10:37 am
کشمیری نوجوان فوجیوں کی راہ میں رکاوٹ بن گئے،علاقے میں داخل ہونے سے روک دیا

کشمیری نوجوان فوجیوں کی راہ میں رکاوٹ بن گئے،علاقے میں داخل ہونے سے روک دیا

10:37 am

لاہور(نیوز ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں نے بھارتی فورسز کی آنچر میں داخلے کی کوشش ناکام بنا دی۔ بھارتی فورسز کو آنچر کے علاقے سے دور رکھنے کیلئے نوجوان رات بھر پہرہ بھی دیتے ہیں، سری نگر کے شہر آنچر کے شہری بھارتی مظالم کیخلاف مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ غیرملکی میڈیا رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کا لاک ڈاؤن 54 ویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔بھارتی فورسز کو آنچر کے علاقے سے دور رکھنے کیلئے نوجوان رات بھر پہرہ دیتے ہیں۔ آنچر کے شہری بھارتی مظالم کیخلاف مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ واضح رہے بھارتی وزیراعظم مودی نے 5 اگست کو آرٹیکل 370 ختم کرکے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کردی ہے۔ جبکہ 10لاکھ فوج تعینات کرکے کرفیو نافذ کردیا ہے اور 80 لاکھ کشمیریوں کو گھروں کو محصور کردیا ہے۔
کشمیریوں کے پاس کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات کا شدید بحران ہے۔ کشمیر میں بھارتی فورسز کا لاک ڈاؤن 54 ویں روز میں داخل ہوگیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان آج اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں مسئلہ کشمیر کو اٹھائیں گے۔ دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک میں تعاون کی تنظیم (سارک) کا آئندہ سربراہی اجلاس پاکستان میں منعقد ہو گا جبکہ سارک کے رکن تمام ممالک نے آئندہ اعلیٰ سطحی سربراہی اجلاس پاکستان میں بلانے پر متفقہ طور پر اتفاق کیا ہے۔یہ فیصلہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر سارک ممالک کے وزراء کی سطح کے اجلاس میں کیا گیا جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی شرکت کی۔ وزیر خارجہ نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سارک کے آئندہ ہونے والے سربراہی اجلاس کی صدارت کریں گے جس کی تاریخ کا اعلان باہمی طور پر مشاورت سے طے کیا جائے گا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سارک کے رکن ممالک نے تجویز پیش کی تھی کہ اگر وہ خطہ کے سیاحتی، اقتصادی اور دیگر شعبوں سے حقیقی طور پر استفادہ کرنا چاہتے ہیں اور اپنے تنازعات بارے تبادلہ خیال کرنا چاہتے ہیں تو پھر سربراہی سطح کا اجلاس بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے سوا تمام رکن ممالک نے اعلیٰ سطحی سربراہی آئندہ اجلاس پاکستان میں منعقد کرنے پرا تفاق کیا۔انہوں نے کہاکہ بھارت اب تنہائی کا شکار ہو گیا ہے اور اس اجلاس کی تجویز کی توثیق کے علاوہ بھارت کے پاس کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آخری سارک سربراہی اجلاس اسلام آباد میں 2016ء میں منعقد ہونا تھا جو کہ بھارت کے اعتراضات کی وجہ سے منعقد نہیں ہو سکا تھا تاہم اس مرتبہ اب بھارت اس ضمن میں خاموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ سارک ایسا فورم ہے جہاں پر علاقائی ممالک اپنے تنازعات پربات چیت کر سکتے اور انہیں حل کر سکتے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ وہ اجلاس میں جان بوجھ کر تاخیر سے آئے کیونکہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاجاً بھارتی وزیر خارجہ کی تقریر سننا نہیں چاہتے تھے۔