12:05 pm
سعودی ولی عہد نے عمران خان کی صورت میں سہاراتلاش کرلیا، محمد بن سلمان ایران سے کیا چاہتے ہیں

سعودی ولی عہد نے عمران خان کی صورت میں سہاراتلاش کرلیا، محمد بن سلمان ایران سے کیا چاہتے ہیں

12:05 pm

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)معروف صحافی ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے وزیراعظم عمران خان سے کہا ہے کہ سعودی عرب بات کرنا چاہتا ہے۔ہارون الرشید نے مزید کہا کہ میری خبر ہے کہ سعودی ولی عہد بہت محتاط ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ انہیں کہیں سے سہارا ملے اورایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئے۔ہارون الرشید نے مزید کہا کہ میں پوری ذمہ داری کے ساتھ کہتا ہوں کہ سعودی عرب کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے۔مجھے یہ سن کر خوشگوار حیرت ہوئی اور مجھے دو تین دن پہلے ہی اس متعلق ایک ذمہ دار آدمی نے بتایا تھا۔جس کا سعودی عرب آنا جانا ہے اور اس کے سعودی عرب کے شاہی خاندان کے ساتھ تعلقات بھی ہیں۔
ہارون الرشید نے کہا کہ یہ پاکستان کے لیے ایک سنہری موقع ہے۔اس لیے پاکستان کو یہ لازمی کوشش کرنی چاہئیے۔اس میں چند لاکھ روپے اور وقت ہی لگے گا،قوموں میں صدیوں میں تعلقات پیدا ہوتے ہیں۔ایسا بھی ہوا ہے کہ لوگوں نے تلخیاں ختم کی تھیں۔ضروری ہے کہ لاکھوں لوگ قتل ہوں۔اس لیے اگر عمران خان، ترک صدر طیب اردگان اور ملائیشیا کے وزیراعظم یہ طے کر لیتے ہیں تو بہت بہتر ہو گا۔اس لیے عمران خان کو سعودیہ اور ایران کے مابین تعلقات کو بہتر کرنا چاہئیے۔اس سلسلے میں آرمی چیف جنرل باجوہ نے کوشش کی ہے لیکن یہ ان کا کام نہیں ہے۔لہذا عمران خان کو اس سلسلے میں ترک صدر اور ملائیشین وزیراعظم کی مدد لے کر یہ مسئلہ حل کرنا چاہئیے۔اور مجھے یقین ہے کہ ایران اور امریکا کے مابین تعلقات ٹھیک ہوں گے۔خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ دنوں امریکی صدر سے ملاقات کے بعد اعلان کیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ان سے امریکا ایران کشیدگی کم کروانے کیلئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے۔ جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ امریکی صدر کے علاوہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی درخواست کی ہے کہ وزیراعظم عمران خان سے درخواست کی ہے کہ وہ کشیدگی میں کمی کیلئے ایرانی صدر حسن روحانی سے بات کریں۔جس کے بعد ایران نے وزیراعظم کی ثالثی میں امریکا سے مذاکرات کرنے کی حامی بھر لی۔ ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست نے کہا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مخلص ہیں تو مذاکرات کرنے کیلئے تیار ہیں، تاہم خدشہ ہے کہ امریکا مذاکرات کیلئے مخلص نہیں ہے۔