06:20 am
مولانا فضل الرحمن کی اہم سیاسی شخصیات  سے ملاقاتیں

مولانا فضل الرحمن کی اہم سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں

06:20 am

اسلام آباد (نیوزڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سینئیر صحافی و تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی اہم ترین شخصیت سے ملاقات ہوئی ہے۔ میں جہانگیر ترین نہیں کہہ رہا لیکن اُن کی ایک اہم ترین اور غیر سیاسی شخصیت سے ملاقات ہوئی ہے۔ ملاقات کسی اچھے نتیجے پر نہیں پہنچی ۔مولانا فضل الرحمان اپنی بات پر بضد ہیں کہ وہ احتجاج بھی کریں گے اور دھرنا کریں گے۔
ملک کے اندر جو صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ ابھی کشمیر کا معاملہ ہے، اللہ خیر کرے وہاں سے ایک بہت بڑی تعداد مقبوضہ کشمیر کی جانب جا رہی ہے۔ ہر پاکستانی کا دل دھڑک رہا ہے کہ آنے والے دلوں میں کشمیر میں کیا ہونے والا ہے۔ اس پوری صورتحال کے ساتھ ساتھ مغربی بارڈر پر بھی صورتحال قابل فکر ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ زلمے خلیل زاد کا جو حالیہ دورہ تھا اس حوالے سے میں یہ بتا سکتا ہوں کہ گیارہ افغان فوجیوں کو طالبان رہا کر رہے ہیں، اور امریکی حکام نے دو طالبان رہنماؤں کو رہا کرنے کا اعلان کیا ہے جو طالبان دور کے سابق گورنر بھی رہ چکے ہیں۔ وہ کافی عرصہ سے امریکی حکام کی زیر حراست تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ زلمے خلیل زاد کے اس دورے سے مذاکرات تو آگے بڑھیں گے ہی لیکن فی الوقت کے لیے دونوں اطراف سے قیدی رہا ہوئے ہیں۔خیال رہے کہ مولانا فضل الرحمان کی کچھ افراد سے ملاقات سے متعلق سینئر تجزیہ کاراور صحافی حامد میر نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں انتہائی احتیاط کے ساتھ یہ بتا سکتا ہوں کہ حکومت کے کچھ لوگوں نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی، حکومتی لوگوں نے مولانا فضل الرحمان سے بدتمیزی کی اور تلخ کلامی بھی ہوئی۔اگر ان سے پیارسے بات کی جاتی تو ہوسکتا ہے وہ مان جاتے۔

تازہ ترین خبریں