10:33 am
وزیراعظم عمران خان کو 45منٹ کیوں دیے گئے

وزیراعظم عمران خان کو 45منٹ کیوں دیے گئے

10:33 am

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) گذشتہ روز وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس سے خطاب کیا۔ وزیراعظم عمران خان کا خطاب 45 منٹ تک جاری رہا جبکہ اس کے برعکس دیگر عالمی رہنماؤں کو 15،15 منٹ کا وقت دیا گیا۔ عمران خان کی تقریر کا وقت دیکھ کر بھارتی میڈیا کی جانب سے یہ سوال اُٹھایا جا رہا ہے کہ جب ہر لیڈر کی تقریر کے لیے 15 منٹ کا وقت مقرر تھا تو پھر عمران خان کو 45 منٹ کیوں دئے گئے ؟بھارتی میڈیا یہ سوال بھی اُٹھا رہا ہے کہ عمران خان نے 43 منٹ تک اپنا طویل خطاب کیوں جاری رکھا؟ وزیراعظم عمران خان کے خطاب کے دوران اجلاس میں موجود بھارت کی مندوبین کے چہرے کے تاثرات نے یہ واضح کردیا کہ عمران خان بھارتیوں کے لیے خطرہ ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں مودی حکومت کے کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم پر بات کی۔
اور اس دوران کیمرے پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھارت کے پینل پر موجود مندوبین کو دکھایا گیا جو اُس وقت ہکا بکا رہ گئی جب وزیراعظم عمران خان نے کشمیریوں کو مقدمہ اُٹھایا اور بتایا کہ کس طرح مودی کی حکومت مقبوضہ کشمیر میں معصوم کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہی ہے۔ یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کے 74ویں جنرل اسمبلی اجلاس سے تاریخی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان اور بھارت میں روایتی جنگ ہوتی ہے تو کچھ بھی ہوسکتاہے، یہ وقت اقوام متحدہ کی آزمائش کا ہے،کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلوایا جائے۔ وزیراعظم نے جنرل اسمبلی میں بھارت سے مطالبہ کیا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر سے 50 روز سے زائد جاری کرفیو اٹھائے، کیا اقوام متحدہ ایک ارب 20 کروڑ لوگوں کو خوش کرے گا یا عالمی انصاف کو مقدم رکھے گا؟ عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ فرض کریں کہ ایک ملک اپنے پڑوسی سے سات گنا چھوٹا ہے، اسے دو آپشنز دیے جاتے ہیں، یا تو وہ سرنڈر کردے یا پھر اپنی آزادی کیلئے آخری سانس تک لڑے، ایسے میں ہم کیا کریں گے؟ میں خود سے یہ سوال پوچھتا ہوں، اور میرا یقین ہے کہ لا اله الا الله ہم لڑیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 80 لاکھ افرادکو جانوروں کی طرح بند کیا ہوا ہے، یہ نہیں سوچا گیا کہ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھے گا تو کیا ہوگا۔ دنیا نے حالات جان کر بھی کچھ نہیں کیا کیونکہ بھارت ایک ارب سے زیادہ کی منڈی ہے۔ وزیراعظم نے خبردار کیا کہ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو اٹھنے پر خونریزی ہوگی۔ دنیا نے سوچا کہ مقبوضہ کشمیر میں خونریزی کا کشمیریوں پر کیا اثر ہوگا۔ ماضی میں لاکھوں کشمیری آزادی کی تحریک میں جان دے چکےہیں، مقبوضہ وادی میں 11ہزار خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایاگیا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی حامی سیاسی قیادت کو بھی قید کررکھاہے۔ بھارتی حکومت نے 13 ہزار کشمیری نوجوانوں کو مختلف جیلوں میں قید کررکھا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں خون خرابے کے بعد ایک اورپلوامہ ہوسکتا ہے اور بھارت ہم پرالزام لگائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب ایٹمی طاقت کا حامل ملک آخری حد تک جنگ لڑتا ہے اس کے اثرات صرف اس کی سرحد تک محدود نہیں رہتے، دنیا بھر میں ہوتے ہیں، میں پھر کہتا ہوں کہ یہی وجہ ہے کہ میں آج یہاں کھڑا ہوں، میں دنیا کو خبردار کررہا ہوں، یہ دھمکی نہیں، لمحہ فکریہ ہے۔ بھارت کو تمام قید کشمیریوں کو رہا کرنا ہوگا اور بھارت کو کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینا پڑے گا۔ وزیراعظم نے پہلی مرتبہ اقوام متحدہ کے کسی اجلاس میں بھارتی جاسوس اور دہشت گرد کلبھوشن یادیو کا ذکر بھی کیا۔