06:52 pm
مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا تو ایٹمی جنگ ہو سکتی ہے، سردار مسعود خان

مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا تو ایٹمی جنگ ہو سکتی ہے، سردار مسعود خان

06:52 pm

اسلام آباد(آن لائن ) میثاق ریسرچ سنٹر (تھینک ٹینک) کے زیرِ اہتمام علاقائی سیکورٹی اور مسئلہ کشمیر کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ملک بھر نامور سکالرز اور دانش وروں سفارت کاروں وکلاء� اور تجزیہ نگاروں نے شرکت کی۔ ڈئریکٹر جنرل میثاق ریسرچ کونسل محمد عبداللہ حمید گل نے ابتدائی کلمات سے آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج اس مسئلہ کو حل نہ کیا گیا تو یہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے سرد خانے میں چلا جائے گا۔ انہوں نے کہا
اس وقت امریکہ کو افغانستان سے انخلاء� کے لئے پاکستانکی جتنی ضرورت ہے شاید ماضی میں اتنی رہ رہی ہو اس موقع پر یہ مسئلہ کشمیر حل کرانا ہو گا۔ہمیں دنیا کو باور کرانا ہو گا کہ دنیا کا امن مسئلہ کشمیر کی وجہ سے خطرے میں جو کہ 1948 سے اقوامِ متحدہ کے سرد خانے میں پڑا ہوا ہے۔ اس موقع پر وائس ایڈمرل ہتشام نے تفصیلی بریفنگ دی اور پاک بحریہ کی دفاعی صلاحیتوں اور بحرہ عرب کی موجودہ سیکورٹی صورتِ حال پر روشنی ڈالی۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ حکومت پاکستان پارلیمانی سطح پر بھر پور کوشیں کر رہی اور عمران خان کے دلیرانہ اور مدبرانہ پالیسی سے بین الاقوامی سطح پر مسل? کشمیر دوبارہ اجاگر ہوا۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر بھی پارلیمانی سطح پر کوششوں کا نتیجہ تھی۔ ہم کشمیر کے لئے ہر حد تک جائیں گے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پوری دنیا کا امن خطرے میں ہے۔ ایک ایٹمی جنگ سے دنیا بھر کا مواصلاتی نظام اور درجہ حرارت خراب ہو جائے گا۔ پوری دنیا میں تین سے پانچ ڈگری درجہ حرارت کم ہو جائے گاجس کی وجہ سے کڑوروں انسان حلاق اور اقتصادی نظام منجمد ہو جائے گا۔ اس لئے دنیا کو سمجھنا ہو گا کہ مسئلہ کشمیر حل نہ ہوا تو ساری دنیا اس کے اثرات سے نہیں بچ نہیں پائے گی اس موقع پر سابق ائر چیف سہیل امان نے کہا کہ پاکستان کی فضائی حدود ناقابلِ تسخیر ہیں جس کا عملی مظاہرہ دنیا نے 27فروری کو دیکھ لیا۔ انہوں نے کہا کہ 5منٹ سے کم وقت میں بھارت اور اسرائیل کو صفحہ حستی سے مٹا دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل ہارون اسلم جو کہ نے کہ پاکستان کی بری فوج دنیا کی نمبر ون فوجوں میں شمار ہوتی ہے۔ ہم بھارت کی عددی برتری برابر نہ ہونے کے باوجود برتری رکھتے ہیں۔ اور ہماری فوج کا مورال اور تیاری برتر ہے۔ ہمارے پاس اسلحہ بھی بھارتی فوج بہت زیادہ جدید ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ چین نے ہمیشہ کشمیر مسئلے پر پاکستان کے موقف کی بھر پور حمایت کی اور پاکستان اور چین مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ایک پیج پر ہیں۔