04:31 pm
نوجوان یوٹیوبر کی صحافی منصور علی خان پر کڑی تنقید

نوجوان یوٹیوبر کی صحافی منصور علی خان پر کڑی تنقید

04:31 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خان کی تقریر نے جہاں عالم اسلام اور دنیا بھر کے میڈیا کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی ہے وہیں پر پاکستانی میڈیا سے جڑی کچھ اہم شخصیات اس موقع پر مہنگائی ، بیروزگاری ،ٹیکسوں اور بد انتظامی کو لے کر اس تقریر کا مذاق اڑا رہی ہیں۔سینئر ملکی صحافی منصور علی خان نے بھی بالخصوص عمران خان کی جنرل اسمبلی میں تقریر کو نشانہ بنا تے ہوئے کچھ اسی قسم کا راگ الاپا ہے۔کہتے ہیں کہ ایک پرچون والے کا کاروباربند ہو گیا ہے تو میں اسے کہتا ہوں کہ گھبرانا نہیں ہے۔ ایک ریڑھی والے کا کام بند ہوگیا ہے تو میں اسے کہتاہوں کہ گھبرانا نہیں ہے۔
ایسے میں ایک نوجوان یوٹیوبر نےمنصور علی خان کی ان باتو ں کو بے وقت کی راگنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک شخص کو پوری امت مسلمہ کی نمائندگی اس عدالت میں جاکر کرکے آیا ہے جہاں اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کیا جاتا رہا۔جہاں ہم پر دہشتگردی کے الزامات لگتے رہے ۔ اس نے اللہ کے دین کی حقیقی نمائندگی کی اور رسول اللہ ﷺ کی حرمت کے بارے میں پوری دنیا کو آگاہ کیاکہ تمھیں اپنی ہولو کاسٹ کی گستاخی قبول نہیں لیکن ہمارے نبیﷺ کی شان میں گستاخی کو تم آزادی رائے کا نام دیتے ہو۔ اب یورپی پارلیمنٹ تک نے رسول اللہﷺ کی گستاخی کو آزادی رائے نہیں بلکہ مسلمانوں کے دین کی بے حرمتی قرار دے دیاہے۔ ایسے وقت میں یہ بے شرم لوگ وزیر اعظم کی تقریر کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ جن سلمان رشدی ملعون نے کتاب لکھ کر نبی علیہ السلام کی شان میں گستاخی کی تھی تب بلاول بھٹو کی والدہ نے احتجاج کرنے والوں کو گولی مارنےکا حکم دے دیا تھا۔ مشرف دور میں گستاخانہ خاکے چھپے، زرداری دور میں چھپے ، نوازشریف دور میں چھپے تم جیسے ضمیر فروشوں کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکلا۔ اب جب وزیر اعظم اسلام دشمن مغربی قوتوں کو خبردار کرکے آیا ہے تب تمھاری زبانیں کھل گئی ہیں ۔ ضمیر فروشوں اوربکائو صحافیوں کو یہ کہنا زیب نہیں دیتا کہ وہ اسلام کے محافظ ہیں اور نبی ﷺ کی حرمت پر اپنی جان قربان کرتے ہیں۔