12:30 pm
نوازشریف نے قمر جاوید باجوہ کو آرمی چیف بنادیا اور پھر

نوازشریف نے قمر جاوید باجوہ کو آرمی چیف بنادیا اور پھر

12:30 pm

اسلام آباد :معروف صحافی و کالم نگار عارف نظامی کا اپنے کالم "کسی کی پرواہ نہیں" میں کہنا ہے کہ 2014ء میں وزیراعظم عمران خان نے ڈی چوک پر 126 دن کا دھرنا دیا لیکن وہ نواز شریف کی حکومت گرانے میں ناکام رہے،کیونکہ ان کے مطابق تیسرے امپائر نے انگلی نہیں اٹھائی۔میاں نواز شریف کا اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے بظاہر کوئی تنازعہ نہیں تھا لیکن فوج کے بعض حلقوں میں انہیں شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔شاہد اسی بنا ہر خان صاحب کی یہ کج فہمی تھی کہ انہوں نے دھکا دیا تو فوجی قایدت بھی ان کے ساتھ مل جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔اس وقت ٹین کور راولپنڈی کے کمانڈر لیفٹینیٹ جنرل قمر جاوید باجوہ تھے جنہیں بعد ازاں میں نواز شریف نے چوہدری نثار علی خان اور میاں شہباز شریف کی اس سفارش کو رد کرتے ہوئے کہ جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کر دی جائے،
آرمی چیف بنا دیا۔آج صورتحال قدرے مختلف ہے نہ تو جنرل ضیاءالحق جیساز سازشی آرمی چیف ہے اور نہ ہی فوجی قیادت اقتدار پر براہ راست قبضہ کرنے کے لے کوشاں ہے۔بلکہ اس وقت تو آرمی چیف اور وزیراعظم عمران خان میں مثالی ہم آہنگی ہے۔میاں نواز شریف جنرل باجوہ کو جو ان کے اپنے ہی مقرر کردہ تھے ناراض کر بیٹھے تھے لیکن خان صاحب تو ان کی رضا کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے۔حال ہی میں انہیں اکنامک ڈولیپمنٹ کونسل میں بھی شامل کیا گیا ہے اور انہوں نے بدھ کو بڑی بڑی کاروباری شخصیات کو عشائیہ پر مدعو کر کے ان کی شکایات سنیں گویا کہ سیکیورٹی پالیسی ہو یا خارجہ پالیسی ، گورننس یا اکانومی کے مسائل ہوں،اس حوالے سے فوجی قیادت میں ایسا تال میل ہے جو شاہد ہی ملکی تاریخ میں پہلے دیکھنے میں آیا ہو۔