04:54 pm
 شہید تیمور نے بے شمار تمغوں والی فوج کی وردی پہن رکھی ہےاور اپنی لاڈلی بیٹی کو گود میں اٹھایا ہوا ہے

شہید تیمور نے بے شمار تمغوں والی فوج کی وردی پہن رکھی ہےاور اپنی لاڈلی بیٹی کو گود میں اٹھایا ہوا ہے

04:54 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) لانس نائیک تیمور رواں سال اگست میں لائن آف کنٹرول پر بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ سے شہید ہو گئے تھے۔اسی متعلق معروف صحافی اسلم لودھی کا اپنے کالم " لانس نائیک تیمور اسلم" میں کہنا ہے کہ یہ سانحہ 15اگست کو 2019کو پیش آیا تھا۔تدفین کے چند روز بعد تیمور اسلم شہید چند ایک لوگوں کو خواب میں نظر آئے۔ محلے کا ایک شخص تعزیت کے لیے آیا اس سے بتایا کہ اپنے خواب میں تیمور شہید کو کچھ اس حالت میں دیکھا
کہ انہوں نے فوج کی وردی پہنچ رکھی ہے جس پر بے شمار تمغے سجے ہوئے ہیں۔جب کہ ان کے سر پر ہیرے اور موتیوں سے بنا ہوا خوبصورت تاج تھا۔شہید تیمور بہت خوش دکھائی دے رہے تھے۔بیوی نے بھی خواب میں اپنے شوہر کو دیکھا جو اپنی لاڈلی بیٹی کو گود میں لے کر پیار کر رہے ہیں۔ اسلم لودھی مزید لکھتے ہیں کہ یہ حقیقت ہے کہ شہادت کی موت ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ اللہ کی راہ میں جان قربان کرنے والے کو مردہ نہ کہو بلکہ وہ تو زندہ ہے۔اسلم لودھی کا کہنا ہے کہ جس طرح پاک فوج کے باقی شہداء کے ناموں پر کینٹ ایریا کی سڑکوں کے نام رکھے گئے ہیں۔یہاں اسی طرح تیمور اسلم شہید جوکہ والٹن روڈ لاہور کینٹ کا رہائشی تھا ان کے نام پر یا تو والٹن روڈ کا نام تیمور اسلم شہید روڈ رکھا جائے گا۔ ایسا ممکن نہیں تو ڈیفنس چوک کو شہید کئے نام سے منسوب کر دیا جائے۔بےشک زندہ قومیں اپنے ہیروز کو نہیں بھولتیں۔خیال رہے کہ شہید ہونے والے لانس نائیک تیمور کا تعلق لاہور کے علاقہ والٹن روڈ سے تھا۔ تیمور اسلم کے اہل خانہ نے بتایا کہ اس کی دو سال قبل شادی ہوئی تھی اور تیمور کی سات ماہ کی ایک بیٹی بھی ہے۔ تیمور کے والد نے کہا کہ تیمور کو شہادت کا بہت شوق تھا، ہمیں اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر ہے۔ میں اپنے دوسرے بیٹے کو بھی آرمی میں ہی بھیجوں گا۔

تازہ ترین خبریں