09:27 am
اب اوبر ’ہیلی کاپٹر‘ بھی کرائے پر دے گا

اب اوبر ’ہیلی کاپٹر‘ بھی کرائے پر دے گا

09:27 am

لاہور ۔ جب سے پرائیویٹ ٹیکسیوں کا نظام فعال ہوا ہے اس سے صارفین کے لیے بے حد آسانیاں پیدا ہو گئی ہیں،ایک تو جہاں آپ کو گاڑی چاہیے ہوتی ہے وہیں خود بخود آ جاتی ہے ا ور دوسرا اس کا کرایہ کم اور تیسرا لوکل گاڑی ہونے کی وجہ سے آپ کا یہ تاثر قائم رہتا ہے کہ آپ کسی ٹیکسی میں بیٹھ کر نہیں آئے۔تاہم جیسے جیسے زمانہ ترقی کر رہا ہے ویسے سہولیات بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔اب ایسی ایسی لگژری گاڑیاں اور لینڈ کروزرز آپ کو کرائے میں مل جاتی ہیں کہ جن کا آپ تصور ہی نہیں کر سکتے۔یہاں تک کہ اب پرائیویٹ ٹیکسی سروس کمپنیوں نے ہیلی کاپٹر اور آبدوزیں بھی کرائے پر دینا شروع کردی ہیں۔نیویارک میں اوبر نے پہلی بار ہیلی کاپٹر سروس متعارف کرادی ہے
جو مین ہیٹن سے جان ایف کینیڈی ائیرپورٹ تک 200 ڈالرز کے عوض لے جاتی ہے۔اسے اوبر کاپٹر کا نام دیا گیا ہے جو اب اس رائیڈ شیئرنگ ایپ کے تمام صارفین کے لیے دستیاب ہے، اس سے پہلے یہ صرف پریمیئم صارفین کے لیے ہی دستیاب تھی۔7 اکتوبر سے اس سروس کا آغاز ہورہا ہے جس کے لیے فی فرد 200 سے 225 ڈالرز لیے جائیں گے۔کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس سروس کا مقصد سفری وقت کو کم کرنا ہے مگر خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق مڈ ٹاؤن آفس سے ائیرپورٹ پہنچنے تک 70 منٹ لگ جاتے ہیں، جس کے دوران ایک سب وے رائیڈ اور ہیلی کاپٹر تک جانے اور ائیرپورٹ سے نکلنے کے لیے 2 اوبر رائیڈز بھی لینا پڑتی ہے۔اور یہ وقت اتنا ہے جتنا ایک ٹیکسی عام ٹریفک میں منزل تک پہنچانے کے لیے لگاتی ہے۔اس سروس کا آغاز جون میں پلاٹینیم اور ڈائمنڈ صارفین کے لیے ہوا تھا اور ایک ہیلی کاپٹر میں 5 افراد سفر کرسکتے ہیں جو اپنے ساتھ ایک بیگ اور ہینڈ بیگ یا لیپ ٹاپ کیس لے جاسکتے ہیں۔سروس استعمال کرنے والے ہر مسافر کو ایک سیفٹی ویڈیو بھی ٹیک آف سے پہلے دیکھنا ضروری ہے اور ہیلی کاپٹر پر بیٹھنے کے بعد ائیرپورٹ میں پہنچنے کے لیے 8 منٹ کا وقت لگتا ہے۔اس سے پہلے رواں سال اسی کمپنی نے آسٹریلیا میں رائیڈ شیئرنگ سب میرین کی سہولت بھی متعارف کرائی تھی۔اوبر نے کوئنزلینڈ، آسٹریلیا کی شراکت کے ساتھ آبدوز کی سہولت پیش کی تھی اور عام اوبر ایپ کی مدد سے سب میرین کو طلب کیا جاسکتا تھا۔یہ سروس صرف 4 ہفتوں کے لیے تھی۔ایک گھنٹے کے راؤنڈ ٹرپ رائیڈ کا آغاز کوئنزلینڈ کے مختلف شہروں سے ہوا اور اس سروس کو استعمال کرنے والوں کو اپنی منزل کا پتا گریٹ بیرئیر ریف کے طور پر درج کرنا ہوتا تھا، جس کے بعد اوبر آپریٹر کی جانب سے کال کرکے تصدیق کی جاتی کہ یہ غیرمعمولی رائیڈ غلطی سے تو بک نہیں ہوگئی۔