03:23 pm
4بہنوں کا بھائی 4بچوں کا قاتل نکلا،چونیاں واقعے کا مرکزی ملزم لاہور میں کیا کام کرتا تھا

4بہنوں کا بھائی 4بچوں کا قاتل نکلا،چونیاں واقعے کا مرکزی ملزم لاہور میں کیا کام کرتا تھا

03:23 pm

لاہور(نیوز ڈیسک)چونیاں واقعے میں ملوث ملزم سے متعلق اہم انکشافات سامنے آ گئے۔تفصیلات کے مطابق چونیاں واقعے میں ملزم سفاک درندے سے متعلق تفصیلات سامنے آئی ہیں۔جس میں بتایا گیا ہے کہ ملزم شہزا چونیاں کے علاقے رانا ٹاؤن کا رہائشی تھا اور اہلخانہ کے ہمراہ کرائے کے گھر میں رہائش پذیر تھا۔ملزم کو کل اس کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔سہیل شہزاد چونیاں میں رکشہ چلاتا تھا جب کہ اس نے کچھ عرصہ لاہور میں ایک تندور پر بھی کام کیا۔ملزم بچوں کے قتل اور زیادتی کی خبریں گردش ہونے پر فرار ہو گیا تھا۔ڈی این اے کے وقت نہ ملنے پر پولیس نے اہلخانہ کو مطلع کیا کہ سہیل کو بلایا جائے۔ڈی این ٹیسٹ ہونے کے بعد پولیس نے ملزم کو چھوڑ دیا تھا
۔پولیس نے ملزم کو شہر نہ چھوڑنے کی بھی ہدایت کی تھی۔ملزم کو کل دوپہر گرفتار کیا گیا جس کے بعد اس نے پولیس کے سامنے اعترافِ جرم کیا۔ملزم کے خاندان کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ملزم کے چھ بھائی اور چار بہنیں تھیں۔ملزم اپنے والدین سمیت تین کمروں کے گھر میں رہتا تھا۔ملزم نے ایک بچے عمران کو قتل کیا تھا جو کہ رانا ٹاؤن کا ہی رہائشی تھا جب کہ دیگر بچوں کو ایک اور محلے سے گرفتار کیا گیا۔ملزم کو اس سے قبل بھی بچے سے زیادتی کے کیس میں سزا ہو چکی ہے۔اور وہ جیل سے دھمکیاں دے کر رہا ہوا تھا۔خیال رہے کہ ملزم کا ڈی این اے ایک ہفتہ قبل کیا گیا تھا۔ چونیاں میں 1200 رکشہ ڈرائیورز کا ڈی این اے کیا جانا تھا اور پہلے 600 میں یہ شامل تھا۔ صبح 9 بجے ملزم سہیل کا ڈی این اے میچ کرنے کی تصدیق ہو گئی تھی جس کے بعد اس کی گرفتاری کے لیے حساس ادارے کی ٹیم نے کام شروع کر دیا اور اس ٹیم کے ساتھ پولیس ٹیم بھی موجود تھی۔جس وقت ڈی این اے کی تصدیق ہوئی تو پولیس اسے گرفتار کرنے کے لیے نکلی تو ٹارگٹ یہی دیا گیا کہ 12 بجے سے پہلے اس کو پکڑ لیا جائے گا، اسی بنا پر وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے 12 بجے پریس بریفنگ کا بھی اعلان کیا تھا لیکن اُس وقت تک ملزم کو گرفتار نہیں کیا جا سکا جس پر پریس کانفرنس شام تک ملتوی کرنا پڑی۔ با وثوق ذرائع کے مطابق جس وقت ملزم سہیل شہزاد کو گرفتار کیا گیا تو اس نے 15 منٹ بعد ہی نہ صرف اقبال جُرم کر لیا بلکہ تمام شواہد اور ثبوت بھی دے دیئے۔