10:35 am
 جیل میں بیٹھی مریم نواز چھا گئیں

جیل میں بیٹھی مریم نواز چھا گئیں

10:35 am

لاہور (ویب ڈیسک) ن لیگ کے اندر مریم نواز گروپ نے شہباز شریف کے فیصلوں کے خلاف مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شرکت کا فیصلہ کر لیا ،مریم نوازگروپ نے مولانا کو مارچ میں شرکت کاواضح پیغام دیدیا جس کی وجہ سے ن لیگ میں نئی محاذ آرائی شروع ہوگئی ۔ با وثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے مجلس عاملہ کے اجلاس کے فیصلوں پر مریم نواز اور اس کے حامیوں نے نہ صرف سخت ناراضگی کا اظہار کیا بلکہ واضح طور پر کہا ہے کہ وہ مجلس عاملہ کے فیصلوں کی بجائے مریم نواز اور نوازشریف کے احکامات پر عمل کریں گے ۔ نوازشریف اور مریم نواز نے واضح طور پر کہا ہوا ہے کہ مولانا فضل الرحمان چاہے دھرنا دیں
یا لاک ڈائون کریں ہر صور ت میں ان کا ساتھ دینا ہے ۔با وثوق ذرائع کے مطابق اس ضمن میں باقائدہ مریم نواز گروپ کی سوشل میڈیا پر اس حوالے سے کمپین بھی شروع ہو گئی اور ان کے سوشل میڈیا کے ذریعے کارکنوں کو دھرنے میں شرکت کی تیاری اور شہباز شریف اور دیگر رہنما جو دھرنے اور لاک ڈائون کے حوالے سے تحفظات رکھتے ہیں ان کے خلاف بھی مریم نواز کے سوشل میڈیا اور قریبی ساتھیوں نے پراپیگنڈہ شروع کر دیا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اقدامات پر شہباز شریف اور دیگر رہنما نہ صرف سخت نالاں ہیں بلکہ انہوں نے اس کا اظہار بھی شروع کر دیا ہے ۔ مریم نواز کے گروپ کی طرف سے واضح طور پر کہہ دیا گیا ہے کہ تاریخ وہی ہو گی جو مولانا فضل الرحمان اعلان کریں گے اور جس طرح مولانا فضل الرحمان چاہیں گے اسی طرح ہم شرکت کریں گے ۔اگر اس کی کوئی مخالفت کرے گا تو کارکن اس دھرنے میں شرکت کر کے اس کو زیرو کر دیں گے ۔ ذرائع کے مطابق پارٹی صدر شہباز شریف نے خود لانگ مارچ اور آزادی مارچ کیخلاف موقف اختیار کیا، آزادی مارچ کے التواء کے حق میں دلائل دیئے۔ انہوں نے مارشل لاء کے خدشہ کا بھی اظہار کیا جس کے جواب میں ہارڈ لائنر گروپ نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے لئے پہلے ہی مارشل لاء ہے، ہمیں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں، لیڈر شپ جیل میں ہے، ن لیگ میڈیا سے مکمل طور پر بلیک آؤٹ ہے، ہمیں کسی دباؤ یا مصلحت کا شکار ہونے کی بجائے واضح اور بولڈ لائن لینی چاہئے، باہر نکلنے کے سوا ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں البتہ وقت کے تعین اور طریقہ کار پر مشاورت ہوسکتی ہے لیکن مارچ میں شرکت نہ کرنا ن لیگ کے لئے سیاسی موت ہوگی۔ مسلم لیگ (ن) جے یو آئی کے آزادی مارچ میں شرکت پر واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ہے، پارٹی صدر شہباز شریف، خواجہ آصف، رانا تنویر حسین،احسن اقبال نے جے یو آئی کے آزادی مارچ، لاک ڈاؤن پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں محاذ آرائی کی صورتحال سے گریز کرتے ہوئے پارلیمنٹ تک اپنی سیاست محدود کرنا چاہئے۔