خان یقیناً بہترین ''سیلیکشن'' ہیں۔