11:04 am
عمران خان کے خطاب کا اثر ، بھارت کو تاریخی جھٹکا، ’کامن ویلتھ آف نیشنز ‘کا مقبوضہ کشمیر میں محاصرے کی تحقیقات کا اعلان،بھارت منہ دیکھتا رہ

عمران خان کے خطاب کا اثر ، بھارت کو تاریخی جھٹکا، ’کامن ویلتھ آف نیشنز ‘کا مقبوضہ کشمیر میں محاصرے کی تحقیقات کا اعلان،بھارت منہ دیکھتا رہ

11:04 am

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کو ایک اور بڑی سفارتی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کامن ویلتھ آف نیشنز نے مقبوضہ کشمیر میں محاصرے کی تحقیقات کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق دولت مشترکہ کی متعلقہ تنظیم نے پاکستان کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان اس معاملے کی تحقیقات کیلئے ایک تحریری درخواست جمع کروائے۔ جب بھارت کے مندوب نے مسئلے کو بھارت کا اندرونی معاملہ قرار دینے کی کوشش کی تو رکن ملکوں نےاسےسختی سےردکردیا۔
یہ فیصلہ بین الصوبائی رابطے کی وزیر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی قیادت میں پاکستانی مندوبین کی طرف سے ایوان کی مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی اقدامات کی طرف توجہ مبذول کروانے کے بعد کیا گیا۔ یوگینڈا کے دارالحکومت کمپالا میں منعقد 64 ویں دولت مشترکہ پارلیمانی کانفرنس کے عام اجلاس میں پاکستان کی جانب سے کشمیر سے متعلق معاملہ اٹھائے جانے کابھارتی وفد نے شدید احتجاج کیا۔
 
اس سے قبل وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74 ویں اجلاس میں عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر پر اپنا موقف بیان کرتے ہوئے بھارت کا بھیانک چہرہ بے نقاب کیا تھا جبکہ نیویارک میں وزیر اعظم عمران خان کے اقوام متحدہ میں خطاب کے بعد چین اور ملائیشیاء نے بھی کشمیر کے لئے آواز اٹھائی ہے ۔ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے باوجود 24 گھنٹوں کے دوران 23 احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سری نگر کے مختلف علاقوں میں 15 احتجاجی مظاہرے رات میں جبکہ 8 دن کے اوقات میں کیے گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی لاک ڈاؤن کو 56 روز گزر چکے ہیں لیکن لاکھوں بھارتی فوجیوں کی تعیناتی کے باوجود کشمیری عوام کے حوصلے بلند ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مقبوضہ وادی میں بھارتی تسلط کے خلاف 23 احتجاجی مظاہرے ہو چکے ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کے اقوام متحدہ کے 74 ویں جنرل اسمبلی اجلاس میں خطاب کے بعد سینکڑوں کشمیری نوجوان قابض افواج کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ وادی کے پولیس ذرائع کے مطابق 9 مقامات پر کشمیریوں کی بڑی تعداد فوجی رکاوٹوں کو توڑ کر مظاہروں میں شریک ہوئی۔ بتایا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران نوجوانوں نے مساجد کے اسپیکرز سے بھارت مخالف اور آزادی کے نعرے لگائے۔بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے نفاذ سے 20 اگست کے بعد دوسری مرتبہ اتنی بڑی تعداد میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ 20 اگست کو 40 سے زائد مقامات پر مقبوضہ وادی میں بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں نعرے بازی کی گئی تھی۔ مختلف علاقوں میں بھارتی فورسز نے مظاہرین پر آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی جس میں متعدد کشمیری زخمی ہو گئے ہیں۔