02:40 pm
آئی ایس جی ایس کے سربراہ مبین صولت کی کارستانیاں سامنے آگئیں

آئی ایس جی ایس کے سربراہ مبین صولت کی کارستانیاں سامنے آگئیں

02:40 pm

اسلام آباد (آن لائن)وزارت پٹرولیم کے ذیلی اد ا ہ(آئی ایس جی ایس) کے سربراہ مبین صولت نے ادارہ کا سربراہ بنتے ہی پہلے سے موجود تمام ٹیکنیکل سٹاف کو فارغ کردیا اورپھر کرپٹ اور نااہل لوگوں کو اس ادارہ میں بھرتی کیا جو مبین صولت کی تمام مبینہ کرپشن کی توثیق کررہے ہیں۔تاپی منصوبہ کی فزیبلٹی پر40ارب روپے جبکہ پاک ایران گیس منصوبہ کی فزیبلٹی پر صرف 5ارب روپے خرچ ہوئے تھے۔مبین صولت ہر سیکرٹری پٹرولیم کو دبئی اور لندن کے دورے کراتا ہے
اور پھر وہاں مہنگے سٹوروں سے شاپنگ کرانا اس کا شیوہ ہے ایک صحافی دوشیزہ کو ادارہ میں ڈپٹی جنرل منیجر کے عہدے پر فائزکررکھاہے اور اس دوشیزہ کے توسط سے افسران کو بلیک میل بھی کرتا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ نیب حکام نے مبین صولت کا نام ای سی ایل میں ڈالا تھا تاہم وزارت پٹرولیم کے افسران نے اس کا نام ای سی ایل سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔مبین صولت نے لوگوں کو بلیک میل کرنے کیلئے بھاری معاوضوں پر لندن کی ایک لاء فرم اور دوسری اسلام آباد کی لاء فرم کی خدمات حاصل کررکھی ہیں۔جن کو قومی خزانہ سے بھاری معاوضے دئیے جارہے ہیں۔وزارت پٹرولیم کے تین افسران شیر افگن، توقیر شاہ اور مقصود کا گروپ اپنا ہمنوا بنا رکھا ہے جس اس کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں ان افسران نے گیس منصوبوں کے نام پر دبئی،فرانس اور یورپ کے دورے کررکھے ہیں۔مبین صولت نے افسران کے منہ بندکرنے کیلئے ایک کو ”سلش“اکاؤنٹ بھی کھول رکھا ہے جہاں سے کروڑوں روپے سے کرپٹ افسران کو عیاشی کرائی جاتی ہے۔مبین صولت نے اپنی کرپشن چھپانے کیلئے دبئی میں تاپی سیکرٹریٹ میں پاکستانی افسر کو تعینات کرنے کی بجائے ایک انگریز شخص کو تعینات کررکھاہے۔آئی ایس جی ایس میں نااہل لوگ بھرتی کرکے ادارہ کا بیڑہ غرق کردیا گیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان کے مشیر پٹرولیم ندیم بابر نے اعلی پیمانے پر تحقیقات کا عزم ظاہر کیا تھا لیکن اب انکا منہ بھی بندکردیا گیا ہے اور تحقیقات سرد خانے کی نذر ہوچکی ہے۔ شیر افگن نے آن لائن کو بتایا کہ ووہ دبئی کا دورہ کرچکے ہیں لیکن شا پنگ مہنگے سٹور سے نہیں کی۔