03:23 pm
نومبر کا مہینہ حکومت کےلئے انتہائی خطرناک لگ رہا ہے، صابر شاکر

نومبر کا مہینہ حکومت کےلئے انتہائی خطرناک لگ رہا ہے، صابر شاکر

03:23 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر ملکی صحافی اور تجزیہ کار صابر شاکر نے اپنے ایک کالم میں دھرنا سیاست اور اس کی تاریخ کے حوالے سے کچھ حیران کن باتیں کی ہیں۔کالم میں وہ لکھتے ہیں کہ مسلم لیگ(ن) کے سابق دور حکومت میںچئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان انتخابی دھاندلیوں پر نوازشریف جبکہ سربراہ پاکستان عوامی تحریک علامہ طاہر القادری ماڈل ٹائون سانحے کےخلاف احتجاج کررہے تھے۔حکومت تو حکومت ،
اتحادی جماعتیں اور خود اپوزیشن جماعتیں بھی اس دھرنے کےخلاف ڈٹ گئےاوردھرنے والوں کے بارے میں ہر طرح کی باتیں کہیں۔ ایسے میں طاہر القادری نے سابق آرمی چیف جنرل راحیل کو ملک کا اقتدار سنبھالنے کا مشورہ دیا۔ تاہم جنرل راحیل نے اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئےانھیں شہبازشریف کے استعفے اور ماڈل ٹائون سانحے کے ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی پیشکش کی تھی۔لیکن عمران خان نے اسے ماننے سے انکار کر دیا تھا۔طاہر القادری نے اپنا دھرنا از خود ختم کیا تاہم عمران خان کھلاڑیوں کو لے کر ڈٹے رہے ۔سانحہ اے پی ایس ہو گیا اور وہ دھرنا بھی ختم کرنا پڑ گیا۔اگرچہ پاور پلئیرز کے تقسیم ہوجانے کی وجہ سے دھرنے سے حکومت ختم نہیں ہوئی لیکن اس کی بنیادیں ہل گئی تھیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ فضل الرحمان سے بالکل صبر نہیں ہورہا اور وہ اسلام آباد آنا ہی چاہتے ہیں لیکن ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں انھیں کہہ رہی ہیں کہ وہ صرف نومبر تک کا انتظار کر لیں۔ حالانکہ نومبر بھی اب چند ہی دن دور رہ گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کوئی اور بھی پاور پلئیر گیم میں شامل ہو گیا ہے اور نومبرمیں ضرور کچھ ہونے والا ہے۔