01:39 pm
کیا شہباز شریف کی پیشکش پر اسٹیبلشمنٹ کا رویہ بدل رہا ہے

کیا شہباز شریف کی پیشکش پر اسٹیبلشمنٹ کا رویہ بدل رہا ہے

01:39 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی ہارون الرشید کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن میں ایک صاحب ہیں ان کا نام ہے شہباز شریف۔وہ مفاہمت کے علمبردار ہیں اور اسی متعلق بات کرتے ہیں۔ہارون الرشید نے کہا کہ دراصل آصف زرداری کی بجائے شہباز شریف کو نیلسن منڈیلا کہنا چاہئیے۔میں آپکو آج ایک بات صاف الفاظ میں بتا رہا ہوں کہ شہباز شریف کی کوشش ہے کہ وہ بس کسی طریقے سے وزیراعظم بن جائیں اور اس سلسلے میں وہ اپنی وفاداری کا یقین بھی دلا رہے ہیں۔
ایک کام یہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف نواز شریف کا کہنا ہے کہ گرمیاں تو گزر گئی ہیں اور سردیوں میں جیل میں رہنا مشکل نہیں ہے۔حکومت اپنی مقبولیت کھو رہی ہے۔اسٹیبشلمنٹ وقت کے ساتھ ساتھ غیر جانبدار ہوتی جائے گی۔ اتنی زیادہ نہیں لیکن ہو گی ضرور۔اس کے علاوہ بےروزگاری اور غربت بھی بڑھے گی اور نواز شریف اسی وقت کا انتظار کر رہے ہیں کہ ایسے وقت میں حکومت کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔ نواز شریف نے مولانا فضل الرحمن کا بھی ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اس سے قبل بھی ہارون الرشید نے مزید کہا کہ تھاکہ ہارون الرشید نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان بھی اپنے لوگوں کو کہہ رہے ہیں اگر گاڑیو ں کو روکا جائے توموٹرسائیکلوں پر جاؤ، یا پھر پیدل جاؤ، گھوڑوں پر جاؤ، خچروں پر جاؤ۔ موٹرجدید دور کا گھوڑا ہے یا خچر ہے۔انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو بھی سپورٹ ملنے کا پورا یقین ہے۔ پہلے میرا خیال تھا کہ وہ اسلام آباد میں لوگ نہیں لاسکیں گے لیکن اب میرا خیال ہے مولانا فضل الرحمان اسلام آباد میں آزادی مارچ میں 50ہزار تک لوگ لاسکتے ہیں۔ مولوی صاحب ! کے ورکر کی ہیبت ایک آدمی سے دوگنی ہوتی ہے۔عمران خان اور طاہر القادری اتنے آدمی نہیں لاسکے تھے۔ جبکہ ن لیگ کو اچھی ڈیل مل جائے گی۔ علاج کروانے ملک سے باہر تو جاسکیں گے؟انہوں نے میراتجزیہ اور خبر ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ غیرجانبدارہوتی جائے گی۔شرط یہ ہے عمران خان اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں، کشمیر کے معاملے میں ان کی پرفارمنس اچھی ہے، جس کا ان کو فائدہ بھی پہنچ رہا ہے۔ دیانتدار بھی ہیں لیکن حکومت کی کارکردگی بری نہیں بہت بری ہے۔

تازہ ترین خبریں