10:34 am
مولانا فضل الرحمٰن کا تازہ ترین بیان دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک میں وائرل ہو گیا

مولانا فضل الرحمٰن کا تازہ ترین بیان دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک میں وائرل ہو گیا

10:34 am

اسلام آباد (ویب ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت بسرا نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کرپشن کی فائلوں کی وجہ سے فیس سیونگ لینے کو تیار ہو گئے ہیں اور کوئی دھرنا نہیں ہو گا۔ایک انٹرویومیں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت بسرا نے دعویٰ کیا ہے مولانا فضل الرحمان کو ان کی کرپشن کیفائلیں دکھائی گئی ہیں اور وہ فیس سیونگ کیلئے تیار ہو گئے ہیں۔وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے ایک بندہ بھی اسلام آباد نہ آنے کے بیان سے تحریک انصاف کے رہنما شوکت بسرا نے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کوایسا بیان نہیں دینا چاہئے تھا یہ وزیر اعظم کی کنٹینر اور کھانا دینے کی پالیسی کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے منہ سے غربت اور مہنگائی کی باتیں اچھی نہیں لگتیں یہ کرپشن اور لوٹ مار کی باتیں کیا کریں۔ایک اور خبر کے مطابق مولانا فضل الرحمان کے سابق ترجمان جان اچکزئی نے آزادی مارچ کے متعلق حیران کن انکشاف کر دیا، جان اچکزئی نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ کوئی دھرنا ہونے جا رہا ہے، میرا نہیں خیال کہ کوئی لاک ڈاؤن ہونے جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ فیس سیونگ کے لیے شاید مولانا صاحب آ جائیں اور جلسہ بھی کریں لیکن مولانا فضل الرحمان بہت ہی زیرک اور ہوشیار سیاستدان ہیں انہیں بینی فٹ اینالائسس سب سے زیادہ آتے ہیں، وہ دیکھیں گے کہ کیا و ہ اس حد تک جانے کے لیے تیارہیں، اس وقت ملک میں سیاسی حکومت ہے، معاشی حالات مشکل میں ہیں، وہ ریاست ا ور حکومت کے لیے ایک چیلنج کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں، اگر وہ اس ریڈ لائن کو کراس کرتے ہیں تو ان کے لیے بھی زیادہ مشکلات ہوں گی، میرا نہیں خیال کہ وہ اس حد تک جانا چاہتے ہیں، میرا نہیں خیال کہ وہ خادم رضوی ہے یا کوئی اور سیاستدانہے جو سب کچھ داؤ پر لگا کر آنے پر تیار ہو۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے میڈیا میں ان کے لاک ڈاؤن کا روز ذکر کیا جا رہا ہے، اصل میں اس کے پیچھے کوئی اور کہانی ہے، انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نیشنل سکیورٹی، فارن پالیسی اور اکانومی پالیسیز کے چیلنجز سے نبردآزما ہے،حکومت کوئی بھی ایسی بات برداشت نہیں کرے گی جس سے حکومت پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہو، یہ ایک ریڈ لائن ہے جو کہ مولانا صاحب خوب سمجھتے ہیں، جان اچکزئی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی مدرسوں اور ان کے طالب علموں کے کندھے کو استعمال کرنے کی سٹرٹیجی ہے اس سے بھی بڑا اثر پڑے گا، انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ حکومت کے لیے کوئی بڑا چیلنج نہیں ہے، یہ سب میڈیا کی حد تک ہے کیونکہ میڈیا ایسی کہانیوں کو پسند کرتا ہے، ان کے لیے اس پر گفتگو ایک اچھا موضوع ہوتا ہے، جان اچکزئی نے کہا کہ 27 تاریخ کیونکہ کشمیریوں کے حوالے سے دن ہے اس لیے کشمیر کو سیاست کے ساتھ لنک نہیں کرنا چاہیے، اس لئے مولانا فضل الرحمان کو تاریخ بدلنے کو کہا گیا ہے، انہوں نے کہاکہ کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے اسلام آباد میں جلسہ کرنا ناممکن نہیں ہے، کرائے پر بھی لوگ مل جاتے ہیں، مولانا صاحب کے لیے اس لیے بھی مشکل کام نہیں ہے کہ ان کے پاس مدارس کے طالب علم ہیں، وہ یہاں کراؤڈ لا سکتے ہیں، انہوں نے کہاکہ اس سے قبل بھی مارچ