10:35 am
امریکہ مسئلہ کشمیر پر ہماری مدد کرنے کو تیار نہیں تو پاکستان ایران کی جنگ کو اپنی سرحد پر کیوں لارہا ہے

امریکہ مسئلہ کشمیر پر ہماری مدد کرنے کو تیار نہیں تو پاکستان ایران کی جنگ کو اپنی سرحد پر کیوں لارہا ہے

10:35 am

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئرصحافی و کالم نگار ارشاد عارف کا اپنے حالیہ کالم میں کہنا ہے کہ ایران امریکا کے مابین وجہ عناد اسرائیل ہے یا عرب ممالک جنہیں امریکا ایرانی انقلاب دکھا کر بلیک میل کرتا ہے اور اربوں ڈالر کا اسلحہ بیچتا ہے۔سعودی عرب سمیت کسی عرب ملک کی قیادت نے اب اسرائیل کو اپنا دشمن سمجھنا چھوڑ دیا ہے۔بلکہ وہ ایران کو سبق سکھانے کے لیے اسرائیل سے تعاون کو تیار ہیں۔اس پس منظر میں پاکستان ایران کو نرمی پر آمادہ کر سکتا ہے؟۔امریکا سے مصالحت کا مشورہ دے سکتا ہے اور سعودی عرب و ایران کی قیادت کو مذاکرات کی میز پر لا سکتا ہے۔یہ سوچنا عمران خان اور ان کی حکومت کا کام ہے۔
اگر امریکہ مسئلہ کشمیر پر ہماری مدد کرنے کو تیار نہیں،خطے کو جنگ کا ایندھن بنانے کے خواہشمند مودی کو روکنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو پاکستان پرائی جنگ کو دھکیل کر اپنی سرحدوں میں لانے کا متحمل کیوں ہے؟۔جب امریکا اور طالبان کی مذاکراتی عمل کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکے،سیز فائر کی امریکی خواہش پوری کرنے سے قاصر رہے،صدر ٹرمپ نے مذکرات معطل کرنے سے قبل مشورے کے لائق نہیں سمجھا تو ایران سے ثالثی کا ڈھول گلے میں ڈالنے کی کیا ضرورت ہے۔کہیں ایک بار پھر کوئلوں کی دلالی میں منہ کالا کرانے کا شوق تو نہیں۔اگر عمران خان سے اعزاز سمجھتے ہیں تو یہ ان کی بھول ہے۔یہ اتنی بڑی آزمائش ہے جس عہدہ برا ہوتے ہوتے وہ کشمیر پر ساری ریاضت کو اکارت کر بیٹھیں گے۔کہ ایران نے چالیس سال میں امریکا سے کشمکش کے دوران وہ کچھ نہیں کھویا جو ہم اس دوستی بلکہ چاپلوسی میں گنوا بیٹھے ہیں۔ویسے بھی ہنری کسنجر کہتے ہیں کہ امریکی کی دشمنی سے زیادہ دوستی خطرناک ہے۔کہیں ہم دوستی کی آڑ میں خطرات کو پھر دعوت نہ دے بیٹھیں.ارشاد عارف مزید لکھتے ہیں کہ کشمیر پر پاکستان کی لائن آف ایکشن کیا ہو گی کچھ واضح نہیں مگر شوق ہمیں امریکا اور ایران کے مابین ثالثی کرانے کا ہے۔کیا امریکی اتنے بے بس ہیں کہ افغانستان میں ناکامی کے بعد ایران کا مشن ہمیں سونپیں نہ ایرانی اس قدر سادہ لوح ہیں کہ وہ فرانس کی بجائے ہم پر اعتماد کریں۔یہ ٹرمپ کا جال ہے جو اس نے اپنے دوستس مودی کو بچانے کے لیے عمران خان پر پھینکا ہے۔جس کا مقصد کشمیر سے اپنی سارای توجہ ہٹا کر مودی کو آسانی فراہم کرنا ہے۔