09:57 am
وزیراعظم عمران خان کے بعد اب چین کی بھی بھارت پر زبردست سرجیکل اسٹرائیک

وزیراعظم عمران خان کے بعد اب چین کی بھی بھارت پر زبردست سرجیکل اسٹرائیک

09:57 am

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کے بعد اب چین کی بھی بھارت پر بھرپور سرجیکل اسٹرائیک"۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے تاریخی خطاب کے بعد چینی وزیر خارجہ نے بھی اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس سے دھواں دار خطاب کیا اور بھارت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ چینی وزیر خارجہ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور یکطرفہ اقدامات کی مذمت کی۔ چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ چین ایک ہمسائے کی حیثیت سے تنازعہ کشمیر کا حل چاہتا ہے۔ کشمیر کے معاملے میں بھارت یکطرفہ اقدامات سے باز رہے۔ جبکہ تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے اقوام متحدہ کردار ادا کرے، کشمریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقوق دیے جائیں۔
اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کے 74ویں جنرل اسمبلی اجلاس سے تاریخی خطاب کیا۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب کے اختتام پر عالمی برادری کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ لا اله الا الله، مسلمان ایک اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، مسلمان اپنے دفاع اور آزادی کیلئے آخری سانس تک لڑیں گے۔ وزیراعظم نے سوال کیا کہ کیا مسلمان کم تر مخلوق ہیں جو دنیا کو ان پر ہونے والے مظالم نظر نہیں آتے؟ وزیر اعظم عمران خان نے مسلمانوں پر مظالم کے حوالے سے خطاب میں کہا کہ دہشت گردی کو اسلام سے جوڑا جاتا ہے اور پوری دنیا خاموش رہتی ہے، اگر لاکھوں یہودی اس طرح محصور ہوں تو کیا ہوگا؟ روہنگیا میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا، دنیا نے کیا رد عمل دیا؟ اگرخونریزی ہوئی تو مسلمانوں میں انتہا پسندی اسلام کی وجہ سے نہیں بلکہ انصاف نہ ملنے کی وجہ سے ہوگی۔ انہوں نے دنیا کو ایک ایک بار پھر خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری نے مداخلت نہیں کی تو دو جوہری ملک آمنے سامنے ہوں گے، اس صورتحال میں اقوام متحدہ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے، اگر پاکستان اور بھارت میں روایتی جنگ ہوتی ہے تو کچھ بھی ہوسکتاہے، یہ وقت اقوام متحدہ کی آزمائش کا ہے،کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلوایا جائے۔ وزیراعظم نے جنرل اسمبلی میں بھارت سے مطالبہ کیا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر سے 50 روز سے زائد جاری کرفیو اٹھائے، کیا اقوام متحدہ ایک ارب 20 کروڑ لوگوں کو خوش کرے گا یا عالمی انصاف کو مقدم رکھے گا؟ عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ فرض کریں کہ ایک ملک اپنے پڑوسی سے سات گنا چھوٹا ہے، اسے دو آپشنز دیے جاتے ہیں، یا تو وہ سرنڈر کردے یا پھر اپنی آزادی کیلئے آخری سانس تک لڑے، ایسے میں ہم کیا کریں گے؟ میں خود سے یہ سوال پوچھتا ہوں، اور میرا یقین ہے کہ لا اله الا الله ہم لڑیں گے۔