08:20 am
سی پیک چین اور پاکستان کے تعلقات کیلئے گیم چینجر ہے، چین

سی پیک چین اور پاکستان کے تعلقات کیلئے گیم چینجر ہے، چین

08:20 am

کراچی ( نیوز ڈیسک) پاکستان میں چینی سفیر ہی یاؤ جِنگ کا کہنا ہے کہ چائنا پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) پاکستان کی معاشی ترقی کیلئے سب کچھ فراہم نہیں کرسکتا۔کونسل آف فارن ریلیشنز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چینی سفیر نے کہا کہ سی پیک کیلئے چین نے معاشی وسائل فراہم کئے ہیں، سی پیک چین اور پاکستان کے تعلقات کیلئے گیم چینجر ہے۔چینی سفیر کا کہنا تھا کہ ہمارے تعلقات ہر شعبے میں بہترین ہیں، سی پیک کے سارے منصوبے مکمل ہوں گے
، 2013 سے 2018 تک بجلی اور بندرگاہ کے بڑے منصوبے انجام پائے ہیں۔موجودہ حکومت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت کا اپنا وژن ہے، عمران خان وژن کے تحت سی پیک میں نجی شعبے اور صنعتوں پر توجہ ہوگی، اب ہم زرعی شعبے پر توجہ دیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی معیشت کیلئے اہم ترین شہر ہے،ہم پاکستان کے کاروباری حضرات کے ساتھ مل کر منصوبے بنائیں گے۔اس موقع پر چینی سفیر نے حکومت چین کی جانب سے آئندہ سال پاکستانی طلبہ کو 20 ہزار اسکالرشپس دینے کا بھی اعلان کیا۔واضح رہے کہ سی پیک منصوبہ دنیا میں جاری اس وقت سب سے بڑا ترقیاتی منصوبہ ہے، 46 ارب ڈالر مالیت کا پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان کو کس طرح تیز رفتار اقتصادی ترقی کی شاہراہ پر لے جائے گا۔طویل، کشادہ اور محفوظ سڑکیں، توانائی کے منصوبے، انڈسٹریل پارکس اور گوادر بندرگاہ کا منصوبہ، جس کی تکمیل دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متاثرہ پاکستان کے لیے روشن مستقبل کی نوید ہے۔چینی نیوز ایجنسی زنہوا کے مطابق تکمیلی مراحل کے دوران ہی سڑکوں اور بجلی کے منصوبوں کے فوائد عوام کو ملنے لگے ہیں، کراچی کا بن قاسم پاور پلانٹ اگلے سال کے آخر تک بجلی کی پیداوار شروع کردے گا، کوئلے سے چلنے والے 660 میگا واٹ کے 2 پاور پلانٹس کی تعمیر سے حاصل ہونے والی 1320 میگاواٹ بجلی نظام میں آنے شارٹ فال ایک تہائی کم ہوجائے گا۔کراچی سے کچھ ہی دور 33 ونڈ ملز کا منصوبہ سے بھی 60 ہزار خاندانوں کو بجلی کی سپلائی شروع ہوچکی ہے،قراقرم ہائی وے کو بہتر بنانے کے ساتھ ایم فور نیشنل موٹر وے پر بھی چینی انجینئرز دن رات کام میں مصروف ہیں، ریل ویز اور لائٹ ریلز کی اپ گریڈیشن بھی اسی منصوبے کا حصہ ہیں۔منصوبے کا محور گوادر، جہاں سی پیک منصوبہ بحیرہ ہند سے ملتا ہے، یہیں سے تمام وسائل پاکستان کے مرکز اور مغربی چین کو جائیں گے، جبکہ پاکستان اور چین میں تیار ہونے والا مال دنیا بھرمیں بھیجا جائے گا۔گوادرمیں فری ٹریڈ زون، اسپیشل اکنامک زون، کوسٹل ہائی وے اور بین الاقوامی ہوائی اڈا بھی تکمیل کے مراحل میں ہے، یوں 2013 ءمیں شروع کیا جانے والے یہ منصوبہ گودار کو مچھیروں کے قصبے سے جدید شہر میں بدل دے گا۔